BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصالحتی آرڈیننس پر ملا جلا ردعمل

بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف
آرڈیننس کے اجراء سے سیاسی عناد کی بنیاد پر قائم ہونے والے مقدمات ختم ہونگے
قومی مصالحتی آرڈیننس کے اجراء پر ماہرین قانون ملا جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس کا اجراء بلاجواز ہے جبکہ کچھ قانون دان کہتے ہیں کہ یہ ایک خوش آئندہ اقدام ہے اور اس کا اطلاق تمام سیاسی افراد پر ہونا چاہئے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کا اجراء ایک اچھا قدم ہے کیونکہ اس سے سیاسی عناد کی بنیاد پر قائم کیے گئے مقدمات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ان کے بقول بیرون ملک اگر کوئی مقدمہ آٹھ دس سال عدالت میں زیر التواء رہتا ہے تو ایک خاص مدت کے بعد یہ از خود ہی ختم ہو جاتا ہے جبکہ پاکستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات التواء کا شکار رہتے ہیں جس سے سیاسی مخالف کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی کی رائے ہے کہ آرڈیننس اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو، لیکن حکومت نے یہ آرڈیننس دانستہ طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے سے دو روز بعد جاری کیا ہے ۔

ایک جیسا قانون
 مقدمات کو واپس لینے کے لیے پہلے سے قانون موجود ہے، بلکہ نیب آرڈیننس میں مقدمات کو واپس لینے کی شق بھی شامل ہیں۔ مقدمات کو واپس لینے کے قانون کی موجودگی میں قومی مصالحتی آرڈیننس کا اجراء کی کوئی ضرورت نہیں ہے
ایڈووکیٹ منظور ملک

ان کا کہنا ہے کہ یہ آرڈیننس آئین کی شق پچیس کی خلاف ورزی ہے اور ایک امتیازی قانون ہے۔ ان کے بقول اس آرڈیننس کے اجراء کے تحفظ کے لیے کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں ہے۔

قانونی ماہر خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ حکومت نے قومی مصالحتی آرڈیننس کے نام پر ایک انوکھا کام کیا ہے۔ ان کے مطابق اٹھارہ سواٹھانوے کے ضابطہ فوجداری کے قانون کی شق چارسو چورانوے کے تحت استغاثہ عدالت کی اجازت سے کوئی مقدمہ واپس لے سکتا ہے۔ تاہم استغاثہ یا ریاست از خود یہ مقدمہ واپس لینے کے مجاز نہیں ہوتے۔

ان کے بقول ماضی میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جب استغاثہ نے عدالت میں مقدمات واپس لینے کی درخواست دی لیکن عدالت نے اس کو مسترد کردیا۔

ان کا موقف ہے کہ آرڈیننس میں مقدمات واپس لینے کے لیے ایک خاص مدت کا ذکر کیا ہے جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ قانون کسی ایک محضوص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آرڈیننس صرف قانون سازی کا مرحلہ ہے اور یہ آئین کا حصہ نہیں ہے اس لیے اس کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول اگر آئین میں کوئی ایسی ترمیم کی جائے جو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو تو اس ترمیم کو بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

عدالت کی اجازت ضروری
 ضابطہ فوجداری کے قانون کی شق چارسو چورانوے کے تحت استغاثہ عدالت کی اجازت سے کوئی مقدمہ واپس لے سکتا ہے۔ تاہم استغاثہ یا ریاست از خود یہ مقدمہ واپس لینے کے مجاز نہیں ہوتے
ایڈووکیٹ خواجہ حارث

ان کی رائے میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس نہ صرف امتیازی قانون ہے بلکہ یہ ایک کھلا فراڈ ہے۔

ماہر قانون منظور ملک نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس نہ صرف بلاجواز ہے بلکہ یہ ایک ناقص قانون ہے۔ ان کے بقول مقدمات کو واپس لینے کے لیے پہلے سے قانون موجود ہے، بلکہ نیب آرڈیننس میں مقدمات کو واپس لینے کی شق بھی شامل ہیں۔ ’مقدمات کو واپس لینے کے قانون کی موجودگی میں قومی مصالحتی آرڈیننس کا اجرا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت استغاثہ کو مقدمات واپس لینے کےلیے عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے اور عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی مقدمہ واپس نہیں لیا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔

ان کی رائے میں اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے کیونکہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کے بقول عدالت اس پس منظر کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، جس کے تحت یہ قانون جاری کیا گیا ہے۔

آرڈیننس کی عمر چار ماہ
 آرڈیننس کا اجراء ایک عبوری قانون سازی ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی آرڈیننس کی آئینی مدت صرف ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر چار ماہ کی مدت میں اسمبلی کسی آرڈیننس کو منظور نہیں کرتی تو یہ آّرڈیننس ازخود ہی ختم ہو جاتا ہے
ایڈووکیٹ عابد ساقی

انہوں نے مزید کہا کہ یہ آرڈیننس مفاد عامہ میں نہیں بلکہ سیاسی اور ذاتی ضرورت کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ ان کے بقول آرڈیننس کی قانونی مدت صرف چار ماہ ہوتی ہے اور چار ماہ اگر نئی اسمبلی اس کو منظور نہیں کرتی تو یہ قانون اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ازخود ہی ختم ہوجائےگا۔

قانون دان عابد ساقی کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کا اجراء ایک عبوری قانون سازی ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی آرڈیننس کی آئینی مدت صرف ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر چار ماہ کی مدت میں اسمبلی کسی آرڈیننس کو منظور نہیں کرتی تو یہ آّرڈیننس ازخود ہی ختم ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے اجراء سے سیاسی عناد کی بنیاد پر قائم ہونے والے مقدمات ختم ہونگے اور اس قانون کا اطلاق تمام سیاسی افراد پر ہونا چاہئے۔

نیب لوگومصالحتی آرڈیننس
مصالحت سے کون کون رہے گا فائدے میں؟
سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کیا کچھ فرق پڑے گا؟
استعفوں پر آئینی ماہرین کا ملا جلا ردعمل
مشرفماہرین کی مختلف آرا
ماہرین قوانین پر مختلف آرا کا اظہار کرتے ہیں۔
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)بینظیر کی سیاست
اکیس سال کے سفر میں کیا کیاہوا؟
بےنظیر اور مشرف’آمروں کے ساتھ رقص‘
مشرف سے ڈیل یا شیر پر سواری، نتیجہ کیا ہوگا؟
مفاہمت ہو رہی ہے؟
حکومت اور اپوزیشن میں مفاہمت کے آثار
اسی بارے میں
قومی مصالحتی آرڈیننس جاری
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد