قانونی سے سیاسی نظریہ ضرورت تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے نظریہ ضرورت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مردے کو تو دفن کر دیا ہے لیکن روح ہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ کیا نظریہ ہے جس کی روح پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے قابو میں بھی نہیں؟ نظریہ ضرورت انیس سو چون میں لکھا گیا۔اس کے مصنف اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس منیر تھے۔ انیس سو چّون میں گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی قانون ساز اسمبلی توڑ دی اور اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا۔ اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے اسمبلی توڑے جانے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس امر کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ لیکن پاکستان کی چیف کورٹ (جس کو اب سپریم کورٹ کہتے ہیں) کے چیف جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کی تحت گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے آئین کی معطلی ضروری تھی۔
اس نظریے کے تحت عدالت عظمٰی نے انیس سو چوّن سے دو ہزار سات تک کئی فوجی حکمرانوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔ نظریہ ضرورت قلمبند کرنے کے چار سال بعد انیس سو اٹھاون میں جنرل ایوب خان نے اسمبلیاں توڑ دیں اور چھپن کا آئین معطل کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس مارشل لاء کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی قرار دیا۔ انیس سو ستتر میں جنرل ضیا الحق نے اسمبلیاں توڑیں اور تہتر کا آئین معطل کیا۔ اس بار بھی سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کو قانونی قرار دیا۔ عدالت عظمٰی نے ریمارکس دیئے کہ جنرل ضیا الحق نے کہا ہے کہ آئین کو معطل کیا جا رہا ہے نہ کہ کالعدم۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جنرل ضیاء نے یہ قدم عوام کی بھلائی کے لیے اٹھایا ہے۔ سنہ دو ہزار میں عدالت عظمٰی نے نہ صرف نظریہ ضرورت کے تحت نواز شریف حکومت کی برخواستگی کو قانونی قرار دیا بلکہ جنرل مشرف کو آئین میں تبدیلی کی بھی اجازت دی۔ اور اسی وجہ سے سپریم کورٹ کو ماضی اور حال میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف ادوار میں سپریم کورٹ پر تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا کہ اس نے نظریہ ضرورت کے تحت فوجی حکمرانوں کو وہ قانونی تحفظ فراہم کیا ہے جس کی ان کو اشد ضرورت تھی۔ لیکن جہاں فوجی حکمران اس قانونی نظریہ ضرورت سے مستفید ہوئے، وہاں سیاستدانوں نے بھی ایک سیاسی نظریہ ضرورت مرتب کیا ہوا ہے جس کی کمائی اکثر فوجی حکمرانوں نے کھائی۔ اس نظریہ ضرورت کے تحت سیاستدان ہر وہ چال جائز سمجھتے ہیں جس سے یا تو ان کو اقتدار حاصل ہو جائے یا پھر ان کا اقتدار قائم رہ سکے۔
سیاسی نظریہ ضرورت پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بالکل ویسے ہی چھایا ہوا ہے جیسے کہ قانونی نظریہ ضرورت اس کی آئینی تاریخ پر۔ پاکستانی مبصرین کے مطابق ستر کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے شفاف اور آزادانہ ترین انتخابات تھے۔ لیکن ان کے نتائج کو تسلیم کرنے سے اس لیے انکار کر دیا گیا کہ منتخب سیاسی جماعتوں کو شراکت اقتدار قبول نہ تھی۔ انیس سو چوراسی میں جنرل ضیاء الحق کی غیر آئینی مجلس شورٰی کی طرف بھی سیاستدان اس طرح لپکے جیسے میٹھے پر چیونٹیاں۔ انیس سو اٹھاسی میں جونیجو حکومت کو ضیاء الحق نے اٹھاون دو بی استعمال کرتے ہوئے برطرف کردیا۔ بینظیر نے اس برطرفی کی مخالفت اس لیے نہ کی کہ ان کی جماعت کو گیارہ سال بعد حکومت ملتی نظر آ رہی تھی۔ بینظیر کے سیاسی نظریہ ضرورت کا نتیجہ یہ نکلا کہ بینظیر کی اپنی دونوں حکومتیں اور نواز شریف کی پہلی حکومت کو اٹھاون دو بی کے تحت ہی بر طرف کیا گیا۔ دو ہزار تین میں سترہویں ترمیم کے حق میں متحدہ مجلس عمل نے ووٹ دے کر جنرل مشرف کو دو عہدے رکھنے کا آئینی حق دے دیا۔ اور اسی نظریے کے تحت دو ہزار سات میں بینظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان پارڈن (معافی) پارٹی بنا کر خود ساختہ جلا وطنی ختم کی۔ اسی سیاسی نظریے کے تحت سیاستدان عوام سے کیے وعدوں کا بھی پاس نہیں رکھتے۔وہ چاہے انیس ستمبر دو ہزار دو کا وہ دستاویز ہو جس کے تحت کرپشن ختم کرنے کا عہد کیا جائے یا چودہ مئی دو ہزار چھ کا چارٹر آف ڈیموکریسی۔ انیس ستمبر دو ہزار دو کے عہد نامے پر صدر جنرل پرویز مشرف سمیت پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ قاف، ملت پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، سندھ ڈیموکریٹک الائنس، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے دستخط کیے۔ اور اب یہی سیاسی تنظیمیں قومی مفاہمتی آرڈیننس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہیں۔ چودہ مئی دو ہزار چھ کو نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے چارٹر آف ڈیموکریسی نامی دستاویز پر لندن میں دستخط کیے۔ اس دستاویز کی شق نمبر تیئس کے مطابق دونوں سیاسی تنظیمیں نہ تو فوجی حکومت اور نہ ہی فوج کی سپانسر شدہ حکومت میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ فوج کی ملی بھگت سے نہ تو حکومت حاصل کی جائے گی اور نہ ہی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اس شق کو عملی جامعہ نہیں پہنایا گیا۔
شاید اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے سترہویں ترمیم منظور کر کے صدر کو بیساکھیاں فراہم کی ہیں۔ یہ ریمارکس انہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کے خلاف درخواستوں کی سماعت سنتے ہوئے دیئے۔ ایک طرف سپریم کورٹ میں قانونی نظریہ ضرورت کو دفنانے پر زور دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف سیاستدان سیاسی نظریہ ضرورت کے تحت فوجی حکمران کے ساتھ ایک بار پھر گٹھ جوڑ میں مصروف ہیں۔ ایک بار پھر آمر کی راہ میں مشکلات کو آسان کیا جا رہا ہے یا تو ووٹ سے باز رہ کر یا اسمبلی سے استعفوں کی شکل میں۔ شاید اسی لیے پاکستانی مبصرین میں اب یہ رائے ابھر رہی ہے کہ اگر نظریہ ضرورت سے گریز کیا جائے تو قانونی نظریہ ضرورت اپنے آپ ختم ہی ہو جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو نہ فوجی حکمرانوں کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی قانونی نظریہ ضرورت کو۔ | اسی بارے میں اخلاقی برتری اور کاٹھ کا گھوڑا24 September, 2007 | قلم اور کالم فوجی حکمرانوں کی سیاسی برہنگی18 September, 2007 | قلم اور کالم بیس برس بعد18 October, 2007 | قلم اور کالم ’سیاسی مفاہمت وقت کی ضرورت‘24 August, 2007 | پاکستان بی بی، جنرل اور شیخ جمہوریت02 August, 2007 | قلم اور کالم ماورائے دستور سیاست کی خرابیاں18 September, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||