فوجی صدر: بینچ کی ازسرِنو تشکیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے صدر جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر پٹیشنوں کی سماعت کے لیے قائم بینچ کی از سرِنو تشکیل کی ہے۔ صدارتی امیداروں جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشنوں کی سماعت اب ایک گیارہ رکنی بینچ کرے گا جبکہ اس سے پہلے اس کی سماعت ایک دس رکنی بینچ کے سامنے ہو رہی تھی۔ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم کی صدارتی انتخابات کے خلاف حکم امتناعی کی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے صدارتی انتخاب شیڈول کے مطابق کروانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم ریٹرننگ افسر کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ کسی امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن آئینی درخواستوں پر فیصلہ آنے تک جاری نہ کرے۔ نیا بینچ سترہ اکتوبر سے روزانہ کی بنیادی پر ان آئینی درخواستوں کی سماعت کرے گا اور اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا صدر مشرف فوجی وردی میں ہوتے ہوئے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل تھے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی جانے والے کاز لسٹ کے مطابق صدر مشرف کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے لیے بینچ میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ دس رکنی بینچ کے رکن جسٹس ناصر الملک کی جگہ جسٹس ایم جاوید بٹر کو نئے بینچ میں شامل کیاگیا ہے جبکہ بینچ میں ایک نئے رکن جسٹس چودھری اعجاز احمد کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اب یہ گیارہ رکنی بینچ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل ہو گا۔ دوسری طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے لیے ایک سات رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے جو سترہ اکتوبر سے اس کیس کی سماعت کرے گا۔ یہ بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس راجہ فیاض احمد اور جسٹس سید جمشید علی پر مشتمل ہو گا۔ یہ بینچ روزانہ ڈیڑھ بجے سماعت شروع کرے گا کیونکہ اس بینچ میں شامل پانچ جج صدر مشرف کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں غیر سرکاری نتائج، پانچ سال اور؟06 October, 2007 | پاکستان ’صدارتی انتخاب قوم کے لیے سانحہ‘06 October, 2007 | پاکستان وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان پاکستان کے بااختیار اور بے اختیار صدور06 October, 2007 | پاکستان مہنگا ترین صدارتی الیکشن06 October, 2007 | پاکستان انتخاب وقت پر، نتائج بعد میں05 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||