پاکستان کے بااختیار اور بے اختیار صدور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہونے والی ترامیم نے صدر مملکت کے پروقار نمائشی منصب کو ایک طاقتور اور با اختیار عہدے میں تبدیل کردیا ہے۔ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر مملکت کا عہدہ ایک نمائشی لیکن پروقار تھا لیکن جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومتوں میں ہونے والی ترامیم نے اس رسمی اور نمائشی عہدے کو ملک کے طاقتور عہدے میں تبدیل کردیا۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کی وجہ سے انیس سو پچاسی سے انیس سو چھیانوے کوئی منتخب اسمبلی اپنی معیاد مکمل نہیں کرسکی۔ صدر جنرل ضیا الحق نے ترمیم کر کے صدر کے منصب کو طاقتور بنایا تھا جبکہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرکے اس عہدے کو دوبارہ نمائشی بنادیا تھا۔
جنرل مشرف نے جنرل ضیا الحق کے دور میں ہونے والی اس ترمیم کو دوبارہ بحال کردیا اور اس طرح صدر کا عہدہ ایک مرتبہ بااختیار منصب میں تبدیل ہوگیا۔ پاکستان میں ساٹھ برسوں میں مختلف شخصیت صدر کے منصب پر براجمان ہوئیں۔ انیس سو چھپن کے آئین کے نافذ کے بعد پاکستان میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔ نئے آئین کے بعد
صدر جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت اقتدار سپیکر کو سپرد کرنے کی شِق پر عمل نہیں کیا اور پچیس مارچ انیس سو انہتر کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا۔ صدر جنرل یحیْ خان نے سقوط ڈھاکہ کے چار روز بعد بیس دسمبر سنہ انیس سواکہتر کو اقتدار چھوڑ دیا اور اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ملک کے چوتھے صدر بنے۔
صدر فضل الہیْ چودھری کے منصب سے الگ ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالیا۔ ضیاء الحق ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخاب سے قبل انیس دسمبر سنہ انیس سو چوراسی کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائزہ ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق صدر مملکت کے عہدے پر دس سال اور گیارہ ماہ تک فائز رہے اور اپنی عہدے کے معیاد مکمل ہونے سے قبل سترہ اگست سنہ انیس کو اٹھاسی کو طیارے کی تباہی میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو آئین کے تحت قائم مقام صدر بنادیا گیا۔
غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو برطرف کر کے اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف نے مداخلت کی جس کے بعد غلام اسحاق خان اور نواز شریف اقتدار سے الگ ہوگئے۔غلام اسحاق کی جگہ اس وقت کے چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو قائم مقام صدر بنایا گیا۔ انیس سو ترانوے میں بے نظیر بھٹو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور فاروق لغاری حزب مخالف کے امیدوار وسیم سجاد کو شکست دیکر صدر منتخب ہوگئے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) نے سپریم کورٹ کے سابق جج اور سینیٹر رفیق تارڑ کو صدر کے منصب کے لیے نامزد کیا لیکن چیف الیکشن کمشنر جسٹس مختار جونیجو نے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی ان کے عدلیہ کے بارے میں ’توہین آمیز بیان‘ دینے پر مسترد کردیئے جس سے رفیق تارڑ نااہل ہوگئے۔ رفیق تارڑ نےاس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس پر موجودہ اٹارنی جنرل اور اس وقت کے ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم کی سربراہی میں قائم ایک بنچ نے رفیق تارڑ کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی اور نتائج کو عدالتی فیصلے کے ساتھ مشروط قرار دیدیا رفیق تارڑ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے رہنما آفتاب شعبان میرانی کے ساتھ ہوا تاہم رفیق تارڑ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔ بارہ اکتوبر ننانوے کو جنرل پرویز مشرف نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے بعدچیف ایگزیکٹو بن گئے جبکہ صدر رفیق تارڑ بیس جون سنہ دو ہزار ایک تک صدر مملکت رہے۔ جنرل مشرف نے بھارت یاترا سے قبل بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو خود صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ صدر جنرل مشرف تیس اپریل سنہ دوہزار دو کو ریفرنڈم کے ذریعے دوبارہ صدر بن گئے اور دسمبر سنہ دو ہزار تین میں سترہویں ترمیم کی منظور کے بعد موجودہ اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ صدر مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جو وردی میں صدارتی امیدوار بنے جبکہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب ملک کےدوسرے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتائج عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔ | اسی بارے میں جنرل مشرف کی جیت30 August, 2005 | پاکستان مشرف حکومت پر بدعنوانی کا الزام19 October, 2003 | پاکستان پاکستان چودہ، انڈیا کے پچیس02 October, 2007 | پاکستان ایک سیاسی انجینئر کی یاد میں27 September, 2007 | پاکستان بارہویں وزیر اعظم بھی گئے26 June, 2004 | پاکستان انتخاب وقت پر، نتائج بعد میں05 October, 2007 | پاکستان بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک14 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب وقت پر مگر نتائج کا اعلان فیصلے کے بعد05 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||