BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے بااختیار اور بے اختیار صدور

سابق صدر رفیق تارڑ اور جنرل پرویز مشرف
جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت ختم کر کے چیف ایگزیکٹو بنے جبکہ صدر رفیق تارڑ بیس جون سنہ دو ہزار ایک تک صدر رہے۔
پاکستان میں فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہونے والی ترامیم نے صدر مملکت کے پروقار نمائشی منصب کو ایک طاقتور اور با اختیار عہدے میں تبدیل کردیا ہے۔

انیس سو تہتر کے آئین میں صدر مملکت کا عہدہ ایک نمائشی لیکن پروقار تھا لیکن جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومتوں میں ہونے والی ترامیم نے اس رسمی اور نمائشی عہدے کو ملک کے طاقتور عہدے میں تبدیل کردیا۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کی وجہ سے انیس سو پچاسی سے انیس سو چھیانوے کوئی منتخب اسمبلی اپنی معیاد مکمل نہیں کرسکی۔

صدر جنرل ضیا الحق نے ترمیم کر کے صدر کے منصب کو طاقتور بنایا تھا جبکہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرکے اس عہدے کو دوبارہ نمائشی بنادیا تھا۔

پہلے باوردی امیدوار
 صدر مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جو وردی میں صدارتی امیدوار بنے جبکہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب ملک کےدوسرے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتائج عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔

جنرل مشرف نے جنرل ضیا الحق کے دور میں ہونے والی اس ترمیم کو دوبارہ بحال کردیا اور اس طرح صدر کا عہدہ ایک مرتبہ بااختیار منصب میں تبدیل ہوگیا۔

پاکستان میں ساٹھ برسوں میں مختلف شخصیت صدر کے منصب پر براجمان ہوئیں۔ انیس سو چھپن کے آئین کے نافذ کے بعد پاکستان میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔ نئے آئین کے بعد
سکندر مرزا پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر بن گئے۔ وہ تقریباً اڑھائی برس یعنی تئیس مارچ سنہ انیس سو چھپن سےستائیس جنوری سنہ انیس سو اٹھاون تک صدر کے عہدے پر فائز رہے ۔

سابق صدر ایوب خان
جنرل محمد ایوب خان ملک کے دوسرے صدر تھے جو گیارہ سال اس منصب پرفائز رہنے کے بعد صدارت سے الگ ہوئے۔ صدر جنرل ایوب خان نے ستائیس جنوری سنہ انیس سو اٹھاون کو صدر کا عہدہ سنبھالا۔ صدر جنرل ایوب خان کے دور میں نیا دستور بنایاگیا جس کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ صدارتی طرزِ حکومت قائم کردیا گیا۔ انیس سو چونسٹھ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل ایوب خان کا مقابلہ حزب مخالف کی جماعتوں کی امیدوار اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا تھا۔ ایوب خان منتخب ہوگئے۔

صدر جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت اقتدار سپیکر کو سپرد کرنے کی شِق پر عمل نہیں کیا اور پچیس مارچ انیس سو انہتر کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا۔ صدر جنرل یحیْ خان نے سقوط ڈھاکہ کے چار روز بعد بیس دسمبر سنہ انیس سواکہتر کو اقتدار چھوڑ دیا اور اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ملک کے چوتھے صدر بنے۔

صدر کے اختیارات
 صدر جنرل ضیا الحق نے ترمیم کر کے صدر کے منصب کو طاقتور بنایا تھا جبکہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرکے اس عہدے کو دوبارہ نمائشی بنادیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو چودہ اگست انیس سو تہتر کو ملک کا نیا آئین منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم بن گئے اور اپنی جگہ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری فضل الہیْ کو صدر منتخب کرایا۔ چودھری فضل الہیْ کے عہدے کی معیاد کے دوران اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے پانچ جولائی سنہ انیس سو ستتر کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور اسی مارشل لاء کے دوران صدر فضل الہیْ سولہ ستمبر سنہ انیس سواٹھتر کو اپنے منصب کی آئینی معیاد مکمل ہونے پر عہدے سے الگ ہوگئے۔

صدر فضل الہیْ چودھری کے منصب سے الگ ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالیا۔ ضیاء الحق ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخاب سے قبل انیس دسمبر سنہ انیس سو چوراسی کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائزہ ہوگئے۔

جنرل ضیاء الحق صدر مملکت کے عہدے پر دس سال اور گیارہ ماہ تک فائز رہے اور اپنی عہدے کے معیاد مکمل ہونے سے قبل سترہ اگست سنہ انیس کو اٹھاسی کو طیارے کی تباہی میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو آئین کے تحت قائم مقام صدر بنادیا گیا۔

فاروق لغاری نے بھی منتخب اسمبلی توڑنے کا اختیار استعمال کیا
انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد غلام اسحاق کو دسمبر اٹھاسی میں ملک کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ صدر غلام اسحاق خان نے اپنے مدمقابل معمر سیاست دان نواب زادہ نصراللہ خان کو شکست دی۔ غلام اسحاق خان نےانیس نوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کرائے اور نوازشریف وزیر اعظم بن گئے۔

غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو برطرف کر کے اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف نے مداخلت کی جس کے بعد غلام اسحاق خان اور نواز شریف اقتدار سے الگ ہوگئے۔غلام اسحاق کی جگہ اس وقت کے چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو قائم مقام صدر بنایا گیا۔

انیس سو ترانوے میں بے نظیر بھٹو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور فاروق لغاری حزب مخالف کے امیدوار وسیم سجاد کو شکست دیکر صدر منتخب ہوگئے۔
سردار فاروق لغاری نےسنہ انیس چھیانوے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کوختم کردیا اور فروری سنہ انیس ستانوے میں عام انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور انہوں نے آئین میں ترمیم کرکے صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو ایک ترمیم کے ذریعے ختم کردیا۔

اقتدار کی منتقلی
 صدر جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت اقتدار سپیکر کو سپرد کرنے کی شِق پر عمل نہیں کیا اور پچیس مارچ انیس سو اناسی کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا۔
سنہ انیس سوستانوے میں حکومت اور اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان سید سجاد علیشاہ کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں سردار فاروق لغاری دو دسمبر انیس سو ستانوے کو صدارت کے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے اور وسیم سجاد ایک بار پھر قائم مقام صدر پاکستان بن گئے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) نے سپریم کورٹ کے سابق جج اور سینیٹر رفیق تارڑ کو صدر کے منصب کے لیے نامزد کیا لیکن چیف الیکشن کمشنر جسٹس مختار جونیجو نے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی ان کے عدلیہ کے بارے میں ’توہین آمیز بیان‘ دینے پر مسترد کردیئے جس سے رفیق تارڑ نااہل ہوگئے۔

رفیق تارڑ نےاس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس پر موجودہ اٹارنی جنرل اور اس وقت کے ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم کی سربراہی میں قائم ایک بنچ نے رفیق تارڑ کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی اور نتائج کو عدالتی فیصلے کے ساتھ مشروط قرار دیدیا

رفیق تارڑ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے رہنما آفتاب شعبان میرانی کے ساتھ ہوا تاہم رفیق تارڑ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔

بارہ اکتوبر ننانوے کو جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے بعدچیف ایگزیکٹو بن گئے جبکہ صدر رفیق تارڑ بیس جون سنہ دو ہزار ایک تک صدر مملکت رہے۔ جنرل مشرف نے بھارت یاترا سے قبل بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو خود صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

صدر جنرل مشرف تیس اپریل سنہ دوہزار دو کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر بن گئے اور دسمبر سنہ دو ہزار تین میں سترہویں ترمیم کی منظور کے بعد موجودہ اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

صدر مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جو وردی میں صدارتی امیدوار بنے جبکہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب ملک کےدوسرے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتائج عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔

اسی بارے میں
جنرل مشرف کی جیت
30 August, 2005 | پاکستان
ایک سیاسی انجینئر کی یاد میں
27 September, 2007 | پاکستان
بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد