BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 04:58 GMT 09:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
صدر مشرف کے حامی
پاکستان میں آج صدارتی انتخاب کا دن تھا۔ یہ دن کیسے گزرا۔ کس وقت کیا ہوا اور کس نے کب کیا کہا۔ اسکی لمحہ بہ لمحہ تفصیل ہمارے رپورٹرز کی زبانی۔

پانچ بج کر بیس منٹ، احمد رضا، کراچی

جنرل پرویز مشرف کے پولنگ ایجنٹ عرفان اللہ مروت نے صحافیوں کو بتایا کہ پریزائیڈنگ آفیسر کے چیمبر میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے اورانہوں نے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عرفان اللہ مروت نے بتایا کہ پریزائیڈنگ آفیسر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنرل پرویز مشرف کو ایک سو دو ارکان نے جبکہ دو ارکان نے جسٹس(ر) وجیہہ الدین کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

تین بج کر انتالیس منٹ، اعجاز مہر، اسلام آْباد

غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی ہال میں ڈالے گئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کے کل دو سو ستاون ووٹوں میں سے دو سو باون جنرل پرویز مشرف کو، دو جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو جبکہ تین ووٹ مسترد ہو گئے ہیں۔

تین بجکر تئیس منٹ: علی سلمان، لاہور

پنجاب اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کل ڈالے گئے دو سو ستاون میں سے دو سو ترپن ووٹ جنرل مشرف کے حق میں، تین جسٹس (ر) وجیہہ ا لدین کے حق میں جبکہ ایک ووٹ مسترد کر دیا گیا ہے۔

تین بجکر انیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

سرحد اسمبلی میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور غیر سرکاری نتائج نے مطابق کُل ڈالے گئے چونتیس ووٹوں میں سے اکتیس جنرل پرویز مشرف کے حق میں ہیں جبکہ ایک رکن نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے حق میں اپنی رائے دی ہے۔ تین ووٹ مسترد کر دیے گئے ہیں۔

تین بجکر سولہ منٹ: عزیزاللہ خان، کوئٹہ

بلوچستان اسمبلی میں ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈالے گئے تمام تینتیس ووٹ جنرل پرویز مشرف کے حق میں ہیں۔

تین بجے: اعجاز مہر، اسلام آباد

الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ وقت کے مطابق اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اب سے کچھ ہی دیر میں ان ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔

تین بج کر پانچ منٹ: عبدالحئی کاکڑ، اسلام آباد

سرحد اسمبلی میں پولنگ کے خاتمے کے بعد گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ سرحد اسمبلی کے کل اٹھاسی ارکان میں سے چونتیس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے جن میں ایم ایم اے کے منحرف اراکین بھی شامل ہیں۔ مرکز میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قاضی اسد نے صدارتی انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالآ۔

دو بج کر تیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

قومی اسمبلی ہال میں اب تک دو سو ستاون ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ ان میں ایک سو ننانوے ارکان قومی اسمبلی اور اٹھاون سینیٹ کے ارکان شامل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے مذہنی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے بھی بعض ارکان نے ان کے صدارتی امیدوار، جنرل پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

دو بجکر بائیس منٹ: احمد رضا ، کراچی

سندھ اسمبلی میں وقفے کے بعد پولنگ جاری ہے جبکہ مقررہ وقت ختم ہونے سے قبل ہی پولنگ کا عمل تقریبا مکمل ہوچکا ہے اور اب تک ٹوٹل 104 ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں حکومت اور حلیف جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 103 تھی ایک ووٹ زائد ہونے کی وجہ مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے رکن اسمبلی یونس خان کو ووٹ تھا جو اب سے کچھ دیر پہلے ووٹ ڈال کر وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ واپس روانہ ہوچکے ہیں۔

جسٹس وجیہہ الدین احمد کی پولنگ ایجنٹ نور ناز آغا ایڈووکیٹ نے پریذائڈنگ آفیسر جسٹس صبیح الدین احمد کو ایک درخواست دی ہے جس میں انہوں نے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔ انہوں نے کہا ہی کہ سپریم کورٹ نے ووٹوں کی گنتی نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

نور ناز آغا کے مطابق پریذائڈنگ آفیسر نے ان کی درخواست مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کرکے وہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیں گے جو نتائج جاری کرنے کا مجاز ہے۔

دو بج کر سترہ منٹ: انتخاب امیر، اسلام آباد

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس وقت خاصی بدمزگی دیکھنے میں آئی جب جنرل مشرف کے حمایتی کارکنوں کا ایک جلوس انکے حق میں نعرے لگاتا ہوا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچا۔ ملکی و غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہو گئی تب اچانک جنرل مشرف کے حمایتی ہجوم کی نظر ایک پلے کارڈ پر پڑی جس پر ’گو مشرف گو’ تحریر تھا۔ صدر مشرف کے حمایتیوں نے ہیومن رایٹس کمیشن کی جانب سے لکھ گئے اس پلے کارڈ کو اٹھانے والے شخص کی خوب پٹائی کی۔ قریب کھڑے پولیس والوں نے اس ہنگامہ آرائی میں مداخلت نہیں کی کیونکہ بقول انکے یہی لوگ صبح جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے پائے گئے تھے۔

دو بج کر بارہ منٹ، ہارون رشید، راولپنڈی

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے تحت صدارتی انتخاب کے موقع پر یوم سیاہ مناتے ہوئے راولپنڈی کے وکلا نے بار کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا اور مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر بار کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ وکلا نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے کچہری چوک تک احتجاجی جلوس بھی نکالا۔

ایک بجکر چھپن منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

وفاقی وزیر امور کشمیر یار محمد رند کی اہلیہ رکن قومی اسمبلی عائلہ ملک، مخدوم احمد عالم انور، اور رضا حیات ہراج نے بھی صدارتی انتخاب میں اپنا ووٹ استعمال کر لیا ہے۔ عائلہ ملک جو شادی کے بعد سے پارلیمانی سیاست سے الگ تھلگ رہی ہیں، آج ایک طویل عرسے بعد اسمبلی ہال میں نظر آئیں۔

ایک بج کر چھیالیس منٹ: علی سلمان، لاہور

پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ رک گیا ہے کیونکہ ایوان میں موجود تمام ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ پولنگ کا وقت ختم نہیں ہوا لہذا تمام متعلقہ افسران تین بجنے کے انتظار میں اسمبلی ہال ہی میں بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ حزب احتلاف کی جماعتیں الیکشن میں حصہ نہیں لے رہیں اور انکے ارکان اسمبلی ہال میں نہیں آئے۔

ایک بجکر بیالیس منٹ: احمد رضا ، کراچی

سندھ اسمبلی میں کل 168اراکین میں سے ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے باقی تعداد 167 ہے۔ ایم ایم اے کے سات اراکین کے مستعفی ہوئے ہیں جن میں سے 4 استعفوں کی منظوری کا نوٹیفیکیشن آج جاری ہوگیا ہے۔ باقی کے 163 اراکین میں سے حکومت اور حلیف جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 103 ہے۔

103 اراکین میں سے ایک بج کر پندرہ منٹ تک 96 اراکین اپنے ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ووٹنگ کا عمل جاری ہے تاہم اس وقت اسمبلی میں نماز ظہر کا وقفہ ہے۔ جس کے بعد باقی 7 اراکین اپنے ووٹ ڈالیں گے۔

ایک بجکر پانچ منٹ: عزیز اللہ خان، کوئٹہ

بلوچستان اسمبلی میں پولنگ کا عمل تقریبا مکمل ہوچکا ہے تاہم صرف دو اراکین جن میں قوم پر ست جماعت کے رکن بالاج مری اورسابق وزیر مسلم لیگ بختیار ڈھومکی جو اکبر بگٹی کے نواسے بھی ہیں اسمبلی نہیں پہنچے۔

مجلس عمل سے منحرف ہونے والے دو جبکہ جمہوری وطن پارٹی سے منحرف ہونے والے چار اراکین نے اپنے ووٹ ڈال دیئے ہیں۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی کے سامنے وکلا نےجلوس نکالا ہے۔ مظاہرین نے اس موقع پر شدید نعرے بازی کی ہے۔

بارہ بج کر پچاس منٹ: علی سلمان، لاہور

صدارتی انتخاب کے سلسلے میں پولنگ کے روز پنجاب کے بڑے شہروں میں بیشتر کاروبار مراکز کھلے ہوئے ہیں۔ وکلا اور حزب اختلاف کی جانب سے یوم سیاہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کے باوجود، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں تمام بڑے تجارتی مراکز میں بیشتر دوکانیں کھلی ہوئی ہیں۔

