BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی لارجر بینچ صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے
صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ صدارت ایک سیاسی عہدہ ہے اور کوئی بھی آرمی افسر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔

صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی لارجر بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمنٹ سیاسی ادارہ ہے اور ہرحال میں اس کا سربراہ بھی سیاسی ہو گا۔

اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر کی سیاسی سرگرمیاں بڑی محدود تھیں اور اس سلسلے میں جو بھی ابہام تھا وہ آٹھویں ترمیم کے ذریعے دور کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلائل کے دوران سترہویں ترمیم کا ذکر نہیں کیا جا رہا، کیونکہ اگر اس کا ذکر آئے گا تو پھر پارلیمنٹ کے کردار کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جب صدر مشرف نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا تو اس وقت بھی وہ وردی میں تھے لیکن اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے تحت صدر کی فوجی وردی کو صدر پندرہ نومبر تک تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی افسر نہ تو کسی جلوس میں شرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی الیکشن سے متعلقہ مواد تقسیم کر سکتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ عام سرکاری ملازمین سے نوکری شروع کرتے وقت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے سے متعلق کوئی حلف نہیں لیا جاتا لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی طرح کی سیاسی موضوعات پر پبلک مقامات پر بحث نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف فوجی افسر سے تو فوج کی ملازمت شروع کرنے کے موقع پر حلف لیا جاتا ہے اسے سیاست میں حصہ لینے کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر کو اپنے انتخاب کے لیے ووٹ مانگنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن انیس سو اٹھاسی میں سابق صدر غلام اسحاق خان اور نوابزادہ نصراللہ خان کے درمیان مقابلہ ہوا، سن انیس سو ترانوے میں سابق صدر فاروق احمد لغاری اور وسیم سجاد مدِ مقابل تھے جبکہ سن انیس سو اٹھانوے میں سابق صدر رفیق تارڑ کا مقابلہ آفتاب شعبان میرانی نے کیا۔

انہوں نے کہا یہ تمام کے تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف وردی میں ووٹ مانگتے ہیں تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صدر کا تعلق چاہے کسی سیاسی جماعت سے ہو یا نہ ہو لیکن اُس کو سیاسی فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور صدر کو فیصلے کرنے میں حکومت سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سیاسی ادارہ ہے اور صدر اس کا سربراہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا یہ تمام کے تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف وردی میں ووٹ مانگتے ہیں ہیں تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے ابھی تک دلائل مکمل نہیں کیے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا عدالت اس اضطراب سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان آئینی درخواستوں پر فیصلہ آئیندہ ہفتے کے آخر تک آجائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ایک سو اکتیس کے تحت وہ شخص بھی سزا کا مستحق ہے جو ایک فوجی افسر کو ان سرگرمیوں میں حصہ لینے پر اُکساتا ہے جو اس کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار نامزد کرنے والے تجویز کندہ اور تائید کندہ بھی سزا کے مستحق ہیں۔ جس پر بینچ میں شامل جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ اس طرح تو جن لوگوں نے جنرل مشرف کو ووٹ دیئے ہیں اُن کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہے۔ اعتزاض احسن نے کہا کہ وہ بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت فوج وفاقی حکومت کے تابع ہوتی ہے جبکہ صدر وفاقی حکومت کے تابع نہیں ہوتا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے صرف اُس وقت آنا چاہیے جب اُسے طلب کیا جائے نہ کہ رضاکارانہ طور پر۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ فوج کو بھی از خود نوٹس کا اختیار ہونا چاہیے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا یہ اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے اور فوج ایک ماتحت ادارہ ہے۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے عدالت میں اس تحریری بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ یونیفارم اُتار دیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ان کے انتخابات کو قانونی قرار نہیں دیں گے تو وہ وردی نہیں اُتاریں گے۔

انہوں نے اٹارنی جنرل ملک قیوم کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے صدر کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ بطور آرمی چیف اپنی ذمہ داریاں نھباتے رہیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دے دے تو پرویز مشرف فوج میں آرمی چیف تو کیا لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائص نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم صدر کو ایک خاص مدت تک تحفظ فراہم کرتی ہے ایک آرمی چیف کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم پرویز مشرف کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ آئندہ مدت کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کروائیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سترہویں ترمیم سمجھوتوں کا پلندہ ہے جس سے آئین میں تبدیلی کی گئی اور پارلیمنٹ نے اس کی تائید کی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی اس ترمیم کے خلاف تقریریں کی تھیں ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
صدارتی انتخاب اخبارات میں
07 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد