BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی انتخاب: سندھ میں 167ووٹر

سندھ اسمبلی
پی پی پی کے ارکان اسمبلی صدارتی انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔
صوبائی الیکشن کمشنر سندھ قمر الزماں نے کہا ہے کہ سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے صوبہ سندھ کی غیرحتمی انتخابی فہرست کل 167 ووٹروں پر مشتمل ہے جن میں گزشتہ دنوں مستعفی ہونے والے ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والے سات ارکان کے نام بھی شامل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی کے سپیکر ان سات ارکان کے استعفے منظور ہونے کی صورت میں نوٹیفیکیشن جاری کریں گے جو الیکشن کمیشن کو تاحال موصول نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹیفیکشن ملنے کے بعد ان ارکان کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردیے جائیں گے۔

پی پی پی کے استعفے
 پی پی پی کے تمام ارکان کے استعفے جمع کرلیے گئے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ استعفوں کی نوبت نہیں آئے گی۔ حکومت اور پی پی پی کے درمیان مفاہمت کا فارمولا دونوں طرف سے منظور ہوگیا ہے اور اب پارٹی کی جو بھی حکمت عملی ہوگی اس کا اعلان قائدین اسلام آباد میں کریں گے۔
مخدوم جمیل الزمان

دوسری جانب سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک اہلکار محمد راشد نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیکر سندھ اسمبلی نے ایم ایم اے کے سات ارکان کی جانب سے دیے گئے استعفوں کی منظوری نہیں دی ہے اور اس بارے میں فیصلہ صدارتی انتخاب کے بعد ہی ہوسکے گا۔

صدارتی انتخاب کے طریقۂ کار کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں بیلٹ پیپر پر انتخابی نشان نہیں ہوتا بلکہ ہر امیدوار کے نام درج ہوتے ہیں۔ ’ووٹر اپنی پسند کے امیدوار کے نام کے آگے بنے ڈبے میں ضرب کا نشان بنا کر بیلٹ پیپر ڈبے میں ڈال دے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پولنگ صبح دس بجے سے شروع ہوکر سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گی اور غیرسرکاری نتائج چار بجے تک چیف الیکشن کمشنر کو بھیج دیے جائیں گے۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر مخدوم جمیل الزماں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان کے استعفی جمع کرلیے گئے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ استعفوں کی نوبت نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی پی پی کے درمیان مفاہمت کا فارمولا دونوں طرف سے منظور ہوگیا ہے اور اب پارٹی کی جو بھی حکمت عملی ہوگی اس کا اعلان پارٹی کے مرکزی قائدین اسلام آباد میں کریں گے۔

البتہ انہوں نے کہا کہ یہ طے ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد