BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدارتی انتخاب قوم کے لیے سانحہ‘

جسٹس(ر) وجیہہ الدین
’جس طرح جنرل مشرف نے وردی کو زیب تن کیا ہوا ہے وہ صدارتی انتحاب لڑ ہی نہیں سکتے‘
وکلاء برداری کے صدارتی امیدوار جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، جنرل پرویز مشرف کا پانچ سالہ کے لیے دوبارہ آنا قوم کے لیے سانحہ ہے۔

جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدارتی انتخاب جعلی تھا، اپنی معیاد پوری کرنے والی اسمبلیاں آنے والی اسمبلیوں کا استحقاق چھین کر جنرل مشرف کو مزید پانچ سال کے لیے بٹھا کر جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بہت بُری روایت بنائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صدر پارلیامینٹری صدر نہیں بلکہ آٹھویں اور سترہویں ترمیم والا صدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے آئین نے اپنے صدر کو اتنے اختیارات نہیں دیئے جتنے اس ملک کے صدر کے پاس ہیں۔

جسٹس وجیہہ الدین کے کہنا تھا جب عام انتخابات سے نوّے روز قبل کسی ایسے شخص کو صدر بنادیں گے تو وہ عام انتخابات میں بھی دھاندلی کریں گے اور نتیجے میں دوبارہ ربڑ سٹیمپ اسمبلیاں بنیں گی۔

انہوں نے کہا کہ جو ’اپنے ضمیر کی آواز پر ہمیں ووٹ دے سکا اس نے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہ کہ اگر خفیہ رائے دہی کا تقدس رکھا جاتا تو اس میں مسلم لیگ ق کے کئی لوگ ہوتے جو ہم کو ووٹ دیتے‘۔

جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ہم نتائج کو بلکل قبول نہیں کرتے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس انتخاب کو ہی رد کر رہے ہیں، ’جس طرح جنرل مشرف نے وردی کو زیب تن کیا ہوا ہے وہ صدارتی انتحاب لڑہی نہیں سکتے‘ ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد