| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کا کیا بنے گا؟
نوابزادہ نصراللہ خان کے منظرعام سے رخصت ہونے کے بعد سوال صرف یہ نہیں ہے کہ حزب مخالف کا کیا بنے گا بلکہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ لاہور کا کیا بنے گا؟ آج جبکہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ہو رہے ہیں لاہور میں ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ پہلے بھی پارلیمینٹ کے اجلاس اسلام آباد میں ہوتے تھے لیکن حکومت کی پالیسیوں کے جواب میں حزب اختلاف کا ردعمل لاہور میں نوابزادہ نصراللہ خان کے گھر سے ہی سامنے آتا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ کے انتقال سے ملک کی قومی سیاست اور حزب اختلاف پر جو اثر پڑے گا اس میں یہ بات بھی شامل ہو گی کہ اب لاہور شہر ، جو پاکستان کا سیاسی دارالحکومت کہلاتا ہے، شاید اب اپنی مرکزی حیثیت قائم نہ رکھ سکے۔ پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی لاہور کو قومی سیاست کے بڑے مرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ کراچی نئی مملکت کا دارالحکومت بنا تو سہی لیکن یہ ایک نیا شہر تھا اور مغربی پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب کا حکمران طبقہ اور نۓ ملک کی خالق جماعت مسلم لیگ کے بیشتر سرکردہ رہنما لاہور میں براجمان تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی افتخار ممدوٹ کا گھر ممدوٹ ہاؤس مسلم لیگ کی سرگرمیوں کا گہوارہ بن چکا تھا۔ قائد اعظم یہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ جب نیا ملک وجود میں آیا تو اس کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ تاہم بعد میں ممتاز دولتانہ اور ممدوٹ کی باہمی چپقلش کے نتیجہ میں مسلم لیگ کے ایک دھڑے نے ڈیوس روڈ پر دولتانہ ہاؤس میں ڈیرے جمالیے۔ ممتاز دولتانہ اور ممدوٹ کے علاوہ ملتان اور سرگودھا کے بااثر سیاستدانوں نے،جن میں ملتان کے قریشی اور سرگودھا کے نون خاندان سر فہرست تھے، بھی اپنی سیاست کا مرکز لاہور ہی کو بنایا۔ انیس سو ترپن میں جب مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو متحد کرکے ون یونٹ تشکیل دیا گیا تو لاہور ہی اس کا دارالخلافہ بنا۔ یوں انیس سو انہتر میں ون یونٹ کے ٹوٹنے تک قومی سیاست کے جوڑ توڑ لاہور میں ہوتے رہے۔
نوابزادہ نصراللہ کی سیاسی زندگی میں اہم موڑ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں آیا جب انہوں نے جنرل ایوب خان کے فوجی اقتدار کے خلاف حزب اختلاف کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ حسین شہید سہروردی کے انتقال کے بعد نصراللہ خان ایک بڑے قومی رہنما کے طور پر ابھرے۔ مغربی پاکستان کے تمام جمہوری اور صوبائی حقوق کے دعویدار قوم پرستوں نے وفاقی اور پارلیمانی جمہوری نظام کے قیام کے لیے اپنا اعتماد انھیں سونپا۔ نصراللہ خان کی نکلسن روڈ کی رہائش گاہ ، جسے انھوں نے انیس سو انہتر میں کراۓ پر لیا، جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا ءالحق، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو چیلنج کرنے کے لیے حزب اختلاف کے ہیڈ کوارٹر کا درجہ رکھتی تھی۔ نکلسن روڈ پر حزب اختلاف کی جو پالیسیاں بنتیں وہ موچی دروازہ میں عوامی جلسہ کی صورت میں اور پھر لاہور کی سڑکوں پر احتجاجی تحریک کی صورت میں اہل اقتدار کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت میں سامنے آتیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی وجہ سے ہی اے آر ڈی اور کل جماعتی کانفرنس کے زیادہ اجلاس لاہور ہی میں منعقد ہوئے۔ اب شائد ایسا نہ ہوسکے۔ اے آر ڈی کے قائم مقام صدر مخدوم امین فہیم ، جن کے مستقل ہونے کا امکان ہے، حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ وقت اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے وقت لاہور کی سیاسی سرگرمیاں تو ویسے ہی ماند پڑ جاتی ہیں۔ اب حزب مخالف کے بڑے اتحاد، اے آر ڈی، کا مرکز بھی اسلام آباد ہی بنتا دکھائی دیتا ہے۔ عملی سیاست کی ہنگامہ خیزی اور تگ و تاز جسے لاہور سے جلا ملتی ہے وفاقی دارالحکومت میں ممکن نہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی کا مرکزی مقام منصورہ لاہور میں ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے صدر شجاعت حسین کا گھر اور ڈیرہ بھی لاہور میں ہے۔ سابق صدر فاروق لغاری اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما جیسے مصطفے کھر بھی لاہور میں رہتے ہیں۔ جلاوطن سابق وزیراعظم نواز شریف کا تعلق بھی لاہور سے ہے۔ ملک کی کئی بڑی این جی اوز، دینی مدارس اور بائیں بازو کے دانشوروں کے اڈے بھی اسی شہر میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ کہ نوابزادہ نصراللہ کے چلے جانے کے بعد ان میں سے کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما لاہور میں سیاست کی وہ توانائی قائم رکھ سکے گا جو نصف صدی تک خان گڑھ کے نوابزادہ نے رکھی یا اسلام آباد قومی سیاست کا بڑا مرکز بن جائے گا اور لاہور محض ایک صوبائی دارالحکومت کے درجہ تک محدود ہوجاتا ہے۔ فی الحال تو شہر کی سیاست لگتا ہے کہ کہیں گم سی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||