بارہ بج کر سینتالیس منٹ: علی سلمان، لاہور

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے زیر انتظام احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے جس میں وکلا نے بھی شرکت کی۔ جلوس ڈسرکٹ کورٹس سے شروع ہوا اور کچہری چوک سے ہوتا ہوا شہر کا ایک چھوٹا سا چکر لگا کر ڈسٹرکٹ کورٹس پر پہنچ ختم ہو گیا۔ اس جلوس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کچھ اس طرح کے نعرے لگتے رہے۔ ڈیل ویل نا منظور۔ صدارتی الیکشن نا منظور۔

بارہ بجکر بیالیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

ایوان میں موجود زیادہ تر ارکانِ اسمبلی نے ووٹ کا حق استعمال کر لیا ہے۔ عائلہ ملک، رضا حیات ہراج اور مخدوم احمد عالم انور سمیت کچھ ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ ان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بارہ بجکر تیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

قومی اسمبلی میں جاری پولنگ کا عمل اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اب تک وزیر اعظم شوکت عزیز سمیت اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد اپنے ووٹ ڈال چکی ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے مصروفیات جبکہ رکن اسمبلی شیر اکبرنے خرابی صحت کا کہہ کر خصوصی اجازت کے ذریعے اپنی باری سے پہلے ووٹ ڈالا۔

اس موقع پر اے این پی کے منحرف رکن قومی اسمبلی شہاب الدین جب اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے اٹھے تو اراکین نے ڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔

بارہ بجکر ستائیس منٹ: عبادالحق، لاہور

صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ کے موقع پر لاھور میں وکلاء نے احتجاجی ریلی نکالی اور مال روڈ پر دھرنا دیا ہے۔ ضلعی بار کونسل کے اجلاس کے بعد وکلاء ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام اس احتجاج میں بڑی تعداد میں وکلا شریک ہیں اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلعی حکومت نے صدارتی انتخاب کے موقع پر وکلاء کے احتجاج کو غیر مؤثر بنانے کے لئے عدالتوں میں چھٹی کا اعلان کر رکھا ہے۔

بارہ بج کر چھبیس منٹ: ایوب ترین، کوئٹہ

صدارتی پولنگ کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کوئٹہ میں تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز، گلی محلے کی دوکانیں حتی کہ میڈیکل سٹورز بھی بند ہیں۔ ٹریفک کا زور بھی سڑکوں پر کم دیکھنے میں آ رہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے سکول سے چھٹی کے وقت طالب علموں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں، پشین، خوزدار، قلات اور سبی میں بھی ہڑتال ہے۔

بارہ بجکر پچیس منٹ: علی حسن، حیدر آباد

لاڑکانہ اور حیدرآباد ڈویژن کے اکثر شہروں میں اے پی ڈی ایم کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا جبکہ ان شہروں میں وکلا نے بائیکاٹ بھی کیا ہے ۔

سندھی زبان بولنے والے علاقے قاسم آباد میں مکمل ہڑتال ہے جبکہ بدین میں جزوی ہڑتال ہے جہاں پر وکلا نے مختلف جگہوں سے چھوٹی ریلیاں بھی نکالی ہیں۔

بارہ بجکر تئیس منٹ، ریاض سہیل، کراچی

اے این پی کے مطابق ناظم آباد سے اس کے بیس کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اے این پی کے سیکریٹری اطلاعات اقبال بُنیری کے مطابق یہ کارکن ڈسٹرکٹ سینٹرل کے زخمی صدر نیاز احمد کی عیادت کرنے ایک مقامی کلینک گئے تھے جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اے این کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن اور قائد آباد سے بھی ان کے پچیس ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بارہ بج کر نو منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

جمعیت علما اسلام نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہاں خاں کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کروا دی ہے۔ سرحد اسمبلی میں مزہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے پانچ ارکان نے پارٹی پالیسی کے خلاف صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ ان میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علما اسلام کے تین منحرف ارکان جبکہ مولانا سمیع الحق گروپ اور علامہ ساجد نقوی کی اسلامی تحریک پاکستان کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ سرحد اسمبلی میں اب صرف ایک رکن اکرام اللہ کا ووٹ باچی رہ گیا ہے۔ مرکز میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے اس رکن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بارہ بجکر چار منٹ: ریاض سہیل، کراچی

