’صدارتی انتخاب قوم کے لیے سانحہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء برداری کے صدارتی امیدوار جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، جنرل پرویز مشرف کا پانچ سالہ کے لیے دوبارہ آنا قوم کے لیے سانحہ ہے۔ جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدارتی انتخاب جعلی تھا، اپنی معیاد پوری کرنے والی اسمبلیاں آنے والی اسمبلیوں کا استحقاق چھین کر جنرل مشرف کو مزید پانچ سال کے لیے بٹھا کر جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بہت بُری روایت بنائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صدر پارلیامینٹری صدر نہیں بلکہ آٹھویں اور سترہویں ترمیم والا صدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے آئین نے اپنے صدر کو اتنے اختیارات نہیں دیئے جتنے اس ملک کے صدر کے پاس ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین کے کہنا تھا جب عام انتخابات سے نوّے روز قبل کسی ایسے شخص کو صدر بنادیں گے تو وہ عام انتخابات میں بھی دھاندلی کریں گے اور نتیجے میں دوبارہ ربڑ سٹیمپ اسمبلیاں بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو ’اپنے ضمیر کی آواز پر ہمیں ووٹ دے سکا اس نے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہ کہ اگر خفیہ رائے دہی کا تقدس رکھا جاتا تو اس میں مسلم لیگ ق کے کئی لوگ ہوتے جو ہم کو ووٹ دیتے‘۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ہم نتائج کو بلکل قبول نہیں کرتے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس انتخاب کو ہی رد کر رہے ہیں، ’جس طرح جنرل مشرف نے وردی کو زیب تن کیا ہوا ہے وہ صدارتی انتحاب لڑہی نہیں سکتے‘ ۔ | اسی بارے میں ’سیاسی ساکھ کا سوال باعثِ پریشانی‘06 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب: ’ملک و قوم کا وسیع تر مفاد‘06 October, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ: فریقین خوش05 October, 2007 | پاکستان صدارتی الیکشن، احتجاج کا اعلان06 October, 2007 | پاکستان تالپور کی درخواست، سماعت ملتوی05 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||