صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سپریم کورٹ کےگیارہ رکنی بنچ نے ان آئینی درخواستوں کی سماعت شروع کر دی ہے جن میں یہ سوال اٹھائےگئے ہیں کہ آیا پرویز مشرف فوجی عہدے کے ساتھ صدارت کے عہدے کے اہل ہیں اور موجودہ اسمبلیاں انہیں دوبارہ صدر منتخب کرنے کی مجاز ہیں یا نہیں۔ یہ اعتراضی درخواستیں صدارت کے لیے پرویز مشرف کے حریف امیدواروں نے صدارتی الیکشن سے پہلے دائر کی تھیں اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے پانچ اکتوبر کو فیصلہ دیا تھا کہ صدارتی الیکشن کو نہ روکا جائے لیکن الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ جیتنے والے امیدوار کا باضابطہ نوٹیفیکیشن ملتوی رکھا جائے۔ اب ان درخواستوں کے فیصلے پر چھ اکتوبر کے الیکشن کے نتیجے کا انحصار ہوگا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائےگا۔ پانچ اکتوبر کو عدالت نےاٹارنی جنرل ملک محمد قیوم، صدر مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اور وفاق کے وکیل وسیم سجاد کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا تھا کہ صدر کو انتخابات میں حصہ تو لینے دیا جائے لیکن کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار کا اعلان نہ کیا جائے۔ اس دن جب سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابات کا پندرہ نومبر سے پہلے ہونا لازمی ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا تھا کہ اگر ہم آئینی ضرورت کے مطابق پندرہ اکتوبر سے پہلے الیکشن کے انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے پولنگ کو10 یا 13 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا حکم دیں تو کیا یہ غیر آئینی ہوگا۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس سے الیکشن شیڈول متاثر ہوگا۔ اس موقع پر جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کرتا ہے، کیا اس کی بجائے عدالت الیکشن شیڈول کا اعلان کر سکتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ہی ریٹرننگ افسر کی حیثیت سے صدارتی الیکشن کے شیڈول کے اعلان کا مجاز ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا تھا کہ اگر کسی امیدوار کا انتقال ہو جائے تو پولنگ رک جاتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی دفعہ اکتالیس (سات) کے تحت صدر 15 نومبر تک دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے یہ عہدنامہ جمع کرا چکے ہیں کہ وہ صدر منتخب ہونے پر فوجی وردی اتار دیں گے۔ |
اسی بارے میں عدالت عظمیٰ کا نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا03 October, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘24 September, 2007 | پاکستان ’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘26 September, 2007 | پاکستان حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس28 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ اخبارات کی شہ سرخیوں میں29 September, 2007 | پاکستان صحافیوں پر تشدد کا ازخود نوٹس30 September, 2007 | پاکستان بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد!30 September, 2007 | پاکستان آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||