سیاستدانوں کی چوکھٹ پر دم توڑتی امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیل ہو رہی ہے ۔۔ ڈیل نہیں ہو رہی۔۔ ’ڈائیلاگ‘ ہو رہے ہیں ۔۔ ڈائیلاگ تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے ان خبروں نے پاکستانی سیاست میں ایک ہیجان برپا کر رکھا تھا۔ خدا خدا کر کے اب یہ ڈائیلاگ جسے مفاہمت کہہ لیجیے یا ڈیل، اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہوئے نظر آ رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے بالآخر کہہ دیا ہے کہ معاملات طے پا گئے ہیں، بس انتظار ایک آرڈیننس کا ہے جس کے بعد پاکستانی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی۔ ملک آمریت سے نکل کر جمہوریت کی طرف جائے گا۔ اتنے طویل عرصے اور اتنے تکلیف دہ عمل کے بعد بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی نے اپنے مطالبات منوا لیے ہیں۔ یہ تو پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے بڑی خوشی کی بات ہونی چاہیے۔ خاص طور پر ان رہنماؤں کے لیے جنہیں گزشتہ چھ ماہ میں کئی مرتبہ پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے خاص طور پر پاکستان سے سفر کر کے لندن آنا پڑا۔
ان میں بہت سے ایسے رہنماء بھی شامل ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں مبتلا ہو کر پارٹی میں آئے تھے اور اپنی زندگیاں پارٹی میں گزارنے کے بعد معتبر ٹھہرے ہیں کہ اجلاسوں میں بلائے جائیں۔ جمعرات کو رحمان ملک کے گھر پر اجلاس میں شرکت کے بعد انہیں بہت پر جوش نظر آنا چاہیے تھا۔ اس اجلاس کے بعد ہی تو اخبارنویس کو بات چیت کی کامیابی کی نوید سنائی جانی ہے۔ ایجوئر روڈ پر رحمان ملک کے پچیس نمبر فلیٹ کے باہر فٹ پاتھ پر اندر بلائے جانے کے انتظار میں کھڑے اخبار نویسوں کو ان رہنماؤں میں سے کوئی ایک بھی اس ڈیل پر خوش اور پرمسرت دکھائی نہیں دیا۔ ایک ایک کر کے سب رہنماء نکلتے رہے ۔۔ راشد ربانی باہر آئے۔ پھر نوید قمر دکھائی دیے، اس کے بعد خالد احمد خان کھرل نکلے اور پھر بابر اعوان دکھائی دیے۔ بہت سے جلدی میں تھے انہیں فلائٹس پکڑنی تھیں۔ لیکن خوشی اور مسرت کے تاثرات کسی کے چہرے پر نہیں تھے۔ قاسم ضیاء، بیگم عابدہ حسین، جہانگیر بدر اور بہت سے پریس کانفرنس میں بھی موجود تھے لیکن اس بظاہر کامیابی پر خوشی ان کے چہروں پر بھی ڈھونڈے نظر نہیں آتی تھی۔ پارٹی کے اندر ڈیل کے بارے میں پائی جانے والی مخالفت کی خبریں کس حد تک درست ہیں یہ ان رہنماؤں کے چہروں سے عیاں تھا۔ ’ہمارے پاس دو راستے تھے ایک خون خرابے کا اور دوسرا بات چیت کا۔ میں نے دو بھائی گنوائے ہیں، پارٹی میں بہت شہداء ہیں۔ میں جانتی ہوں دوسرا راستہ کتنا مشکل ہو سکتا تھا‘ فوجی جنرل سے ہاتھ ملانے کی بے نظیر نے وضاحت کی۔ شائد ایسی وضاحتیں ناجانے اور کتنی مرتبہ کرنی پڑیں۔ بہرحال پارٹی کی کسی فوجی جنرل سے یہ کوئی پہلی ڈیل نہیں ہے۔ انیس سو اٹھاسی میں بھی الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنا آئینی حق لینے کے لیے بھی فوج سے ڈیل کرنا پڑی تھی۔ توجیح یہ دی گئی ورکز گیارہ سال تک پِسنے کے بعد تھک گئے تھے اور اب سکھ کا سانس لینا چاہتے تھے۔
مشرف سے بے نظیر کے رابطے تو دو ہزار ایک میں ہی قائم ہو گئے تھے، لیکن دونوں فریق ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پھر دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد بھی مفاہمت ہونے کو تھی۔ یوں پانچ سال بیت گئے اور پھر رواں سال کے شروع میں رابطوں میں دوبارہ تیزی آتی ہے۔ اس مرتبہ امریکی وزراتِ خارجہ بھی بہت فعال کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اس سال نو مارچ پاکستانی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس دن رونما ہونے والے واقعات کے بعد ایک امید پیدا ہو چلی تھی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فوج کے سیاست میں کردار کو ختم کر دیا جائے۔ قوم آمر کے خلاف کلمہ حق کہنے والے کے ساتھ ہوگئی۔ کالے کوٹ والوں نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ لیکن یہ تمام امیدیں سیاست دانوں کی چوکھٹ پر آ کر دم توڑ گئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||