سرحد: استعفوں پر اختلافات جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی سے مستعفی ہونے کے معاملے پر جمیعت علماء اسلام (ف) اور اے پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے جمعہ کو سرحد اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے آٹھ ارکان اسمبلی جمعہ کو اپنے استعفے اسپیکر سرحد اسمبلی کو پیش کر دیں گے۔ ان کے بقول وہ یہ اقدام اے پی ڈی ایم کےاس فیصلے کے تحت لے رہے ہیں کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ہی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سرحد اسمبلی کو چھ اکتوبر سے قبل تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم عدم اعتماد کی تحریک کے بعد آئین کے مطابق اسمبلی چھ اکتوبر سے قبل تحلیل نہیں ہوسکتی لہذا صدارتی انتخابات کے بعد اسمبلی کی تحلیل کیے جانے کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ سرحد اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر انور کمال مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے چار اکان بھی جمعہ کو اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سرحد کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی عدم اعتماد کے بعد جمیعت علماء اسلام نے ان سے یہ درخواست کی تھی کہ استعفوں کا فیصلہ مؤخر کیا جائے اور اس دوران وہ کوشش کریں گے کہ صدارتی انتخابات سے قبل ہی کسی نے کسی طریقے سے اسمبلی کو تحلیل کردیں۔ انور کمال کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کی منظوری کے بعد اب اس پر رائے شماری آٹھ اکتوبر کو ہوگی لیکن اس دوران چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہوگا۔ اس سلسلے میں جب ایم ایم اے میں شامل جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جمیعت علماء اسلام کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ جمعہ کومتفقہ طور پراسمبلی سے استعفے دینے چاہیے۔تاہم ان کے بقول جمیعت علماء اسلام ابھی تک عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔ جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والےصوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت علماء اسلام کے ارکان اے پی ڈی ایم کے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اسمبلی سے مستعفی نہیں ہوں گے۔ان کے بقول اے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے استعفوں سے متعلق کیے گئے تازہ فیصلے کے بارے میں ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور بقول ان کےانہوں نے انفرادی سطح پراستعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمیعت علماء اسلام اب بھی اے پی ڈی ایم کے اس فیصلے پرقائم ہے کہ چھ اکتوبر سے قبل صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اے پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی استعفی دیں گے جبکہ وزیر اعلیٰ سرحد اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کریں گے۔ان کے بقول’ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کریں گے اور اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق آٹھ اکتوبر کو عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے بعد گور نر سے اسمبلی کیتحلیل کرنے کی سفارش کی جائے گی۔، واضح رہے کہ جمیعت علماء اسلام اور اے پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے درمیان اسمبلی سے مستعفی ہونے کے معاملے پر ابھرنے والے مبینہ اختلافات کے بعد نہ صرف اے پی ڈی ایم بلکہ ایم ایم اے کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے تاہم اس بات کا فیصلہ آئندہ چند دنوں کے دوران واضح ہوجائے گا۔ |
اسی بارے میں 164 ارکان نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر01 October, 2007 | پاکستان ’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘01 October, 2007 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان پاکستانی اخبارات کی سرخیاں03 October, 2007 | پاکستان سندھ اسمبلی: ایم ایم اے رکن باغی02 October, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی میں کشیدگی02 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||