| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوابزادہ نصراللہ: ’ناقابلِ تلافی نقصان‘
ملک کے بزرگ ترین سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان کی وفات پر پورے ملک میں ہر طبقہ خیال کے افراد نے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور فضا سوگوار دکھائی دیتی ہے۔ ان کی میت سنیچر کی دوپہر اسلام آباد سے ان کے آبائی قصبہ خان گڑھ پہنچ گئی۔ ان کی تدفین اتوار کی صبح گیارہ بجے کی جاۓ گی۔ گو نوابزادہ نصراللہ خان نے زندگی میں ہر حکومت کے خلاف حزب مخالف کے طور پر سرگرم کردار ادا کیا لیکن جس وضع داری اور شائستگی سے سیاست کی اس کا اظہار ان دکھ بھرے بیانات سے ہوتا ہے جو ہر سیاسی جماعت کے رہنما نے ان کے انتقال پر جاری کیے ہیں۔ تعزیتی پیغامات
نصراللہ خان آخری وقت میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف سرگرم تھے۔ تاہم صدر مشرف نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا پیغام جاری کیا ہے اور ان کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوۓ دعا کی ہے کہ اللہ تعالی انھیں جوار رحمت میں جگہ دے۔ وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ نوابزادہ نصراللہ خان کی جمہوریت کے لیے جدوجہد قابل قدر ہے اور ان کی وفات سے ملک ایک تجربہ کار سیاستدان سے محروم ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے جاری کیے گۓ تعزیتی پیغام میں نوابزادہ نصراللہ کی جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کو سراہا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ نصراللہ خان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ انھوں نے مارشل لا کے خلاف ہمیشہ جدوجہد کی اور جمہوریت کے قیام کے لیے اپنے مشن کو مرتے دم تک جاری رکھا جسے پیپلز پارٹی بھی جاری رکھے گی۔
جمعیت علماۓ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یہ خبر سن کر اپنا ایران کا دورہ مختصر کردیا ہے اور وہ اتوار کو نصراللہ خان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے خان گڑھ پہنچ رہے ہیں۔ انھوں نے ایران سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نوابزادہ نصراللہ کی وفات ملک و قوم اور جمہوریت کے لیے ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں آمریت کے خلاف ان کی زندگی کے بیشتر حصہ پر مشتمل جدوجہد ملکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی وفات سے ان جیسے کئی سیاسی افراد ایک مشفق اور مربی بزرگ کی شفقت سے محروم ہوگۓ ہیں اور ملک میں جمہوریت کی اصل روح کے مطابق قیام کی جدوجہد اپنے عظیم قائد سے محروم ہوگئی ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنے تعزیتی پیغام میں نصراللہ خان کو ایک مکمل تاریخ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وفات ایک قومی سانحہ ہے اور آج صدمہ کا دن ہے۔ انھوں نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ وہ نصراللہ خان کی آئین و قانون کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا احترام کرتے ہوۓ پارلیمنٹ کی بالادستی قبول کرلیں۔ مسلم لیگ (ق) کے سابق صدر میاں اظہر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ نصراللہ خان کی وفات ملک و قوم کا ایک قومی نقصان ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا نام ایک روشن باب کی حیثیت سے رہے گا ہ وہ سراپا جمہوریت تھے اور انھوں نے جمہوریت اور جمہوری اقدار و روایات کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ میاں اظہر نے کہا کہ نصراللہ خان شرافت اور وضع داری، حب الوطنی اور اپنی عجز و انکساری میں اپنی مثال آپ تھے۔ مسلم لیگ(ق) کے موجودہ صدر شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نصراللہ خان کی وفات سےپیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔ وہ ساری زندگی جمہوریت اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے لیے ڈٹے رہے اور کبھی کسی آمر کے سامنے نہیں جھکے۔ وہ اپنی وضع کے آخری سیاستدان تھے اور اب کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو ان کی جگہ لے سکے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہبر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے، جن کی حکومت کے خلاف دو مرتبہ نصراللہ خان نے حزب مخالف کے اتحاد تشکیل دیئے، اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ نصراللہ خان اپنی وفات سے پوری قوم کو یتیم کرگۓ اور ان کے خاندان کا بچہ بچہ ان کے انتقال پر آبدیدہ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نصراللہ اصولوں کے پابند شخص اور دیانتدارانہ سیاست کی علامت تھے۔ ان کی وفات جمہوریت کی تحریک کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔ مسلم لیگ(ق) کے سینیٹر اور آئینی امور کے ماہر ایس ایم ظفر نے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں نوابزادہ نصراللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ کہا ہے کہ نصراللہ خان تاریخ ساز سیاستدان تھے اور انھیں سرکاری رتبہ دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ نصراللہ خان سیاسی اتحاد بنانے کے ہی ماہر نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی جماعتو ں میں اعتماد پیدا کرنے کے ماہر تھے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نوابزادہ نصراللہ کی وفات پر تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی وفات سے حزب مخالف کے کیمپ میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||