BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عام کارکنوں کو بھی معافی ملے گی‘

mqm flag
حکومت نے ایم کیو ایم کی ان سفارشات کو تسلیم کیا ہے کہ عام سیاسی کارکنوں پر جو مقدمات بنے ہیں وہ بھی ختم کیے جائیں گے
متحدہ قومی موومنٹ نے کہا ہے کہ حکومت نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا ہے کہ مجوزہ قومی مصالحتی آرڈیننس میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عام کارکنوں کو بھی عام معافی دی جائے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ’حکومت کی طرف سے کل رات کو اعلی سطح پر رابطے ہوئے تھے اور اس میں انہوں نے جو آرڈیننس بنایا ہے اس کے لیے ایم کیو ایم کی سفارشات کو تسلیم کیا ہے کہ عام سیاسی کارکنوں پر جو مقدمات بنے ہیں وہ بھی ختم کیے جائیں گے‘۔

جن مقدمات کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ان کی نوعیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ سیاسی کارکنوں پر جو بھی مقدمات بنائے گئے ہیں انہیں ختم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کارکنوں پر تو نیب کا مقدمہ بنتا نہیں ہے ان پر تو فوجداری مقدمات بنتے ہیں اور یہاں تک بنتے ہیں کہ فلاں نے فلاں کی بھینس چوری کرلی، الطاف حسین پر پولیس والے کی ٹوپی چوری کرنے تک کا بھی مقدمہ قائم ہے۔ تو جتنے بھی مقدمات ہیں انہیں ختم کرنے کی بات ہے‘۔

اس سوال پر کہ یہ یقین دہانی کس نے کرائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اعلی سطح سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے جس کے بعد ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم نے کرپشن کے مقدمات میں سیاستدانوں کو عام معافی دینے کی حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

الطاف حسین پرٹوپی چوری کا مقدمہ
 کارکنوں پر فوجداری مقدمات بنتے ہیں اور یہاں تک بنتے ہیں کہ فلاں نے فلاں کی بھینس چوری کرلی، الطاف حسین پر پولیس والے کی ٹوپی چوری کرنے تک کا بھی مقدمہ قائم ہے، تو جتنے بھی مقدمات ہیں انہیں ختم کرنے کی بات ہے
حیدر عباس رضوی

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے صرف اپنے کارکنوں کے لیے عام معافی کی سفارش نہیں کی تھی بلکہ یہ مطالبہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے تھا جس کی منظوری ایم کیو ایم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر بمشکل دو فیصد ہوتے ہیں اور وہ کسی نہ کسی طرح اپنے مقدمے ختم کراہی لیتے ہیں لیکن کارکن بیچارے کسی بھی جماعت کے ہوں، وہ رسوا ہوتے رہتے ہیں تو ایم کیو ایم کا تو یہ کہنا ہے کہ اس طبقے کا بھی تو خیال کیا جائے جو ورکر طبقہ ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ہوں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آرڈیننس جمعرات کی شب تک جاری ہونے کی توقع ہے۔ اس سوال پر کہ اس آرڈیننس کے تحت کس عرصے کے دوران قائم ہونے والے مقدمات میں عام معافی دئے جانے کی تجویز ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آرڈیننس کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی اس بارے میں کچھ بتاسکیں گے۔

اسی بارے میں
مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ
02 October, 2007 | پاکستان
اکبر بگٹی پر مزید مقدمات درج
22 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد