’عام کارکنوں کو بھی معافی ملے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ نے کہا ہے کہ حکومت نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا ہے کہ مجوزہ قومی مصالحتی آرڈیننس میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عام کارکنوں کو بھی عام معافی دی جائے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ’حکومت کی طرف سے کل رات کو اعلی سطح پر رابطے ہوئے تھے اور اس میں انہوں نے جو آرڈیننس بنایا ہے اس کے لیے ایم کیو ایم کی سفارشات کو تسلیم کیا ہے کہ عام سیاسی کارکنوں پر جو مقدمات بنے ہیں وہ بھی ختم کیے جائیں گے‘۔ جن مقدمات کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ان کی نوعیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ سیاسی کارکنوں پر جو بھی مقدمات بنائے گئے ہیں انہیں ختم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کارکنوں پر تو نیب کا مقدمہ بنتا نہیں ہے ان پر تو فوجداری مقدمات بنتے ہیں اور یہاں تک بنتے ہیں کہ فلاں نے فلاں کی بھینس چوری کرلی، الطاف حسین پر پولیس والے کی ٹوپی چوری کرنے تک کا بھی مقدمہ قائم ہے۔ تو جتنے بھی مقدمات ہیں انہیں ختم کرنے کی بات ہے‘۔ اس سوال پر کہ یہ یقین دہانی کس نے کرائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اعلی سطح سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے جس کے بعد ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم نے کرپشن کے مقدمات میں سیاستدانوں کو عام معافی دینے کی حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے صرف اپنے کارکنوں کے لیے عام معافی کی سفارش نہیں کی تھی بلکہ یہ مطالبہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے تھا جس کی منظوری ایم کیو ایم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر بمشکل دو فیصد ہوتے ہیں اور وہ کسی نہ کسی طرح اپنے مقدمے ختم کراہی لیتے ہیں لیکن کارکن بیچارے کسی بھی جماعت کے ہوں، وہ رسوا ہوتے رہتے ہیں تو ایم کیو ایم کا تو یہ کہنا ہے کہ اس طبقے کا بھی تو خیال کیا جائے جو ورکر طبقہ ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ہوں‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آرڈیننس جمعرات کی شب تک جاری ہونے کی توقع ہے۔ اس سوال پر کہ اس آرڈیننس کے تحت کس عرصے کے دوران قائم ہونے والے مقدمات میں عام معافی دئے جانے کی تجویز ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آرڈیننس کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی اس بارے میں کچھ بتاسکیں گے۔ | اسی بارے میں مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ02 October, 2007 | پاکستان شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک09 March, 2007 | پاکستان اکبر بگٹی پر مزید مقدمات درج22 February, 2006 | پاکستان بگٹی پر اغواء برائے تاوان کے دو مقدمات03 February, 2006 | پاکستان ناظمین کے خلاف مزید مقدمات08 July, 2005 | پاکستان سیاستدانوں پر بغاوت کے مقدمات12 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||