سیاستدانوں پر بغاوت کے مقدمات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی ملک کے پہلے سیاستدان نہیں جنھیں بغاوت کے الزامات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر حکمرانوں کے دور میں سیاسی مخالفین پر بغاوت اور امن امان درہم برہم کرنے کی سازش کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے جاتے رہے ہیں۔ ریاست سے بغاوت کے مقدمات کی فہرست طویل ہے تاہم راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس ، حیدرآباد ٹریبیونل اور اٹک سازش کیس ان میں نمایاں ہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں کی گرفتاریوں کی ابتدا قلات ریاست کے پاکستان سے الحاق سے شروع کی جاسکتی ہے جہاں کی ریاستی پارلیمینٹ اس حق میں نہیں تھی۔ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست نے سترہ مارچ انیس سو اڑتالیس کو قلات نیشنل پارٹی پر پابندی عائد کی اور بلوچ سیاستدانوں میر غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر وغیرہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے فوراً بعد ستائیس مارچ انیس سو اڑتالیس کو میر احمد یار خان آف قلات نے اپنی ریاست کا پاکستان سے الحاق کردیا۔ خان قلات کے چھوٹے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے اس الحاق کو غیر قانونی قرار دے کر اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت افغانستان کی راہ لی۔ مئی انیس سو اڑتالیس میں ان لوگوں نے پاکستان حکومت کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی جس کا ساتویں رجمینٹ سے مقابلہ ہوا اور شہزادہ عبدالکریم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک جرگے نے علیحدگی پسندوں کو طویل قید اور جرمانوں کی سزا سنائی۔ پاکستان کے قیام کے فورًا بعد ہی صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت کو تحلیل کردیاگیا اور وہاں کے وزیراعلٰی ڈاکٹر خان صاحب اور ان کے بھائی خان عبدالغفار خان (باچا خان) پر حکومت نے سازش کرنے کا الزام عائد کردیا۔
مئی انیس سو اڑتالیس میں غفار خان، جی ایم سید اور عبدالصمد اچکزئی نے حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اگلے ماہ ہی غفار خان، ان کے بیٹے ولی خان اور قاضی عطااللہ خان کو گرفتار کرلیا گیا۔ بلوچستان میں عبدالصمد اچکزئی بھی حراست میں لیے گئے اور جی ایم سید کو کراچی بدر کردیا گیا۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے ایک بل کے ذریعے غفار خان کی سرخ پوش تحریک کو غیرقانونی قرار دے دیا اور غفار خان اور ان کے ساتھیوں کو طویل حراست میں رکھا گیا۔ فروری انیس سو اکیاون میں تیرہ فوجی افسروں اور چار سولین افراد کو، جن میں شاعر فیض احمد فیض اور کمیونسٹ رہنما میجر اسحاق نمایاں تھے، ریاست کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا جو بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ پندرہ جون انیس سو اکیاون کو اس مقدمہ کی سماعت حیدرآباد سنٹرل جیل میں شروع ہوئی جو اڑھائی سال جاری رہی۔ جسٹس محمد شریف نے اس سازش کے مرکزی کردار میجر جنرل اکبر خان کو بارہ سال قید کی سزا سنائی۔ دوسرے تمام فوجی افسروں کو بھی سزا سنائی گئی۔ انیس سو پچپن میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک اپیل درخواست میں انھیں بری کردیا لیکن چند گھنٹوں بعد انھیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ پانچ جولائی انیس سو چون میں مشرقی پاکستان میں اور چھبیس جولائی کو مغربی پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا اور اس سے وابستہ ادیبوں ، عورتوں ، مزدوروں اور طلباء کی تنظیموں پر بھی پابندی عائد کردی گئی اور کئی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ سرحد کے پشتون قوم پرست رہنما غفار خان کو جون انیس سو چھپن میں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور ان پر الزام تھا کہ وہ لوگوں کو ملک کے خلاف اکسا رہے ہیں جس سے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے۔ جنوری انیس سو ستاون میں ایک سال کے مقدمہ کی سماعت کے بعد جسٹس شبیر احمد نے غفار خان کو عدالتی کارروائی کی مدت کے برابر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی۔ خان قلات اور ان کے بھائی عبدالکریم کو، جن سے ملک میں سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، ایک بار پھر فوجی کارروائی کرکے اکتوبر انیس سو اٹھاون میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس دفعہ ان پرالزام تھا کہ وہ افغانستان سے مل کر سازش کررہے ہیں کہ ایک آزاد بلوچستان ریاست قائم کریں۔ ایوب خان نے اپنے فوجی اقتدار کے نفاذ (مارشل لا) کے جواز میں بھی اس معاملہ کا سہارا لیا۔ اس مزاحمت میں شامل ایک نوے سالہ بلوچ قبائلی سردار نوروز خان نے انیس سو ساٹھ میں صلح کے بعد ہتھیار ڈالے لیکن انھیں گرفتار کیاگیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی۔ سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید بھی امن وامان کے لیے خطرے کا باعث بننے کے الزام میں سن انیس سو اٹھاون سے انیس سو چھیاسٹھ تک یا تو حراست میں رہے یا نظربند رہے۔بعد میں جون انیس سو سڑسٹھ سے مارچ انیس سو انہتر تک انھیں پھر نظر بند کردیا گیا۔جنرل ضیاءالحق کے دور اقتدار میں بھی وہ اپنے آبائی گاؤں میں نظربند رہے۔ جنوری انیس سو بانوے میں جی ایم سید کو بغاوت کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا لیکن ان کے اصرار کے باوجود مقدمہ کی سماعت نہیں کی گئی حتٰی کہ اپریل انیس سو پچانوے میں وہ ایک ہسپتال میں، جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا، انتقال کرگۓ۔ جنرل ایوب خان نے انیس سو باسٹھ کا آئین نافذ کرنے سے پہلے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنما اور سابق وزیراعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کے نئے آئین سے اختلاف کی بنا پر ان کو گرفتار کرلیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تاہم انھیں جلد رہا کردیا گیا۔ اگرتلہ سازش کیس پاکستان کی تاریخ کاسب سے اہم بغاوت کا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔ اس کی کڑیاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام سے ملتی ہیں۔ چھ جنوری انیس سو اڑسٹھ کو حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے اٹھائیس افراد کو گرفتار کیا ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے کام کررہے تھے۔ ان میں فوجی افسر جیسے لیفٹیننٹ کمانڈر معظم حسین اور دوسرے سویلین افراد شامل تھے۔ اٹھارہ اپریل انیس سو اڑسٹھ کو عوامی لیگ کے سربراہ شیخ جیب الرحٰمن کو جنرل ایوب خان کے حکم پر گرفتار کیا گیا اور جلد ہی رہا کردیا گیا لیکن مئی نو کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔ جون میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی اور پینتیس افراد پر مسلح بغاوت سے پاکستان کو اس کے ایک حصہ پر اقتدار اعلٰی سے محروم کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا۔ سب نے صحت جرم سے انکار کیا۔ اس مقدمہ کے باعث مشرقی پاکستان میں سیاسی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ بگڑتی ہوئی صورتحال میں ایوب خان نے اگرتلہ سازش کے مقدمہ کو روک کر سب ملزموں کو رہا کردیا۔
تین اگست انیس سو اکہتر کو شیخ مجیب الرحمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا اور فیصل آباد (اس وقت لائل پور) کی ایک جیل میں ججوں کے ایک پینل نے مجیب الرحمن مقدمہ کی سماعت شروع کی جس کامجیب الرحمان نے بائیکاٹ کیا اور ججوں نے (ایک کے سوا) انھیں مجرم قرار دیا۔ شیخ مجیب الرحمان کو میانوالی جیل منتقل کردیا گیا۔ سولہ دسبر کو پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مجیب الرحمن کو پاکستان سے رہا کیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کے پہلے سربراہ حکومت بنے۔ کمیونسٹ سندھی رہنما حیدر بخش جتوئی کو متعدد بار ان کےسیاسی خیالات کی بنا پرگرفتار کیاگیا۔ جولائی انیس سو اڑسٹھ میں ان کو ان کے ساتھیوں سمیت ایک بار گرفتار کیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ وہ پاکستان کو توڑنے کی تقریریں کررہے ہیں اور صوبائی اور لسانی نفرت پھیلارہے ہیں۔ اگست انیس سو انہتر کو انہیں ایک مارشل لاء عدالت نے دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مارچ انیس سو تہتر میں پاکستان فوج اور ایئر فورس کے کئی افسروں کو اس الزام میں گرفتار کیاگیا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ انھیں اٹک قلعہ میں رکھا گیا جہاں اب مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کو رکھا گیا ہے۔ مارچ انیس سو چوہتر کو فوج کے پندرہ اور فضائیہ کے چار افسروں کو اس الزام میں تین ماہ قید سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی گئی۔ ایک اور اٹک سازش کیس صدر جنرل ضیا الحق کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے جب جنوری انیس سو چوراسی میں چودہ فوجی افسروں اورتین سویلینز پر ، جن میں وکیل رضا کاظم نمایاں تھے، حکومت کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا اور انھیں اٹک قلعہ میں قید کیا گیا۔ الزام تھا کہ انھیں ہندوستان سے اسمگل شدہ اسلحہ مہیا کیا گیا تھا۔ چودہ جولائی انیس سو پچاسی کو بارہ ملزموں کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا جبکہ تین ملزموں کو سزا سنائی گئی اور وہ انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے پر رہا کیے گئے۔ پیپلز پارٹی سرحد کے سربراہ حیات محمد شیرپاؤ ایک بم دھماکے میں مارے گئے تو وفاق میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے رہنماؤں پر ان کے قتل کا الزام لگایا گیا۔ پارٹی کے تمام مرکزی رہنما جن میں عبدل ولی خان، عطا مینگل، غوث بخش بزنجو وغیرہ شامل تھے، گرفتار کرلیے گئے۔
حکومت نے نیپ پر پابندی لگا دی اور اس کے خلاف علیحدگی پسند جماعت ہونے کے الزام میں ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیج دیا جس نے انیس سو پچھتر میں اس کے تحلیل کیے جانے کو درست قرار دیا۔ اپریل انیس سو چہتر میں حیدرآباد جیل میں نیپ کے پچپن ملزموں کے خلاف بغاوت کے الزام میں ایک مقدمہ کی سماعت شروع ہوگئی۔ صدر جنرل ضیاالحق نے انیس سو اٹھہتر میں حیدرآباد ٹریبیونل توڑ دیا اور عدم ثبوت کی بنا پر ملزموں کو رہا کردیا۔ صدر جنرل ضیاالحق کے دور اقتدار میں میجر جنرل تجمل حسین ملک شریعت کے نفاذ کے لیے جنرل ضیاء کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کےالزام میں فوج سے نکالے گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انیس سو اسی میں ان پر ایک بار یہ الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد سے جنرل ضیا کا تختہ الٹنے کی سازش کررہے تھے۔ میجر جنرل تجمل حسین اور ان کے ساتھیوں پر فیلڈ کورٹ مارشل پر مقدمہ چلا جن سے انھیں مختلف سزائیں ملیں۔ تجمل حسین کو اکتوبر انیس سو اٹھاسی میں ایک فصائی حادثے میں جنرل ضیاء کے ہلاک ہونے کے بعد رہا کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||