سندھ اسمبلی: ایم ایم اے رکن باغی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کے حیدرآباد سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی عبدالرحمٰن راجپوت نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفٰی دینے سے انکار کردیا اور اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے صدارتی انتخاب میں حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان منگل کو صوبہ سندھ کے وزیرِاعلٰی ارباب غلام رحیم کے ساتھ وزیرِاعلٰی ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ پریس کانفرنس اے پی ڈی ایم یعنی آل پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ سے تعلق رکھنے والے ارکانِ سندھ اسمبلی کی جانب سے استعفے جمع کرانے کے فوری بعد ہوئی۔ ایک جانب اے پی ڈی ایم میں شامل ایم ایم اے کے رہنماء سندھ اسمبلی بلڈنگ میں عبدالرحمٰن راجپوت کا انتظار کررہے تھے جبکہ وہ دوسری جانب اپنی وفاداری تبدیل کرنے کا اعلان کررہے تھے۔ عبدالرحمٰن راجپوت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے بلکہ یہ ان کے ضمیر کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے پانچ سالوں میں حکومت مستحکم ہوئی ہے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ استعفٰی دیں۔’اب میں صدارتی انتخاب میں صدر کو ووٹ دوں گا۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت نہیں کرسکے اور اب وہ حکومت میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلٰی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ جمہوریت کے استحکام اور عوام کی بھلائی کے لیے کام کریں گے۔ وزیرِاعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم نے کہا کہ عبدالرحمٰن راجپوت نے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کو کابینہ میں شامل کرنے کا وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمایت کرنے والے رکن اسمبلی نے اپنی جماعت کو نہیں چھوڑا ہے اور اس پر اگلے انتخاب میں غور کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’ابھی چند مزید ارکان سندھ اسمبلی ہیں جو ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور اسمبلی میں ہماری تعداد میں اضافہ ہوگا‘ انہوں نے کہا کہ ’اپوزیشن سینیٹ سے استعفے نہیں دے رہی اور جن اسمبلیوں کی مدت ختم ہورہی ہے ان سے استعفے دیے جارہے ہیں۔ یہ لوگ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہورہے ہیں۔ ان کے استعفے دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور صدارتی انتخاب اپنے وقت پر ہونگے‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو متوقع آمد پر ان کو سکیورٹی بہم پہنچانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ ہم سے سکیورٹی مانگیں گی تو ہم دیں گے بلکہ سب سے زیادہ سکیورٹی سرکاری مہمان بننا ہی ہے‘۔ | اسی بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف چھوٹے ہو کر کیا بنیں گے؟02 October, 2007 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان قومی اور صوبائی اسمبلی کے 164 اراکین نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان ’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘01 October, 2007 | پاکستان ’اسمبلی رہےگی، انتخاب کا بائیکاٹ‘02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||