BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال

لاہور میں وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی
لاہور میں وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی
صدارتی انتخاب کے موقع پر پاکستان بھر میں وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالے ہیں تاہم اپوزیشن اتحاد’آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کی جانب سے ملک گیر ہڑتال پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اور صوبہ بلوچستان کے علاوہ پشاور اور کراچی کے چند علاقوں میں دکانیں بند رہی ہیں تاہم ملک کے بیشتر شہروں میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہا۔

بلوچستان
صدارتی پولنگ کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال دیکھنے میں آئی ہے۔

کوئٹہ میں تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز، گلی محلے کی دوکانیں حتی کہ میڈیکل سٹورز بھی بند ہیں۔ ٹریفک کا زور بھی سڑکوں پر کم دیکھنے میں آ رہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے سکول سے چھٹی کے وقت طالب علموں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں، پشین، خوزدار، قلات اور سبی میں بھی ہڑتال ہوئی ہے۔

پنجاب
صدارتی انتخاب کے سلسلے میں پولنگ کے روز پنجاب کے بڑے شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں۔ وکلاء اور حزب اختلاف کی جانب سے یوم سیاہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے باوجود، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں تمام بڑے تجارتی مراکز میں بیشتر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔

صدارتی انتخاب کےموقع پر لاہور میں وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی اور مال روڈ پر دھرنا دیا ہے۔ ضلعی بار کونسل کے اجلاس کے بعد وکلاء ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام اس احتجاج میں بڑی تعداد میں وکلاء شریک ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ضلعی حکومت نے صدارتی انتخاب کے موقع پر وکلاء کے احتجاج کو غیر مؤثر بنانے کے لیے عدالتوں میں چھٹی کا اعلان کر رکھا ہے۔

وکلا نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے کچہری چوک تک احتجاجی جلوس بھی نکالا۔

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے تحت صدارتی انتخاب کے موقع پر یومِ سیاہ مناتے ہوئے راولپنڈی کے وکلاء نے بار کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا اور مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر بار کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ وکلا نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے کچہری چوک تک احتجاجی جلوس بھی نکالا۔

فیصل آباد میں وکلاء نے کچہری چوک سے لے کر گھنٹہ گھر تک جلوس نکالا۔ مظاہرین نے اس موقع پر نعرے بازی کی اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے چنیوٹ بازار سے جلوس نکالا جو مختلف بازاروں سے گزرا۔ جلوس نے راستے میں ایک کھلی دکان کے اندر کریکر پھینکا جس کے بعد کارکنوں اور تاجروں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا جو پولیس کی مداخلت کے بعد ختم ہوا۔ جلوس کے مظاہرین نے نے کئی جگہوں نے آتش بازی کے گولے بھی پھاڑے جس کے بعد دکانیں بند ہوگئیں تاہم جلوس گزرنے کے بعد وہ دوبارہ کھل گئیں۔ مسلم لیگ نواز کے جلوس میں’مشرف کا جو یار ہے غدار ہے‘ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی گئی۔

کراچی کے کچھ علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے زیر انتظام احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے جس میں وکلاء نے بھی شرکت کی۔ جلوس ڈسرکٹ کورٹس سے شروع ہوا اور کچہری چوک سے ہوتا ہوا شہر کا ایک چھوٹا سا چکر لگا کر ڈسٹرکٹ کورٹس پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اس جلوس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جو’ڈیل ویل نا منظور‘ اور’صدارتی الیکشن نامنظور‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔

سندھ
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر کراچی شہر کے کئی علاقوں میں کاروبار زندگی معطل رہا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کم رہی۔ شہر کے مضافاتی علاقوں ملیر، گڈاپ اور کیماڑی سمیت سہراب گوٹھ، لانڈھی، بنارس اور گلشن اقبال کے کچھ علاقوں میں کاروبار بند ہے۔

شہر میں پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔ سہراب گوٹھ، لانڈھی اور ناظم آباد میں پولیس اور مشتعل افراد میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں پتھراؤ کیا گیا۔ناظم آباد میں مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس میں عوامی نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ سینٹرل کا صدر نیاز خان گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ اے این پی کے ترجمان اقبال بونیری کا کہنا ہے کہ ان کے پچاس سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔

مظاہروں میں صدر پرویز مشرف کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔

کراچی بار ایسو سی ایشن کی جانب سے احاطے کے اندر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں صدر پرویز مشرف کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کی طرف آنے والی سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں اور سڑکوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔

لاڑکانہ اور حیدرآباد ڈویژن کے اکثر شہروں میں اے پی ڈی ایم کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ان شہروں میں وکلا نے بائیکاٹ بھی کیا ہے۔ سندھی زبان بولنے والے علاقے قاسم آباد میں مکمل جبکہ بدین میں جزوی ہڑتال ہے جہاں پر وکلاء نے مختلف جگہوں سے چھوٹی ریلیاں بھی نکالی ہیں۔

سرحد
پشاور کے مختلف علاقوں میں زیادہ تر دکانیں بند رہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اے پی ڈی ایم نے کیمپ لگائے جہاں اے این پی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے کارکن موجود رہے۔

سرحد اسمبلی میں پولنگ کے دوران وکلاء نے اسمبلی کے باہر پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو آگ لگا دی۔ وکلاء نے صدارتی انتخاب کے موقع پر سرحد اسمبلی کے گھیراؤ کی دھمکی دے رکھی تھی۔ وکلاء ہائی کورٹ سے ایک جلوس کی شکل میں سرحد اسمبلی کی طرف آئے اور انہوں نے اسمبلی کی عمارت پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس سے اسمبلی کی عمارت کے چند شیشے ٹوٹ گئے۔ اس موقع پر پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

اسلام آباد
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس وقت بدمزگی ہوئی جب جنرل مشرف کے حمایتی کارکنوں کا ایک جلوس ان کے حق میں نعرے لگاتا ہوا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچا۔ وہاں موجود ملکی و غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہوگئی تب اچانک جنرل مشرف کے حمایتی جلوس میں ہجوم کی نظر ایک پلے کارڈ پر پڑی جس پر ’گو مشرف گو‘ تحریر تھا۔ صدر مشرف کے حمایتیوں نے ہیومن رایٹس کمیشن کی جانب سے لکھ گئے اس پلے کارڈ کو اٹھانے والے شخص کی خوب پٹائی کی۔ قریب کھڑے پولیس والوں نے اس ہنگامہ آرائی میں مداخلت تو نہ کی کیونکہ بقول ان کے یہی لوگ صبح جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے پائے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد