BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 October, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آدھی اسمبلی میں مشرف کی حمایت

بلوچستان اسمبلی
حزب اختلاف کی عدم موجودگی میں ووٹنگ خاموشی سے ہوئی
صدر کے انتخاب کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں تینتیس اراکین نے ووٹ ڈالے ہیں اور سب کے سب صدر پرویز مشرف کے حق میں پڑے ہیں۔ ان میں حکمران مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعت کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے دو منحرف ارکان اور جمہوری وطن پارٹی کے چار ارکان شامل ہیں۔

ووٹنگ کی شرح
 اسمبلی میں کل نشستیں 65، استعفوں کے بعد ارکان کی تعداد 38، ووٹ ڈالے گئے 33 جو سب جنرل مشرف کو ملے
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ پریزائیڈنگ آفیسر تھے اور ان کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ جسٹس ریٹائرڈ وجییہ الدین کے پولنگ ایجنٹ باز محمد کاکڑ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ پریزائیڈنگ آفیسر نتائج کا اعلان نہیں کر سکتے جسے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائےگا۔

حکمران مسلم لیگ کے ایک رکن میر بختیار ڈومکی اور آزاد رکن بالاچ مری اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے لیکن دو اراکین کے نا اہل اور دو کے مستعفی ہونے کے یہ تعداد پہلے ہی اکسٹھ رہ گئی تھی۔ اب مجلس عمل، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے تئیس اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد اسمبلی کے ارکان کی تعداد اڑتیس رہ گئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے باہر حزب اختلاف کی جماعتوں کا مظاہرہ(فائل فوٹو)

حکمران مسلم لیگ کے وزیر ہونے کے باوجود نواب اکبر بگٹی کے نواسے میر بختیار ڈومکی نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر سخت احتجاج کیا تھا اور وزارت سے استعفی دے دیا تھا۔

متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ خانم اور خان قلات کے خاندان سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی پرنس فیصل داؤد نے بھی آج اتحاد کے فیصلے کے باوجود اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔ دونوں اراکین نے استعفے دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن سپیکر بلوچستان اسمبلی کے نوٹیفیکیشن کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کے استعفے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

پرنس آغا فیصل داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مجلس عمل کے مرکزی اور صوبائی قیادت کا احترام کرتے ہیں لیکن حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اب انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام نہیں لکھوانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے صوبہ سرحد میں کوئی استعفے نہیں دیے اور یہاں استعفے دینے کا پھر کیا مقصد ہے۔

ووٹ کیوں دیا
 ہم مجلس عمل کی مرکزی اور صوبائی قیادت کا احترام کرتے ہیں لیکن حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اب انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام نہیں لکھوانا چاہتے تھے۔ جمعیت علماء اسلام نے صوبہ سرحد میں کوئی استعفے نہیں دیے اور یہاں استعفے دینے کا پھر کیا مقصد ہے
ایم ایم اے رکن، پرنس آغا فیصل داؤد
ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی وزارت میں پانچ سالوں میں کوئی پچیس ارب روپے کے منصوبے تھے اور اب یہ فیصلہ انہوں نے دباؤ میں کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت میں کوئی پچیس ارب روپے کے منصوبے نہیں تھے اور ناں ہی انہوں نے دباؤ میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔

ان سے جب کہا گیا کہ آپ یہاں صدر پرویز مشرف کو ووٹ دینے آئے ہیں اور ادھر خان قلات بلوچستان کے حوالے سے عالمی عدالت میں بلوچستان کا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انھیں حق اللہ تعالی نے دیا ہے اور وہ کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کے چار اراکین اسمبلی حاجی جمعہ بگٹی، سلیم کھوسہ، ممتاز شاہ اور ربابہ خان نے بھی اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ کو سب معلوم ہے اور چلے گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دو اراکین اسمبلی اسلم رئیسانی اور شفیق احمد نے مرکزی قیادت کے فیصلے پر عملدرآمد کر تے ہوئے لاتعلق رہے۔

اسی بارے میں
مہنگا ترین صدارتی الیکشن
06 October, 2007 | پاکستان
ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
06 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد