صدارتی الیکشن پولنگ، فیصلہ بعد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدراتی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے جس میں سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان حصہ لے رہے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان اسلام آباد جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ صوبائی دارالحکومت میں خفیہ بیلٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی یہ کہہ کر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا کہ صدر مشرف وردی میں انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے وہ اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن جمہوری عمل کا حصہ ہے اور جمہوریت اور وردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ پہلا ووٹ سینیٹر عبدالغفار قریشی نے ڈالا۔ ریٹرننگ آفیسر چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے ارکان کو بتایا ہے کہ پہلے سینیٹرز اور بعد میں ارکانِ قومی اسمبلی ووٹ ڈالیں گے۔
ایم ایم اے کے منحرف ارکن قومی اسمبلی قاری گُل رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے ایم این اے شہاب الدین اور کفیلہ قتل کیس میں گرفتار سابق وزیر مملکت شاہد جمیل بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ شہاب الدین نے کل ہی اے این پی کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پولنگ پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس بجے سے لیکر سہ پہر تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق ریٹرنگ آفیسر جبکہ چاروں صوبائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پریذائیڈنگ آفیسر کے فرائض سر انجام دینگے۔ تاہم نتائج کا باقاعدہ نوٹیفیکشن سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جنرل مشرف کی صدارتی امیدوار بننے کی اہلیت کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت سترہ اکتوبر سے شروع کرے گی۔ جنرل مشرف نے اعلان کر رکھا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ دینگے۔ اس حوالے سے انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اپنا جانشین بھی مقرر کر دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف چھ صدور ایسے ہیں جو باقاعدہ منتخب ہو کر اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ ان میں جنرل سکندر مرزا، جنرل ایوب خان، چوہدری فضل الہٰی، غلام اسحاق خان، فاروق احمد لغاری اور جسٹس (ر) رفیق تارڑ شامل ہیں جبکہ دو صدور جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف متنازعہ ریفرنڈمز کے ذریعے صدر منتخب ہوئے۔ سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کے صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں دستبردار ہونے کے بعد میدان میں چار امیدوار رہ گئے ہیں۔ جن میں جنرل مشرف کے علاوہ وکلاء کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد، پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور فریال تالپور ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی کامیابی تو بظاہر یقینی دکھائی دیتی ہے اور ان کے مخالف امیدواروں کے انتخابی میدان میں آنے کی وجہ جیتنے سے زیادہ جنرل مشرف کو قانونی میدان میں سخت چیلنج پیش کرنا ہے۔
جنرل مشرف دوبارہ انتخاب کے لیے اب تک کئی سیاسی اور قانونی چیلنج عبور کرنے کے بعد مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ میں ان کے کاغدات نامزدگی کے خلاف زیر سماعت آئینی درخواستوں کو ان کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار خیال کیا جا رہا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سو چونسٹھ اراکان قومی و صوبائی اسمبلی نے دو اکتوبر کو احتجاجاً استعفے دے دیے تھے جبکہ صوبہ سرحد میں مزید چھتیس اراکان صوبائی اسمبلی پانچ اکتوبر کو مستعفی ہوگئے تھے۔ ان استعفوں کا مقصد حزب اختلاف کے مطابق جنرل مشرف کے وردی میں دوبارہ صدر منتخب کے خلاف احتجاج کرنا ہے جبکہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ گیارہ سو سے زائد اراکان پر مشتمل الیکٹورل کالج میں سے سو دو سو کے استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیشہ کی طرح حزب اختلاف آپس میں اتحاد دکھانے کی بجائے پھر بری طرح بٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی تو آغاز سے الگ روش اختیار کیے ہوئے تھی، اے پی ڈی ایم بھی اب شدید اختلافات کا شکار ہوچکی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) نے اے پی ڈی ایم جیسے نئے اتحاد سے تو اپنا تعلق معطل کر دیا ہے جبکہ ایم ایم اے جیسے پرانے اتحاد میں بھی وہ اور جماعت اسلامی ایک دوسرے پر کڑی تنقید کرتے سنائی دے رہے ہیں۔وکلاء تنظیموں نے صدارتی انتخاب کے روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ اے پی ڈی ایم نے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||