کراچی کے علاقوں قائدآباد، لانڈی اور سہراب گوٹھ میں مکمل ہڑتال ہے جبکہ سہراب گوٹھ سے پولیس پر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ناظم آباد میں پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم ہوا ہے جس میں ہونے والی فائرنگ میں اے این پی ڈسٹرکٹ سنٹرل کے صدر نیاز خان زخمی ہو گئے ہیں۔

بارہ بجکر دو منٹ: احمد رضا، کراچی

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو تھوڑی دیر پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی کے ہمراہ اسمبلی پہنچے تاہم وہ اسمبلی میں داخل نہیں ہوئے اور باہر گیٹ پر انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ کہ موجودہ اسمبلیاں دس سال کے لئے صدر کو منتخب نہیں کرسکتیں اور ابھی تک سپریم کورٹ نے اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ وہ جنرل مشرف صدر کا انتخاب لڑسکتے ہیں یا نہیں۔اس لیے پارٹی کے فیصلے کے مطابق انہوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے

بارہ بجے: ریاض سہیل، کراچی

اب تک سندھ اسمبلی میں سو ارکان کو ووٹ ڈالنے کے لیے بلایا جا چکا ہے جبکہ 54 ارکان ووٹ ڈال چکے ہیں۔

گیارہ بجکر چوالیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

سرحد اسمبلی میں اب تک تقریبا 34 ووٹ ڈالے گئے ہیں اور پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

ووٹ ڈالنے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ کے پندرہ ارکین اسمبلی، چار آزاد اور مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔

اسمبلی کی عمارت کے باہر وکلاء اور انتظامیہ کے درمیان جھڑپوں کے بعد وکلاء منتشر ہوگئے ہیں۔ اب سے کچھ دیر قبل وکلا پر اشک آور گیس کے گولے بھی پھینکے گئے۔

گیارہ بجکر بیالیس منٹ: رفعت اللہ اوکرزئی، پشاور

پولیس نے وکلاء پر آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں۔ وکلاء ہائی کورٹ سے ایک جلوس کی شکل میں سرحد اسمبلی کی طرف آئے تو انہوں نے اسمبلی کی عمارت پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس سے اسمبلی کی عمارت کے چند شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ وکلاء پر اس دوران پندرہ سے بیس شیل پھینکے گئے۔

گیارہ بجکر پینتس منٹ: انتخاب امیر، اسلام آباد

صدارتی انتخابات کے موقع پر قومی اسمبلی کی عمارت کے باہر میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کی گہما گہمی ہے۔ بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے موجود ہیں۔

اب تک مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید، اعجاز الحق اور میر ظفر اللہ خان جمالی اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد اسمبلی سے باہر آچکے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے بتایا کہ سینیٹ اراکین کی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ اس وقت اسمبلی کے اراکین کی ووٹنگ جاری ہے۔

اسمبلی کے باہر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند اراکین اسمبلی بھی موجود ہیں۔ تاہم سیاسی کارکنوں اور وکلا کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے

گیارہ بجکر تیس منٹ: علی سلمان، لاہور

پنجاب اسمبلی میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ اسمبلی کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین کی پولنگ ایجنٹ رابیعہ باجوہ ایڈووکیٹ کو کو پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

اجلاس کے شروع ہوتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرکے باہر چلے گے۔ تاہم انہوں نے اس مرتبہ گو مشرف گو کے نعرے نہیں لگائے۔ لاہور کے دوسرے علاقوں مال روڈ اور دیگر میں پولیس اور حفاظتی دستے تعینات کردیئے گئے ہیں۔

لاہور میں ہی ہمارے نمائندے عباد الحق کے مطابق دن بارہ بجے وکلا نے احتجاجی ریلی کا اعلان کیا ہے۔ جس کے لئے لاہور بار میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

گیارہ بجکر اٹھائیس منٹ: عزیز اللہ خان، کوئٹہ

اب تک ستائیس ارکانِ اسمبلی ووٹ ڈال چکے ہیں جبکہ سات آٹھ ارکان نے ابھی تک اپنا حق رائے دہی استعمال نےنہیں کیا۔ جن ارکانِ اسمبلی نہ ابھی تک ووٹ ڈالے ہیں ان میں جمعیت علماء اسلام کے دو منحرف ارکان آمنہ خانم اور پرنس فیصل داؤد بھی شامل ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کی طرف آنے والے سب راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور شہر میں سکیورٹی انتظامات کافی سخت ہیں۔

