انتخاب امیر بی بی سی اُردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد |  |
 | | | پیپلز پارٹی نے مثبت کردار ادا کیا ہے: شیخ رشید |
سنیچر کی صبح ہی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں حکمراں جماعت کے ارکان ایک دوسرے کو صدارتی انتخاب میں جنرل پرویز مشرف کی متوقع کامیابی پر مبارکبادیں دے رہے تھے ۔ حزبِ مخالف کی جانب سے صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کے باعث جہاں پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت گہما گہمی کا فقدان رہا وہیں ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور کیمرہ مینوں کے ہجوم نے سماں باندھ دیا ۔ ووٹ ڈال کر اسمبلی عمارت سے باہر نکلنے والے حکومتی وزیروں اور مشیروں کے ارد گرد کیمرہ مینوں اور صحافیوں کا تانتا بندھ جاتا اور پھر سوال جواب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار سے پوچھاگیا کہ وہ صدر جنرل پرویزمشرف کے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں سیاسی ساکھ کے حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال پریشانی کا باعث رہے گا۔’ یہ کوئی زیادہ اچھا آغاز نہیں ہوا گو کہ تکنیکی بنیادوں پر تو صدر کا دوبارہ اسی اسمبلی سے منتخب ہونے کی آئین میں گنجائش تھی لیکن پھر بھی یہ سوال ذہنوں کو پریشان کرتا رہے گا‘۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاہمت کے لیے جو آرڈیننس جاری کیاگیا ہے اس کے ذریعے پاکستان میں انتقامی سیاست کے خاتمے اور صاف و شفاف انتخاب کے انعقاد کو یقینی بنا کرصدر مشرف حالیہ اعتماد کے فقدان کو پُر کر سکتے ہیں۔  |  پی پی پی باقاعدہ حزبِ مخالف کا حصہ ہے اور جس حد تک وہ جا سکتے تھے وہ گئے ہیں اور انہوں نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔  شیخ رشید |
اسی بارے میں وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ اعتماد کا فقدان کوئی ایشو نہیں کیونکہ صدارتی انتخاب نہایت پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے ہیں ، اور اسمبلی کی بڑی تعداد نے انتخاب میں حصہ لیا ہے۔’اس کے علاوہ جس اسمبلی کو یہ (حزبِ مخالف) تحلیل کرنا چاہتے تھے اس میں بھی یہ کامیاب نہیں ہوئے لہٰذا ہر لحاظ سے صدر کا انتخاب اخلاقی تقاضوں کے عین مطابق ہے‘۔ گو پی پی پی نے صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کے باوجود حصہ نہیں لیا لیکن اُن کے چیدہ چیدہ رہنما بشمول ناہید خان ، نوید قمر ، صفدر عباسی اور نیاز نائیک نے قومی اسمبلی میں میڈیا کے سوالوں کا جواب دے کر اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اُن کی جماعت نے جنرل مشرف سے کوئی ڈیل کی ہے ۔ لیکن کیا پی پی پی اب بھی حزبِ مخالف کا حصہ ہے اس پر وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشیداحمد کا تبصرہ تھا کہ پیپلز پارٹی نے مثبت کردار ادا کیا ہے ’پی پی پی باقاعدہ حزبِ مخالف کا حصہ ہے اور جس حد تک وہ جا سکتے تھے وہ گئے ہیں اور انہوں نے اچھا کردار ادا کیا ہے‘۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کے باوجود انتخاب میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے کیا پی پی پی اور حکومت کے مابین کوئی سمجھوتہ ہوا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری توقعات کے عین مطابق ہے اس حوالے سے سمجھوتہ تھا یا نہیں اس کو چھوڑیں‘ جبکہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے انتخاب میں حصہ لیا ہے ۔ ’ان کا امیدوار کھڑا ہے ، پرچیوں پر ان کے امیدوار کا نام لکھا ہے اب اگر کسی امیدوار کے ووٹر نہ آئیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔ |