آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور ممتاز سیاستدان ڈاکٹر مبشر حسن نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کر دیا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے وکیل سلمان اکرم راجہ کے توسط سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آرڈیننس آئین کے منافی ہونے کے باعث کالعدم قرار دیا جائے۔ سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت مفاد عامہ کے پیش نظر دائر کی گئی ہے اور اس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں اور قومی احتساب بیورو کو فریق بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے تاہم ان دنوں وہ بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کی قائم کردہ پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) گروپ کے رہنما ہیں۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر مبشر حسن نے یہ درخواست کسی سیاسی جماعت کے رہنماء کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک شہری کی حیثیت سے مفاد عامہ کے تحت دائر کی ہے۔ راجہ سلمان اکرم کے بقول قومی مفاہمت آرڈیننس آئین کے آرٹیکل پچیس کے منافی ہے کیونکہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اوران کے ساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آرڈیننس ایک امتیازی قانون ہے کیونکہ اس آرڈیننس کے تحت ارکان اسمبلی اور بیورو کریٹس کو تحفظ دیا گیا ہے اور اس طرح دیگر شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ قانون عدالتی عمل میں مداخلت ہے اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔ دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ آفس نے قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات کے خلاف ایک اور درخواست اس اعتراض کے ساتھ واپس کردی ہے کہ اس کے ساتھ آرڈیننس کے نقل منسلک نہیں کی گئی ہے۔ یہ درخواست مقامی وکیل نصر اللہ خان نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر کی تھی۔ | اسی بارے میں مصالحتی آرڈیننس پر ملا جلا ردعمل05 October, 2007 | پاکستان قومی مصالحتی آرڈیننس جاری 05 October, 2007 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے05 October, 2007 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق04 October, 2007 | پاکستان سیاستدانوں کی چوکھٹ پر دم توڑتی امید05 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||