صدارتی انتخاب دوبارہ ہو سکتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے صدر کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکٹورل کالج ایک سے زیادہ مرتبہ بھی صدر کا انتخاب کر سکتا ہے۔ یہ ریمارکس انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کے وکیل ڈاکٹر فاروق حسن کی اس دلیل کے جواب میں دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ الیکٹورل کالج دو مرتبہ صدر کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ جسٹس رمدے کا کہنا تھا کہ صدر کی موت یا مستعفی ہونے کی صورت میں بھی انہی ایوانوں کو دوبارہ انتخاب کرنا پڑتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو ملک میں بدنظمی اور انتشار پھیل جائے گا۔ تاہم ایک اور موقع پر جسٹس خلیل الرحمان نے کہا کہ ان کی آبزرویشنز کا کوئی مطلب نہیں ہوتا البتہ میڈیا والے انہیں استعمال کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی لارجر بنچ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں صدر کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق حسین نے چیف الیکشن کمشنر کے صدارتی انتخاب کے قوانین میں ترامیم کے اختیار کو بھی چیلنج کیا جبکہ ان کا موقف تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف تیسری مرتبہ منتخب نہیں ہو سکتے۔ ان کے دلائل کے دوران ججوں کی جانب سے ان پر کڑی تنقید ہوئی اور دلچسپ ریمارکس بھی جاری رہے۔ ڈاکٹر فاروق نے جب امریکی آئین کا حوالہ دینا چاہا تو جسٹس جاوید اقبال نے انہیں ایسا کرنے سے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ ن کا آئین ہمارے آئین سے مختلف ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ وہ امریکہ میں پڑھانے اکثر جاتے رہے ہیں اس لیے یہ حوالہ دے رہے ہیں تو جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ کیا وہ (امریکی) ان کو تمام سال پڑھانے کے لیے نہیں روک سکتے۔ جسٹس جاوید اقبال نے تاہم ان کو یہ کہتے ہوئے مزید دلائل دینے سے روک دیا کہ انہوں نے محنت تو بہت کی ہے لیکن یہ کسی اور مقدمے میں شاید کام آئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق نے عدالت میں اپنا ایک مضمون پیش کیا جس کا عنوان تھا: ’تمام نظریں عدالت پر‘۔ بنچ کے اکثر ججوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ عنوان درست نہیں۔ اس سے قبل صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کے وکیل لطیف کھوسہ کی غیرموجودگی میں ان کے ساتھی وکیل شفقت عباسی نے عدالت کو بتایا کہ اعتزاز احسن کے دلائل کو ان کے دلائل بھی تصور کیا جائے۔ بعد میں عدالت میں حکومت کے جانب سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ صدر کے انتخاب سے کسی کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی اس انتخاب کو کسی عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزراوں نے اپنی پٹیشن میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ صدر مشرف کے انتخاب سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ صدر کا امیدوار ہونا قانون کے مطابق ہے اور وہ تیسری نہیں بلکہ دوسری مرتبہ منتخب ہو رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ایک ایسے مخالف امیدوار کے جس نے دو فیصد ووٹ بھی نہ لیے ہوں کہنے پر انتخاب کو نہیں روکا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے درخواستیں ناقابل قرار دینے پر اعتزاز احسن نے عدالت میں کھڑے ہوکر کہا کہ درخواستوں کے قابل سماعت نہ ہونے کا معاملہ چونکہ سرکاری وکلاء نے نہیں اٹھایا تھا اس لیے انہوں نے اس پر بات نہیں کی لیکن اب اس بارے میں وہ بھی اپنا موقف پیش کرنا چاہیں گے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ انہیں جواب کے لیے مناسب وقت دیں گے۔ عدالت نے ایک صدارتی امیدوار ڈاکٹر ظہور مہدی کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ان کے کاغذات تجویز کنندہ اور تائید کنندہ نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کیے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ انتخاب لڑنا مذہبی حق تھا اور وہ قانونی و آئینی طور پر اس پر پورا اترتے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے ان سے دریافت کیا کہ قرآن میں کہاں صدارتی انتخاب کا ذکر ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ وہ شکر ادا کریں وہ انہیں سزا نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سب مذاق کر رہے ہیں لیکن آپ نے کچھ زیادہ ہی کر لیا ہے۔ عدالت کل بھی ان درخواستوں کی سماعت جاری رکھے گی۔ عدالت اس مقدمے کا فیصلہ جلد کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم پیر کو اعتزاز احسن کی جانب سے جواب دینے کے لیے مناسب وقت مانگنے سے اس کے طول پکڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ |
اسی بارے میں آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج08 October, 2007 | پاکستان وجیہہ کے بیان پر سپریم کورٹ برہم04 October, 2007 | پاکستان قواعد میں تبدیلی، پٹیشن مسترد24 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||