مفاہمت ہو گئی، آرڈیننس کا انتظار ہے: بےنظیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات پر مفاہمت ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ زبانی طے ہونے والے معاملات جمعرات کی رات تک آرڈیننس کی شکل میں سامنے آ جائیں گے۔ بے نظیر بھٹو نے جمعرات کو لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات مخدوم امین فہیم اور صدر کے معاونین کے درمیان بات چیت کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں اور اس بات چیت کی روشنی میں قومی مفاہمت آرڈیننس کامسودہ تیار کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ قومی مفاہمت کے آرڈیننس کا متن نہیں دیکھ لیتیں اس وقت تک صدر کے ساتھ مفاہمت ہونے کے بارے میں حتمی اعلان نہیں کر سکتیں لیکن وہ اس بارے میں بہت پر امید ہیں کہ جو طے ہوا ہے آرڈیننس اس کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر سے مفاہمت ہو جانے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کو ووٹ نہیں دے گی کیونکہ پیپلز پارٹی اصولی طور پر باوردی صدر کو ووٹ نہیں ڈال سکتی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا اس صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی یا تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے گی یا پھر اپنے امیدوار مخدوم امین فہیم کو ووٹ ڈالے گی۔
گزشتہ روزحکومت کے ساتھ بات چیت کے تعطل کا شکار ہونے کے بارے میں اپنے بیان پر انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات کافی مشکل کا شکار تھے اور وہ حکومت کے ساتھ مفاہمت کے بارے میں نا امید ہو چکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد صدر نے یہ اعلان کیا کہ وہ سیاسی جماعتوں سے مفاہمت چاہتے ہیں جس کی روشنی مخدوم امین فہیم اور صدر کے معاونین کے درمیان بات چیت میں معاملات طے پا گئے۔ ایک موقعہ پر انہوں کہا کہ گو وہ اس بارے میں کافی پر امید ہیں لیکن آخر وقت میں بھی کوئی خرابی پیدا ہونے کے امکان کو انہوں نے رد نہیں کیا۔ بے نظیر بھٹو نے حکومت سے طے پانے والے معاملات کی تفصیل نہیں بتائی اور کہا کہ جب تک آرڈیننس جاری نہیں کر دیا جاتا وہ کوئی حتمی بات نہیں کر سکتیں۔ قومی مفاہمت آرڈیننس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب تک وہ تحریری شکل میں اسے نہیں دیکھ لیتی وہ نہیں کہ سکتیں کہ وہ کہاں کھڑی ہیں۔ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر قانونی پابندی کے بارے میں ایک سوال پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور وقت آنے پر اس بارے میں بھی اعلان کر دیا جائے گا۔ صدر کو آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت حاصل اختیارات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت کے دوسری اسٹیج میں عام انتخابات ہونے ہیں جن کی بین الاقومی مبصرین کی طرف سے توثیق کی جانی ہے اور اس کے بعد صدر کو دوبارہ پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہے۔ انہوں نے کہا اسی مرحلے پر آرٹیکل 58 ٹو بی کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدارتی انتخاب میں حصہ لے کر پیپلز پارٹی صدر جنرل مشرف کو اخلاقی جواز فراہم نہیں کرے گی بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اگر ہم باوردی صدر کو ووٹ ڈالتے ہیں تو ہم ان کے انتخاب کو اخلاقی جواز فراہم کریں گے۔ صدارتی انتخاب میں صرف حصہ لینے سے جنرل پرویز مشرف کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر دو آراء پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک رائے یہ ہے کہ اگر پارٹی انہیں ووٹ دیتی ہے تو یہ صدارتی انتخاب کو اخلافی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی باوردی صدر کو ووٹ نہیں ڈالے گی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی باقی جماعتوں کی طرح منتخب ایوانوں سے استعفے نہیں دے گی۔ بے نظیر بھٹو نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے تحت پارلیمنٹری کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور کسی بھی رکنِ پارلیمنٹ کو ان کمیٹیوں کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ مقدمات واپس لینے کے حوالے سے ایک بیان پر بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک جمہوری پارٹی ہونے کے حوالے سے تمام سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف قائم کیئے جانے والے مقدمات واپس لینے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی کسی فردِ واحد کے لیے کوئی ڈیل نہیں کی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے آصف زرداری کا ذکر کیا کہ انہوں نے آٹھ سال قید کی سزا کاٹی لیکن پارٹی نے کوئی ڈیل نہیں کی۔ | اسی بارے میں پی پی سے شراکتِ اقتدار ممکن:مشرف03 October, 2007 | پاکستان استعفے بھی دے سکتے ہیں: بے نظیر03 October, 2007 | پاکستان ’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘03 October, 2007 | پاکستان مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر04 October, 2007 | پاکستان سندھ:پیپلز پارٹی ارکان کےاستعفے04 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||