قومی مصالحتی آرڈیننس جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈیننس صدر مشرف کی منظوری کے بعد جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے قومی مصالحتی آرڈیننس منظور کرتے ہوئے اُسے فوری نفاذ کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھجوایا تھا۔ یہ بات کابینہ میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات محمد علی درانی، وزیر قانون زاہد حامد اور حکمران مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد محض بینظیر بھٹو اور ان کے حامیوں کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ ملک میں وسیع تر قومی مصالحت پیدا کرنا ہے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ احتساب بیورو سے جن لوگوں نے رضا کارانہ طور پر مقدمات ختم کروائے اور رقوم ادا کردی ہیں یا ایسے مقدمات جن میں عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں نہیں ہوئیں یا کوآپریٹو سوسائٹیز و مالیاتی اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے درج کرائے گئے ہیں ان پر قومی مصالحت آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد بھی احتساب بیورو قائم رہے گا لیکن آئندہ کسی رکن پارلیمان یا صوبائی اسمبلی کو نیب والے پارلیمانی یا صوبائی اسمبلی کی کمیٹی کی پیشگی اجازت کے بنا گرفتار نہیں کر پائیں گے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اب ’نیب‘ پارلیمان کو جوابدہ ہوگا۔ وزیر قانون کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں میں متعلقہ کمیٹیوں میں حکومت اور حزب مخالف کی برابر کی نمائندگی ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق فوجداری مقدمات میں اراکین اسمبلی کو پولیس اور متعلقہ اداروں کوگرفتار کرنے کا اختیار ہوگا۔ سید مشاہد حسین نے کہا کہ قومی مصالحت کے قانون کی ایک اہم شق عام انتخابات میں دھاندلی کو روکنے کے بارے میں بھی ہے جس کے تحت ان کے بقول اب ریٹرننگ افسر اپنے دستخط سے الیکشن نتائج جاری کریں گے اور الیکشن کمیشن انہی نتائج کو تسلیم کرنے کا پابند ہوگا۔ نیوز بریفنگ میں سید مشاہد حسین نے بتایا کہ پیپلز پارٹی سے بات چیت کے لیے چودھری شجاعت کی سربراہی میں کمیٹی بنی جس میں وہ (مشاہد) اور حامد ناصر چٹھہ شامل تھے۔ جبکہ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی ٹیم راجہ پرویز اشرف اور صفدر عباسی پر مشتمل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چوبیس سے چھبیس ستمبر تک اور بعد میں ستائیس سے تیس ستمبر تک اسلام آباد میں مذاکرات کے متعدد راؤنڈ ہوئے اور تقریباً اس دوران بائیس گھنٹے کی بات چیت کے بعد قومی مصالحت آرڈیننس کا متن تیار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈرافٹ کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے فاروق نائک اور صفدر عباسی جبکہ مسلم لیگ (ق) کے مشاہد اور زاہد حامد شامل رہے۔ سید مشاہد حسین نے تاثر دیا کہ بات چیت پارٹی سطح پر اسلام آباد میں طے ہوئی لیکن اس سے پہلے صدر کے نمائندے طارق عزیز اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی براہ راست بینظیر بھٹو اور رحمٰن ملک سے بات چیت کرنے کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ صحافیوں نے نیوز کانفرنس میں حکومتی ٹیم پر سوالات کی بوچھاڑ کردی کہ کل تک جنرل مشرف سے لے کر محمد علی درانی تک سب بینظیر کو کرپٹ کہتے رہے اور ان کی کردار کُشی کرتے رہے اب تعریف کیوں؟ کچھ صحافیوں نے سخت لہجے میں وزیر اطلاعات سے سوال کیا کہ قوم کو بتائیں کہ بینظیر بھٹو کو بدعنوان ثابت کرنے کے لیے جو مقدمات بنے ان پر کتنے اخراجات قومی خزانے سے خرچ ہوئے؟ اس طرح کے سارے سوالات کا کوئی بھی سرکاری نمائندہ واضح جواب نہیں دے پایا۔ حکومتی نمائندوں سے جب پوچھا گیا کہ قومی مصالحت کرنی ہے تو پھر محض بینظیر سے کیوں؟ تو اس پر سید مشاہد حسین اور دیگر نے کہا کہ حکومت سب سے بات کرے گی۔ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سمیت ان کے متعدد حامی قومی مصالحت کے اس قانون کی مخالفت کرتے رہے اور چودھری شجاعت حسین نیوز کانفرنس میں بھی نہیں تھے۔ اس کی نشاندہی پر سید مشاہد حسین نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے سب کو اعتماد میں لینے کے لیے جمعہ کو افطار ڈنر دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت جو مقدمات ختم ہو رہے ہیں وہ دوبارہ کبھی نہیں کھولے جائیں گے۔ جبکہ سیاسی انتقام کی بنا پر جو بھی جھوٹے مقدمات ختم ہوں گے، وہ مقدمات بنانے والے احتساب بیورو یا کسی سرکاری ادارے کے ملازم کے خلاف کوئی دعویٰ داخل ہوگا اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی ہوسکے گی۔ |
اسی بارے میں پی پی سے شراکتِ اقتدار ممکن:مشرف03 October, 2007 | پاکستان استعفے بھی دے سکتے ہیں: بے نظیر03 October, 2007 | پاکستان ’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘03 October, 2007 | پاکستان مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر04 October, 2007 | پاکستان سندھ:پیپلز پارٹی ارکان کےاستعفے04 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||