| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوابزادہ نصراللہ خان انتقال کر گئے
پاکستان میں سیاست کے پیرِ کہن اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کے لئے نامور نوابزادہ نصراللہ خان جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ نوابزادہ نصراللہ خان طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ ہی دن پہلے انہیں دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ کی عمر پچاسی برس تھی۔ ان کی میت ہفتے کی علی الصبح اسلام آباد سے ان کے آبائی علاقے خان گڑھ روانہ کر دی گئی جہاں انہیں اتوار کو سپردِ خاک کیا جائے گا۔ اپنی زندگی کے سیاسی سفر کے آخری حصے میں بھی وہ حزبِ اختلاف کے رہنما تھے اور جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف مختلف جماعتوں کو متحد کرنے کے کام میں سرگرم تھے۔ ان کا آخری عہدہ اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت کی سربراہی تھا۔ نوابزادہ نصراللہ خان اپنے مخصوص اندازِ فکر اور لہجے کی شائستگی کے باعث سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ اپنے حقے اور ترکی ٹوپی کو اپنی شخصیت کی ایک پہچان بنانے والے نوابزادہ نصراللہ خان کو شاعری سے بھی بہت شغف تھا اور اکثر پریس کانفرنسوں یا عوامی جلسوں میں وہ بر محل شعر سنانے میں اپنی مثال آپ تھے۔ نوابزادہ نصراللہ خان اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ بات ان کے اطمینان کا باعث ہے کہ انہوں نے سرحدوں پر لڑنے کی بجائے سیاست میں پڑنے والے فوجی جرنیلوں کو عوامی رائے عامہ کا ہتھیار استعمال کرکے ہمیشہ شکست دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||