BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سیاسی انجینئر کی یاد میں

نوابزادہ نصراللہ خان
نوابزادہ نصراللہ خان نے 27 ستمبر دو ہزار تین میں وفات پائی
اسلام آباد میں جمعرات کی صبح جب جنرل پرویز مشرف کے حامی، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رہے تھے تو شاید ان میں سے کسی کو بھی یاد نہ ہو کہ اسی دن اس شخص کی بھی چوتھی برسی ہے جس نے انیس برس پہلے اسٹیبلشمنٹ کے سمبل غلام اسحاق خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑا اور جمہوریت کی انہی دعویدار جماعتوں کے ہاتھوں شکست کھائی جنہیں آمریت کے خلاف جدوجہد کے لیے یکجا کرتے کرتے اس شخص نے زندگی کھپا دی۔

نوابزادہ نصراللہ خان نامی یہ شخص کوئی انقلابی آدمی نہیں تھا بلکہ اپنے دور کے روایتی، رجعت پسند ایچیسن کالج کے فارغ التحصیل، مسلم جاگیردارانہ، مصالحت آمیز، پاکستان مخالف احراری خمیر کا ایک نادر نمونہ تھا۔ جس کا خیال تھا کہ برصغیر کی گنگا جمنی اکائی توڑ کر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کے طور پر مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنانے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے نوابزادہ نے انیس سو چھیالیس میں مجلسِ احرار کے ٹکٹ پر مسلم لیگ کے خلاف انتخاب لڑا مگر ناکام ہوئے۔

لیکن جب پاکستان بن گیا تو نوابزادہ نے بِلا ہٹ دھرمی نئی حقیقت کو تسلیم کرلیا اور مسلم لیگ کے کارکن کے طور پر سیاسی کام جاری رکھا۔ اسی جماعت کے ٹکٹ پر وہ انیس سو باون میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیکن مسلم لیگ کے ساتھ بہت دور تک نہ چل سکے اور حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ سن باسٹھ میں ایوب خان کے آئین کے تحت بننے والی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن دو برس بعد جب ایوب خان اور فاطمہ جناح کا صدارتی مقابلہ ہوا تو نوابزادہ نے اپنا وزن فاطمہ جناح کے پلڑے میں ڈال دیا۔

اس دوران انہوں نے بنگالی سیاستدان نورالامین کے ساتھ مل کر پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی) کی بنیاد رکھی۔ لیکن لوگ پی ڈی پی سے زیادہ نوابزادہ کی ترکی ٹوپی، حقے اور لاہور کے نکلسن روڈ پر واقع ایک مکان کے اس بیڈ روم کو جانتے تھے جو دراصل ایسی سیاسی لیبارٹری تھی جس میں نوابزادہ تا دمِ مرگ اتحاد سازی کے تجربات کرتے رہے۔

سیاسی لیبارٹری
 لوگ پی ڈی پی سے زیادہ نوابزادہ کی ترکی ٹوپی، حقے اور لاہور کے نکلسن روڈ پر واقع ایک مکان کے اس بیڈ روم کو جانتے تھے جو دراصل ایسی سیاسی لیبارٹری تھی جس میں نوابزادہ تا دمِ مرگ اتحاد سازی کے تجربات کرتے رہے

سیاست میں اتحاد ہمیشہ بنتے آئے ہیں اور بنتے رہیں گے مگر نوابزادہ نصراللہ خان کی خوبی یہ تھی کہ وہ مختلف الخیال جماعتوں کو ہم خیال اتحاد میں پرونے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ نوابزادہ کچھ اس طرح کی پولٹیکل انجنیرنگ کرتے تھے کہ سانپ اور نیولے، شیر اور بکری اور گدھے اور گھوڑے کو ایک پلیٹ فارم پر نہ صرف کامیابی سے اکھٹا کر دیتے تھے بلکہ ان سے موثر کام بھی نکلوا لیتے تھے۔

چاہے وہ انیس سو اڑسٹھ میں ایوبی آمریت کے خلاف ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی کی تشکیل ہو یا انیس سو ستتر میں بھٹو کے خلاف نو سیکولر اور مذہبی جماعتوں کو یکجا کرنے کا کارنامہ یا انیس سو اکیاسی میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام سمیت تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کی پیدائش یا نواز شریف کے خلاف انیس سو چھیانوے میں گرینڈ نیشنل الائنس کا بننا یا پرویز مشرف کے خلاف نواز شریف اور بے نظیر کو ساتھ بٹھا کر اے آر ڈی بنانی ہو یا مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل اور اے آر ڈی کو کل جماعتی کانفرنس میں بٹھانے کی کوشش۔ اس سب کے پیچھے نوابزادہ کی کارفرمائی دکھائی دے گی۔

نوابزادہ کی سیاسی انجینیئرنگ سے کئی لوگ چِڑ بھی جاتے تھے اور اس طرح کی پھبتیاں بھی کسی جاتی تھیں کہ:

نوابزادہ نصراللہ کا مطلب کیا
اتحاد، تحریک اور مارشل لاء

نوابزادہ نصراللہ خان ، قاضی حسین احمد
پاکستان کا ہر رہنما ان کی بات بغور سن لیتا تھا اور ان کی طرف سے بھیجے گئے آم قبول کرنے سے کبھی انکار نہ کرتا تھا

لیکن نوابزادہ کی پارہ صفت شخصیت کا جو بھی جمہوری فلسفہ تھا وہ کینہ پروری سے پاک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دور میں نوابزادہ نے بھٹو، مجیب اور حزبِ اختلاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایوبی آمریت کا ناطقہ بند کیا تو اس کے بعد بھٹو کی شخصی آمریت کے خلاف بھی تحریک کو منظم کیا۔ بھٹو کے زوال کے بعد جب نوابزادہ نے ضیاالحق کی فوجی حکومت کی حمایت کی تو کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے اپنی اس غلطی کا یوں ازالہ کیا کہ ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے انیس سو تراسی کی تحریکِ بحالی جمہوریت میں حصہ لیا اور ایک لمبی نظر بندی جھیلی۔ جب انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی ایم آر ڈی سے نکل گئی اور اس نے اسٹیبلشمنٹ کے سمبل غلام اسحاق خان کو دوسری مرتبہ صدر بننے کے لیے کاندھا پیش کیا تو نوابزادہ نے غلام اسحاق خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا۔ پھر اسی پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں نوابزادہ کا دل صاف ہوگیا اور وہ پارلینمٹ کی کشمیر کمیٹی میں فعال ہوگئے۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں نوابزادہ نے سویلین آمریت کے خلاف حزبِ اختلاف کو ایک اتحاد میں یکجا کیا لیکن پرویز مشرف کے خلاف نواز شریف کو پیپلز پارٹی کے ہمراہ اتحاد پر بھی آمادہ کر لیا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوابزادہ سیاست کو سیاست کے طور پر برتتے تھے اور اسے ذاتی دشمنی میں نہیں ڈبوتے تھے۔ یہی وہ وصف تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کا ہر رہنما ان کی بات بغور سن لیتا تھا اور ان کی طرف سے بھیجے گئے آم قبول کرنے سے کبھی انکار نہ کرتا تھا۔

نوابزادہ آمریت کی ہر شکل کے مخالف تھے۔ مرنے سے تین ہفتے قبل انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو قانونی حیثیت دینے والی ستہرویں ترمیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آمریت کو جمہوریت میں رنگ دینے سے وہ جمہوریت نہیں بن جاتی۔ مرغا اگر نصف شب کو بانگ دینے لگے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ صبح ہوگئی ہے۔

نوابزادہنوابزادہ نصراللہ
سیاسی زندگی کی چند تصویری جھلکیاں
نوابزادہ نصراللہ خان ایک عہد کا اختتام
نوابزادہ نصراللہ کی وفات: طویل سیاسی عہد ختم۔
نوابزادو نصراللہ خاننصراللہ کی چھتری
سیاستدانوں کو ایک تحفظ فراہم کرتی تھی
اسی بارے میں
نوابزادہ نصراللہ سپرد خاک
28 September, 2003 | صفحۂ اول
لاہور کا کیا بنے گا؟
29 September, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد