سرحد اسمبلی کے 36 ارکان مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں جمعہ کو جماعتِ اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پینتیس ارکانِ صوبائی اسمبلی نے اپنی نشستوں سے استعفٰی دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے اراکینِ اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے چوبیس، عوامی نیشنل پارٹی کے آٹھ اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے چار ارکان شامل ہیں۔ جماعتِ اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کے ارکان نے اپنے استعفے سرحد اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں ان کے حوالے کیے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے استعفے اجلاس کے دوران پیش کیے۔ ان استعفوں سے ایم ایم اے میں شامل جمیعت علمائے اسلام اور اپوزیشن اتحاد آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ایم ایم اے کی سرحد حکومت میں شامل جمیعت علمائے اسلام کا کہنا ہے وہ اسمبلیوں سے وزیرِاعلٰی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر رائے شماری کے بعد مستعفی ہونا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے ایم ایم اے کے صوبائی رہنما اور سابق وزیر سراج الحق نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ان کی کوشش تھی کہ سب چھ اکتوبر سے قبل استعفے دیں کیونکہ صدارتی انتخاب کے حوالے سے چھ اکتوبر ہی بنیادی تاریخ ہے تاہم جے یو آئی تحریکِ عدم اعتماد پر رائے شماری کے بعد آٹھ اکتوبر کو استعفے دینا چاہتی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں‘۔ تاہم سراج الحق نے ایم ایم اے کے اے پی ڈی ایم سے علیحدگی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اختلافات عارضی ہیں اور جلد ہی حل ہو جائیں گے۔
جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم کو ایک طویل پر خار راستہ طے کرنا ہے لیکن ان کے ساتھی ابتداء ہی میں تھک گئے ہیں۔ ان کے بقول جے یو آئی آٹھ اکتوبر کو اپوزیشن کی جانب سے وزیرِاعلٰی کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرےگا۔ان کے مطابق’اے پی ڈی ایم‘ کے مستعفی ہونے والے ساتھیوں نے ایک ایسی حکمت عملی اپنا لی ہے جس کے نتیجے میں پوری اسمبلی اپوزیشن کے حوالے ہو جائےگی جبکہ جے یوآئی ’اے پی ڈی ایم‘ کے فیصلے کے عین مطابق آٹھ اکتوبر کو اسمبلی تحلیل کر کے اسے اپوزیشن کی بجائے سیکرٹری اسمبلی کے حوالے کر دے گی۔ اے پی ڈی ایم میں شامل جمیعت علماء اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کے علاوہ بعض قانونی ماہرین کے بقول سرحد اسمبلی کو اس وقت ایک آئینی بحران کا سامنا ہے۔ جماعت اسلامی کے چوبیس ارکان کے مستعفی ہونے کے بعد وزیرِاعلی اکرم خان درانی کو اب ایک سو چوبیس کے ایوان میں تریسٹھ ارکان کی حمایت حاصل نہیں رہی لہٰذا عدم اعتماد کی تحریک کے بعد اگر وزیراعلی گورنر سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کرتے بھی ہیں تو گورنران سے آئین کے آرٹیکل ایک سو تیس کے تحت یہ تقاضہ کر سکتے ہیں کہ وہ بحیثیت وزیرِاعلی اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ اس وقت سرحد اسمبلی میں حکمران جماعت جمیعت علماء اسلام سمیت کسی بھی جماعت کے پاس قطعی اکثریت نہیں ہے۔ ستاسی ارکان اسمبلی میں سے سپیکر کے علاوہ حکمران جماعت جمیعت علماء اسلام کو چوالیس جبکہ جنرل مشرف کی حمایت یافتہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ، مسلم لیگ قائداعظم کوتینتیس ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹررین کے ارکان کی تعداد نو ہے۔ | اسی بارے میں سرحد: استعفوں پر اختلافات جاری04 October, 2007 | پاکستان تحریکِ عدم اعتماد، رائےشماری8 اکتوبر03 October, 2007 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر01 October, 2007 | پاکستان ’اسمبلی رہےگی، انتخاب کا بائیکاٹ‘02 October, 2007 | پاکستان 164 ارکان نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||