فل کورٹ کی تجویز ،سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ کی تشکیل کی سفارش کر دی ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس کے فیصلے تک سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ بدھ کو جب الیکشن کمیشن کی جانب سے جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی آئینی درخواست کی سماعت دوبارہ شروع کی تو جسٹس وجیہہ کے وکیل حامد خان نے عدالت سے فل کورٹ کی تشکیل کی درخواست کی۔ ان کا موقف تھا کہ موجود عدالت کے نو ججوں پر انہیں کوئی اعتراض نہیں اور وہ ان کے لیے قابل احترام ہیں لیکن عوام میں پائی جانے والی تشویش کو ختم کرنے کے لیے بہتر ہوگا کہ فل کورٹ اس مقدمے کی سماعت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بے چینی سی پائی جاتی ہے اس لیے درخواست گزاروں کی بات مان لی جائے اور ان آئینی درخواستوں کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس سردار رضا خان پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ اس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے اور اگر اُس نو رکنی بینچ میں شامل چار جج صاحبان جنہوں نے صدر کے خلاف دو عہدے رکھنے کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر اختلافی نوٹ لکھا تھا وہ بھی فل کورٹ میں نہ بیٹھیں تو باقی کورٹ کا کیا بنے گا۔ حامد خان نے کہا کہ ان ججوں کو دوبارہ منانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ فل کورٹ صرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کیس میں ہی تشکیل دیا گیا تھا کیونکہ وہ عدلیہ کا معاملہ تھا جس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آپ اسے عدلیہ کا نہیں چیف جسٹس کا معاملہ کہہ سکتے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ وہ اس بنچ میں شامل ان چار ججوں پر اعتراض کر سکتے ہیں جنہوں نے صدر کے دو عہدوں کے خلاف اختلافی نوٹ دیا تھا تو اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ پھر ان پانچ ججوں پر اعتراض کرسکتے ہیں جنہوں نے صدر کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر یہ معاملہ اس طرح چلتا رہا تو فیصلہ کیسے ہوگا۔ سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی بینچ ان آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں یہ سوال اٹھائےگئے ہیں کہ آیا پرویز مشرف فوجی عہدے کے ساتھ صدارت کے عہدے کے اہل ہیں اور موجودہ اسمبلیاں انہیں دوبارہ صدر منتخب کرنے کی مجاز ہیں یا نہیں۔ یہ درخواستیں صدارت کے لیے پرویز مشرف کے حریف امیدواروں نے صدارتی الیکشن سے پہلے دائر کی تھیں اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے پانچ اکتوبر کو فیصلہ دیا تھا کہ صدارتی الیکشن کو نہ روکا جائے لیکن الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ جیتنے والے امیدوار کا باضابطہ نوٹیفیکیشن ملتوی رکھا جائے۔اب ان درخواستوں کے فیصلے پر چھ اکتوبر کے الیکشن کے نتیجے کا انحصار ہوگا۔ در خواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد بینچ نے فل کورٹ کے فیصلے کے لیے دس منٹ کا وقفہ کیا جس کے بعد جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس سے فل کورٹ کے حوالے سے درخواست کی ہے تاہم یہ ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ فل کورٹ تشکیل دیتے ہیں یا نہیں۔ آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والا گیارہ رکنی بینچ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل ہے۔ |
اسی بارے میں صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع17 October, 2007 | پاکستان فوجی صدر: بینچ کی ازسرِنو تشکیل09 October, 2007 | پاکستان عدالت عظمیٰ کا نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا03 October, 2007 | پاکستان ’پارلیمنٹ نے بیساکھیاں دیں‘24 September, 2007 | پاکستان ’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘26 September, 2007 | پاکستان حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس28 September, 2007 | پاکستان بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد!30 September, 2007 | پاکستان آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||