BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر سرکاری نتائج، پانچ سال اور؟

جنرل مشرف
صدارتی انتخاب کا نتیجہ جنرل مشرف کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہے
پاکستان کے متنازعہ صدارتی انتخابات میں غیر سرکاری طور پر اعلان کردہ نتائج کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے تین سو چھیاسی ووٹوں سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

آئینی فارمولے کے تحت جنرل مشرف کو اس صدارتی انتخاب میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو سو باون ، پنجاب سے چوالیس، سندھ سے انتالیس، بلوچستان سے تینتیس اور سرحد سے اٹھارہ ووٹ ملے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کے مطابق صدارتی انتخاب میں قومی اسمبلی کے کل تین سو بیالیس میں سے ایک سو ننانوے اراکین نے ووٹ ڈالے جبکہ سینیٹ کے ایک سو اراکین میں سے اٹھاون اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں کل ملا کر دو سو ستاون ووٹ پڑے جن میں سے جنرل پرویز مشرف کو دو سو باون ووٹ ملے۔ دو ووٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ملے جبکہ تین ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

پاکستان میں صدارتی انتخاب کے بارے میں آئینی فارمولے کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے فی رکن کا فی ووٹ گنا جاتا ہے جبکہ دیگر اسمبلیوں میں کاسٹ ہونے والے ووٹوں کو پینسٹھ سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل نشستوں سے تقسیم کریں گے تو جو بھی حاصل آئےگا وہ ووٹ گنے جائیں گے۔

بلوچستان اسمبلی کے کل پینسٹھ اراکین ہیں اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اعلان کے مطابق وہاں کل تینتیس ووٹ کاسٹ ہوئے جو صدر جنرل پرویز مشرف کو ملے۔ ان کے فارمولے کے مطابق تینتیس ووٹ ہی گنے جائیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پنجاب اسمبلی میں پریزائڈنگ افسر کے مطابق تین سو اکہتر کے ایوان میں کل دو سو ستاون ووٹ کاسٹ کیے گئے جس میں سے ایک ووٹ مسترد کردیا گیا، تین ووٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور دو سو تریپن ووٹ جنرل پرویز مشرف کو ملے۔

صدارتی انتخاب میں آئینی فارمولے کے مطابق پنجاب میں جنرل پرویز مشرف کے ووٹ اصل میں چوالیس ووٹ گنے جائیں گے۔

صوبہ سرحد کے پریزائیڈنگ افسر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور ان کے اعلان کے مطابق ایک سو چوبیس اراکین پر مشتمل ایوان میں کل چونتیس ووٹ ڈالے گئے جن میں سے جنرل مشرف کو اکتیس اور ایک ووٹ جسٹس(ر) وجیہہ الدین کو ملا جبکہ دو ووٹ مسترد ہوگئے۔ جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے اکتیس ووٹ صدارتی آئینی فارمولے کے مطابق اٹھارہ ووٹ گنے جائیں گے۔

صوبہ سندھ میں ایک سو اڑسٹھ اراکین کے ایوان میں ایک سو چار اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے ہیں جن میں سے جنرل مشرف کو 102 ووٹ ملے ہیں اور آئینی فارمولے کے مطابق انہیں ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد انتالیس ہے۔

مشرف اشتہارزبردست تشہیر
تاریخ کا مہنگا ترین صدارتی الیکشن
اے دلِ خوش فہم
جرنیل، حزب اقتدار و حزب مخالف، بدلا کچھ نہ
صدر پاکستان کا سرکاری نشانصدارت کی کہانی
پاکستان کے بااختیار اور بے اختیار صدور
قومی اسمبلیلمحہ بہ لمحہ
فیلڈ میں موجود ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
اضافی نوٹ
جنرل مشرف انتخاب نہیں لڑسکتے:جسٹس فلک شیر
صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
معنی خیز تبدیلیاں
پاکستان فوج کے چھ جرنیلوں کی ترقی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد