BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وردی خیرات میں نہیں اتار رہے‘

اعتزاز احسن
آئین کے علاوہ آرمی ایکٹ بھی چیف آف آرمی سٹاف کو سیاست میں حصہ لینےسے روکتا ہے : اعتزاز احسن
قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو پندرہ نومبر کے بعد ہر صورت میں وردی اُتارنی ہوگی اور وہ یہ کام خیرات میں نہیں کریں گے بلکہ پاکستانی عوام نےصدر کے وردی میں رہنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی طرف سے دائر آئینی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے تحت جنرل پرویز مشرف کو پندرہ نومبر دو ہزار سات تک دو عہدے رکھنے کی اجازت دی گئ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ستریویں ترمیم جنرل مشرف کو اگلی مدت کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے اردگرد ایک آئینی حصار ہے جس کو توڑنا بہت مشکل ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آئین کی دفعہ دو سو بیالیس سے دو سو پنتالیس تک اور آرمی ایکٹ کی دفعہ چونتیس اور پچپن کے تحت فوج کا سربراہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی کوئی دوسرا عہدہ رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ایک سیاسی عہدہ ہے اور کوئی فوجی اہلکار سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے استفسار کیا کہ کیا سترہویں ترمیم نے آرمی چیف کے اردگرد جو آئینی حصار تھی وہ ٹوٹ نہیں گئی جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سترہویں ترمیم صدر کے لیے پاس کی گئی تھی آرمی چیف کے لیے نہیں اور یہ صرف ایک مدت کے لیے تھی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر فوج کے خلاف بات کریں تو جاوید ہاشمی کی طرح تئیس سال قید کی سزا ہوتی ہے ججوں کے خلاف بات کریں تو چھ ماہ کی قید ہے اور اگر مولوی کے خلاف بات کریں تو فتوی آ جاتا ہے اور گولی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے چاہیے تھے کیونکہ آئین کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم دوران سروس انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف کاعذات نامزدگی داخل کروانے سے پہلے اپنی دوری بھی اُتار دیتے تب بھی وہ الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں تھے کیونکہ سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر ہوتی ہے لیکن ایک سیاستدان کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف دو بار صدر رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی مدت اکیس جون دو ہزار ایک کو شروع ہوئی تھی اور ان کی دوسری مدت پندرہ نومبر دو ہزار سات کو ختم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا الیکشن ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد ہونا چاہیے تھا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل مشرف نے وردی میں الیکشن لڑا اور وردی میں ہی لوگوں سے ووٹ مانگے۔

انہوں نے کہا کہ جب الیکشن میں حصہ لینے کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی داخل کروائے جاتے ہیں تو اسی وقت سے اہلیت کی دفعہ لاگو ہوجاتی ہے۔ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف
06 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد