آدھی اسمبلی میں مشرف کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر کے انتخاب کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں تینتیس اراکین نے ووٹ ڈالے ہیں اور سب کے سب صدر پرویز مشرف کے حق میں پڑے ہیں۔ ان میں حکمران مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعت کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے دو منحرف ارکان اور جمہوری وطن پارٹی کے چار ارکان شامل ہیں۔
حکمران مسلم لیگ کے ایک رکن میر بختیار ڈومکی اور آزاد رکن بالاچ مری اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے لیکن دو اراکین کے نا اہل اور دو کے مستعفی ہونے کے یہ تعداد پہلے ہی اکسٹھ رہ گئی تھی۔ اب مجلس عمل، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے تئیس اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد اسمبلی کے ارکان کی تعداد اڑتیس رہ گئی ہے۔
حکمران مسلم لیگ کے وزیر ہونے کے باوجود نواب اکبر بگٹی کے نواسے میر بختیار ڈومکی نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر سخت احتجاج کیا تھا اور وزارت سے استعفی دے دیا تھا۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ خانم اور خان قلات کے خاندان سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی پرنس فیصل داؤد نے بھی آج اتحاد کے فیصلے کے باوجود اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔ دونوں اراکین نے استعفے دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن سپیکر بلوچستان اسمبلی کے نوٹیفیکیشن کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کے استعفے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ پرنس آغا فیصل داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مجلس عمل کے مرکزی اور صوبائی قیادت کا احترام کرتے ہیں لیکن حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اب انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام نہیں لکھوانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے صوبہ سرحد میں کوئی استعفے نہیں دیے اور یہاں استعفے دینے کا پھر کیا مقصد ہے۔
ان سے جب کہا گیا کہ آپ یہاں صدر پرویز مشرف کو ووٹ دینے آئے ہیں اور ادھر خان قلات بلوچستان کے حوالے سے عالمی عدالت میں بلوچستان کا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انھیں حق اللہ تعالی نے دیا ہے اور وہ کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے چار اراکین اسمبلی حاجی جمعہ بگٹی، سلیم کھوسہ، ممتاز شاہ اور ربابہ خان نے بھی اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ کو سب معلوم ہے اور چلے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دو اراکین اسمبلی اسلم رئیسانی اور شفیق احمد نے مرکزی قیادت کے فیصلے پر عملدرآمد کر تے ہوئے لاتعلق رہے۔ | اسی بارے میں غیر سرکاری نتائج، مشرف پانچ سال اور؟06 October, 2007 | پاکستان مہنگا ترین صدارتی الیکشن06 October, 2007 | پاکستان ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا06 October, 2007 | پاکستان وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||