کوئٹہ میں مظاہرہ اور شٹرڈاؤن ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں سنیچر کو صدر کے انتخاب کے موقع پر کڑے حفاظتی انتظامات کے باوجود وکلاء نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی اپیل پر صوبے میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔ زرغون روڈ پر واقع بلوچستان اسمبلی اور گورنر و وزیر اعلیٰ ہاؤس کی حفاظت کے لیے پولیس اور فرنٹئر کور کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے تھے۔ عام شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد تھی اور سڑکوں پر بڑے بڑے ٹرک کھڑے کر دیے گئے تھے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے وابستہ وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا اور رکاوٹوں کے باوجود بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے پہنچ گئے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ ان نعروں میں ’گو مشرف گو‘، ’مشرف کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ اور ’جنرل بینظیر مردہ باد‘ نمایاں تھے۔
وکلاء نے ضلع کچہری کے سامنے اپنی تقریروں میں کہا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لیے وہ ہر سطح پر احتجاج کریں گے۔ ہادی شکیل ایڈووکیٹ اور حبیب جالب ایڈووکیٹ نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ غیر جمہوری طریقوں سے صدر کو آئندہ پانچ سالوں کے لیے منتخب کرنے سے ملک میں انتشار پھیلے گا۔ اس کے علاوہ سنیچر کو آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ، اے پی ڈی ایم کی اپیل پر بلوچستان میں تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہی ہیں۔ صوبے کے بعض علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی کے قائدین بھی وکلاء کے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال کامیاب رہی ہے اور یہ کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کا مقصد جمہوری طریقے سے احتجاج کرنا اور جنرل مشرف پر یہ اختلاقی دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ اقتدار چھوڑ کر جمہوری نظام کو آگے بڑھنے دییں۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم میں اختلاف رائے ضرور ہے لیکن کوئی اختلافات نہیں ہیں جو کچھ ہے اسے بہتر انداز میں حل کر لیا جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنما عبدالقادر لونی نےکہا ہے کہ بلوچستان کی حد تک اے پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور سنیچر کی ہڑتال مشترکہ کوششوں سے کامیاب ہوئی ہے۔
عام لوگوں سے جب پوچھا گیا کہ صدر کے انتخاب کے حوالے بلوچستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے تو بیشتر نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے کیا کچھ ہوا ہے فوجی آپریشن، بےگناہ لوگوں کوگھروں سے اٹھا کر غائب کر دینا، بزرگ سیاستدان نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور سردار اختر مینگل کی گرفتاری یہ سب کچھ مشرف دور کے تحفے ہیں اور آئندہ بھی یہی کچھ ہوگا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اب تو وہ وردی اتار رہے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ وردی اتارنے سے ذہن تو تبدیل نہیں ہوتا وہی رہتا ہے۔ | اسی بارے میں وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان آدھی اسمبلی میں مشرف کی حمایت06 October, 2007 | پاکستان صدارتی الیکشن، احتجاج کا اعلان06 October, 2007 | پاکستان غیر سرکاری نتائج، مشرف کامیاب06 October, 2007 | پاکستان صدارتی الیکشن پولنگ، فیصلہ بعد میں06 October, 2007 | پاکستان انتخاب وقت پر، نتائج بعد میں05 October, 2007 | پاکستان سولہ کروڑ عوام ہمارے ساتھ:وجیہہ 05 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||