| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوریت کی اجڑی حویلی میں ہوا کا شور
نوابزادہ نصراللہ پر سیمینار کرنے، ان کے نام پر ٹرسٹ کے قیام، کالم بازوں کے درمیان ان سے قربت کی دعویداری کے مقابلے، ان کے پیغام کو آگے بڑھانے، ان کی جدوجہد کو مشعل راہ بنانے اور انہیں بابائے جمہوریت، قائد جمہوریت، سالار جدوجہد جیسے بعد از مرگ خطابات سے نوازنے جیسے کاموں کے لیے صرف ایک ماہ باقی ہے کیونکہ پھر رمضان شروع ہو جائے گا اور رمضان کے اپنے تقاضے اور ثقافت اور مصروفیات ہوا کرتی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ایک متوسط زمیندار خاندان کے اس شکنی پوش غیر انقلابی حقہ کش آدمی کے پاس ایسی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی کہ اس کے کارکن ایک تانگے میں ہی پورے سما سکیں۔ انتخابی سیاست کے پیمانے سے دیکھا جائے تو وہ اپنے آبائی علاقے میں بھی کبھی کوئی مقبول امیدوار نہیں رہا، انگریزی بولنے کی کمی وہ ہمیشہ فارسی اور اردو کے اشعار سے پوری کرتا رہا۔ اس کے پاس ایسی کوئی بارعب شخصیت بھی نہیں تھی کہ تھانے دار اسے کلائی سے پکڑ کے پولیس وین میں بٹھانے سے پہلے دس بار اپنے مستقبل کے بارے میں سوچے۔ جب کسی نے چاہا نظربند کر دیا، جب چاہا چھوڑ دیا۔ اسے کوئی دشمنی کے قابل بھی نہیں سمجھتا تھا اور کوئی اس سے مستقل دوستی رکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ کسی کو یہ اعتراض تھا کہ وہ بولتا بہت ہے اور جھکی قسم کا آدمی ہے، کوئی اس بات سے نالاں رہتا تھا کہ ساتھ بیٹھنا دوبھر ہو جاتا ہے کیونکہ حقے کی گڑگڑاہٹ اور دھواں داری کبھی تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
جب چاہا کوئی بھی اس سے ناراض ہو گیا جب چاہا منانے کے لیے گھٹنے پکڑ لیے تحریکِ احرار ہو، ایوب خان کے جعلی صدارتی انتخابات، انیس سو اڑسٹھ کی آمریت کےخلاف تحریک یا انیس سو پچھتر میں جمہوری آمریت کے خلاف بننے والا متحدہ جمہوری محاذ، انیس سو ستتر کی قومی اتحاد کی تحریک ہو یا انیس سو تیراسی اور چھیاسی کی ایم۔آر۔ڈی کی جدوجہد، اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ جس جس کی بھی ایسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی ہو جائے گی وہ اسے پلٹ کر گھاس بھی نہ ڈالے گا اور جسے ایسٹیبلشمنٹ نظرانداز کر دے گی وہ دوبارہ اس کی ترکی ٹوپی کے پھندنے سے بندھ جائے گا۔ انیس سو اٹھاسی کے صدارتی انتخابات میں دائیں اور بائیں بازو کے سب جمہوریت بازوں نے اس شخص کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو پاکستان کے عہدۂِ صدارت کے لیے منتخب کروایا، اس کے باوجود جاگیردارانہ سیاسی انا سے عاری اس شخص نے ان منافقینِ سیاست کے لیے تادمِ مرگ اپنے دروازے کھلے رکھے۔ نوابزادہ کے مر جانے سے نہ تو کوئی خلا پیدا ہوا ہے اور نہ ہی کوئی قومی نقصان پہنچا ہے۔ بس اتنا ہوا ہے کہ جمہوری سیاست کی اجڑی حویلی میں اب صرف تیز ہوا کا شور باقی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||