’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ مارشل لاء کو دفن کرنا اتنا آسان نہیں ہے اور ’یہ ہمارا پیچھا کرتا ہے‘۔ یہ ریمارکس انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔ صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت اپنے فرائص نبھائے تو ملک میں مارشل لاء کبھی نہیں آئے گا۔ انہوں نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ جس طرح عدالت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے کیس میں فیصلہ دیا تھا اور اگر سپریم کورٹ ان درخواستوں پر ویسا ہی فیصلہ دے تو کوئی ان کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا۔ اعتزاز احسن نے کہا ’اگر عدالت ان درخواستوں کے حق میں فیصلہ دے گی تو یہ کوئی روس نہیں ہے کہ ٹینک عدالت کے باہر کھڑے ہوجائیں گے۔‘ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ دنیا کے زیادہ تر اسلامی ممالک میں بادشاہت ہے یا پھر ملٹری ڈکٹیٹر حکمرانی کر رہے ہیں، جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان اسلامی ملک ضرور ہے لیکن یہ کوئی مراکش، شام ، سعودی عرب یا مشرق وسطیٰ کا کوئی ملک نہیں ہے اور پاکستانی جمہوریت پسند کرتے ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ آئین اور عوام کی خواہشات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عوامی خواہشات کو آئین کے تابع ہونا پڑے گا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ نظریۂ ضرورت دفن ہوچکا ہے لیکن وہ بدقسمتی سے زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان آئینی درخواستوں پر جو فیصلہ آئے گا اس سے معلوم ہوگا کہ نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا گیا ہے یا وہ زندہ ہے۔ جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ مردے کو دفن کر دیا ہے لیکن روح ہمارے اختیار میں نہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین میں مسلح افواج کے لیے ایک علیحدہ باب رکھا گیا ہے، جس میں فوج کی مداخلت کو روکنے کے لیے ایک ’فائر وال‘ بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین دنیا کاواحد تحریری آئین ہے جس میں فوجی اہلکاروں سے حلف لیا جاتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کے احکامات کی تابع ہوتی ہیں اور مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں بیرونی خطرات کا مقابلہ کرتی ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سنہ انیس سو نواسی میں جب صوبہ سندھ میں اغوا اور قتل و غارت ہو رہی تھی تو اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے صوبے میں فوجی عدالتیں قائم کرنے پر زور دیا تھا، لیکن وزیر داخلہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب اُن کی حکومت ختم کی گئی تھی تو ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی تھی کہ انہوں نے سندھ میں فوجی عدالتیں قائم نہیں ہونے دیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے وردی میں رہتے ہوئے عہدہ صدارت کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کروائے اور انہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے جو انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اُٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کاغذات نامزدگی داخل کروانے سے پہلے وہ یونیفارم اُتار دیتے تو پھر بھی ان پر دو سال کی پابندی عائد ہوتی کیونکہ ایک سرکاری افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک کسی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ان کے دلائل ابھی جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی بینچ ان آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چوہدری اعجاز، جسٹس جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||