سپیکرسرحد اسمبلی پر عدم اعتماد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل میں شامل صوبہ سرحد کی حکمران جماعت جمیعت علماء اسلام نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہان خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد جمع کرادی ہے۔ عدم اعتماد کی یہ قرارداد جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داؤدزئی نےسنیچر کو اسمبلی کے سیکریٹری کے پاس جمع کرادی جس پر جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے نو ارکان کے دستخط ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےآصف اقبال داؤد زئی نے سپیکر پر الزام لگایا کہ ان کی وجہ سے صدارتی انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرانے کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے۔ ان کے بقول سپیکر نے قواعد و ضوابط کو معطل نہ کر کے جنرل مشرف کے حمایت یافتہ جماعتوں پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ قائداعظم کو وزیراعلیٰ سرحد کے خلاف عدم اعتماد پیش کرنے کا موقع دیا۔ صوبہ سرحد اسمبلی میں مسلم لیگ قائداعظم کے پارلیمانی لیڈر مشتاق غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے سپیکر بخت جہان خان کی مکمل حمایت کرے گی۔ واضح رہے کہ سرحد اسمبلی نے اپنے رواں اجلاس کے دوران بیک وقت اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ جب کہ حکمران جماعت جمیعت علماء اسلام کی طرف سے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ متحدہ مجلس عمل سرحد اسمبلی میں اپنی سابقہ حلیف جماعت جمیعت علماء اسلام (س) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپیکر اکرام للہ شاہد کو پہلے ہی ہٹا چکی ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سپیکر سرحد اسمبلی بخت جہاں خان کے خلاف جمیعت علماء اسلام (ف) کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے بعد متحدہ مجلس عمل کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مستقبل کی سیاسی صف بندی میں متحدہ مجلس عمل کی ان دو بڑی جماعتوں کے راستے ایک دوسرے سے الگ ہو سکتے ہیں۔ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے چھتیس اراکین اسمبلی نے صدارتی انتخابات سے ایک روز قبل یعنی جمعہ کو اسمبلی سے مستعفی ہوکر جمیعت علماء اسلام کو ایک سخت سیاسی دھچکہ پہنچایا تھا۔اے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ جمیعت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے استعفوں کی بجائے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے فیصلہ پر ڈٹے رہنے سے جنرل پرویزمشرف کو فائدہ پہنچایا ہے۔ تا کہ ان کے بقول اسمبلی کو برقرار رہنے سےصدر کاحلقہ انتخاب متاثر نہ ہو۔ اے پی ڈی ایم کے اس فیصلے کے خلاف جمعہ کو وزیر اعلی سرحد کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئےمتحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ جمیعت علماء اسلام اے پی ڈی ایم کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں مرکزی مجلس شوری سے منظوری لےگی۔
ان کے بقول جمیعت علماء اسلام متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے آئندہ اجلاس میں بھی اپنے تحفظات پیش کرے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ان کی متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کے ساتھ کئی مرتبہ فون پر بات ہوئی تھی تاہم انہوں نے اس دوران اسمبلی سے مستعفی ہونے کے معاملے کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا۔ تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت اب بھی خود کو اے پی ڈی ایم کی جانب سے سرحد اسمبلی کو تحلیل کرانے کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کا پابند سمجھتی ہے اور آٹھ اکتوبر کو وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے بعد سرحد اسمبلی کو تحلیل کردیا جائے گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ’قومی مصالحت‘ کے تحت ہونے والی مفاہمت کے بارے میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ ’قومی‘ نہیں بلکہ ’افراد کے درمیان‘ مصالحت ہے، جو ان کے بقول امریکہ کی دباؤ کے تحت ہو رہی ہے۔ اس موقع پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے دعوی کیا کہ آٹھ اکتوبر کو عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ان کے پاس اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سپیکر سرحد اسمبلی بخت جہاں خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اجلاس کے پہلے ہی روز مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق کی جانب سے کی گئی درخواست کو رد کرتے ہوئے اسمبلی کے قواعد اور ضوابط کو معطل نہیں کیا تاکہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے لیتے۔ دریں اثناء سرحد اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپیکر نے جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے چھتیس ارکانِ اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ جمعہ کو مستعفی ہونے والے اراکینِ اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے چوبیس، عوامی نیشنل پارٹی کے آٹھ اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے چار ارکان شامل ہیں۔ اس وقت سرحد اسمبلی میں اٹھاسی ارکان اسمبلی میں سے سپیکر کے علاوہ حکمران جماعت جمیعت علماء اسلام کو چوالیس جبکہ جنرل مشرف کی حمایت یافتہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ، مسلم لیگ قائداعظم کو پینتیس ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹررین کے ارکان کی تعداد نو ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد: استعفوں پر اختلافات جاری04 October, 2007 | پاکستان 164 ارکان نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر01 October, 2007 | پاکستان ’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘01 October, 2007 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان پاکستانی اخبارات کی سرخیاں03 October, 2007 | پاکستان سندھ اسمبلی: ایم ایم اے رکن باغی02 October, 2007 | پاکستان بلوچستان اسمبلی میں کشیدگی02 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||