گیارہ بجکر بیس منٹ: ایوب ترین، کوئٹہ

بلوچستان اسمبلی میں پولنگ پرامن طور پر جاری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق)
کے تمام ارکان اسمبلی بلڈنگ میں پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی محمد اسلم رئیسانی اور شفیق احمد خان بھی اسمبلی آئے تھے لیکن انہوں نے صدارتی الیکشن سے اظہار لاتعلقی کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ جمہوری وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے چار ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔

گیارہ بجے: ریاض سہیل، کراچی

گیارہ بجے تک سندھ اسمبلی کے بیس ارکان اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے پونے گیارہ بجے ووٹ ڈالا۔

دس بجکر بیالیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے پشاور ہائی کورٹ کے صدر لطیف آفریدی پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد بکتر بند گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ وکلاء کے مطابق لطیف آفریدی کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ وکلاء نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چار بھی کیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں جیسا انہوں نے اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر وکلاء اور صحافیوں پر پولیس تشدد کے بعد کیا تھا۔

دس بجکر پینتیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

وکلاء نے سرحد اسمبلی کے باہر پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو آگ لگا دی ہے۔ وکلاء نے صدارتی انتخاب کے موقع پر سرحد اسمبلی کے گھیراؤ کی دھمکی دے رکھی تھی۔ وکلاء اسمبلی کے گیٹ کے پاس بیٹھ گئے ہیں اور صدر مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ پولیس بھی موقع پر موجود ہے لیکن وہ وکلاء کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔

دس بجکر تیس منٹ: انتخاب امیر، اسلام آباد

سول سوسائٹی کا ایک جلوس پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گیا ہے۔ جلوس میں شرکاء کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔ صدر مشرف اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔

دس بجکر تئیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور
سرحد اسمبلی میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔ پی پی پی شیرپاؤ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ارکان اسمبلی اور چار آزاد ارکان اسمبلی ہال میں موجود ہیں۔ ہال میں زیادہ تر نشستین خالی ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

دس بجکر اکیس منٹ: رفعت اللہ اورکزئی، پشاور

پشاور کے مختلف علاقوں میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اے پی ڈی ایم نے کیمپ لگائے ہوئے ہیں جہاں اے این پی، جماعات اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے کارکن نظر آ رہے ہیں۔

دس بجکر چودہ منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ شروع ہو گئی ہے۔ پہلا ووٹ سینیٹر عبدالغفار قریشی نے ڈالا۔ ریٹرننگ آفیسر چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے ارکان کو بتایا ہے کہ پہلے سینیٹرز اور بعد میں ارکانِ قومی اسمبلی ووٹ ڈالیں گے۔ ایم ایم اے کے منحرف ارکن قومی اسمبلی قاری گُل رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے ایم این اے شہاب الدین اور کفیلہ قتل کیس میں گرفتار سابق وزیر مملکت شاہد جمیل بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ شہاب الدین نے کل ہی اے این پی کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

دس بجکر پانچ منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گیا ہے۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی یہ کہہ کر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا کہ صدر مشرف وردی میں انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے وہ اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن جمہوری عمل کا حصہ ہے اور جمہوریت اور وردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

نو بجکر اڑتالیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

اسلام آباد میں ابھی تک حالات مجموعی طور پر پر سکون ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے تمام راستے کھلے ہیں۔ سیرینا ہوٹل اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے پاس خار دار تاروں کے گٹھے نظر آ رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت وہاں پر شاہراہِ دستور کو بند کیا جا سکتا۔ شاہراہِ دستور پر سرگودھا کے ناظم کی طرف سے ایک بینر لگایا گیا ہے جس پر تحریر ہے: مشرف تجھ پر رحمتِ الہی، جس کے بھائی شجاعت، پرویز الہی۔

ساڑھے نو بجے: ریاض سہیل، کراچی

کراچی میں ہر طرف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے داخلی دروازے کے پاس پولیس کی سات آٹھ پولیس موبائل گاڑیاں موجود ہیں اور ہائی کورٹ کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔ الیکشن کمشن کے دفتر کے رینجرز کا گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ پریس کلب کے پاس بھی دو تین پولیس موبائل گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد