BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیس برس بعد

بینظیر بھٹو
اکیس سال بعد 33 برس کی ایک نہتی لڑکی نہیں، چون برس کی محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئی ہیں

1986ء کا برس تھا۔ اپریل کا پہلا ہفتہ گزر چکا تھا لیکن فضا میں موسم بہار کی خوشگوار کیفیت ابھی باقی تھی۔ مارشل لاء 31 دسمبر 1985 کو اٹھا لیا گیا تھا لیکن ملک میں جسد سیاسی کے اعصاب ابھی تک اکڑے ہوئے تھے جیسے کوئی طویل نیند سے جاگنےکے بعد ننداسی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا ہو۔

پیپلز پارٹی کی شریک چئیر پرسن بے نظیر بھٹو تین سالہ جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس آ رہی تھیں۔ پاکستان کے سیاسی کارکنوں، طالبعلموں‘صحافیوں اور دانشوروں نے یہ طویل عرصہ ضیاءالحق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گزارا تھا۔ پھانسی کے پھندوں اور کوڑوں کی ٹکٹکی سے لے کر سڑکوں پر تشدد، جیلوں میں عقوبت اور سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں تک وہ کون سی اذیت تھی جو پاکستان نے نہیں دیکھی۔ آنسوگیس کی بو سے لے کر خود سوزی کرنے والوں کے زندہ بدن سے اٹھتی جلتی چربی کی چراہند تک وہ کون سا عذاب تھا جو پاکستانیوں کے اعصاب پر سے نہیں گزرا۔

1978ء میں دورۂ سندھ کے دوران ہالہ کے مقام پر پچیس سالہ بینظیر بھٹو کی تقریر کا ایک جملہ بہت مقبول ہوا تھا: ’ضیاءالحق سمجھتا ہے کہ اس کا ہاتھ بندوق پر ہے وہ نہیں جانتا کہ میرا ہاتھ بھی اس کے گریباں پر ہے۔‘ یہ ہاتھ بے نظیر بھٹو کا نہیں تھا۔ پاکستان کے آٹھ کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کا ہاتھ تھا جن کے سیاسی آزادی اور معاشی انصاف کے خواب نے وردی پوش اور بندوق بردار جرنیلوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔

ذرائع بےحد محدود
 پچیس برس پہلے خبر اور اطلاعات کے ذرائع بےحد محدود تھے۔ بین الاقوامی میڈیا کے نام پہ بی بی سی ریڈیو کی نشریات دبی آواز میں شام کے دھندلکے میں کونوں کھدروں میں چھپ کر سنی جاتی تھیں۔ اخبارات کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی

پچیس برس پہلے خبر اور اطلاعات کے ذرائع بےحد محدود تھے۔ بین الاقوامی میڈیا کے نام پہ بی بی سی ریڈیو کی نشریات دبی آواز میں شام کے دھندلکے میں کونوں کھدروں میں چھپ کر سنی جاتی تھیں۔ اخبارات کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی۔ مخالف اخبارات بندشوں کا شکار تھےاور ان کے مدیران جیلوں کی رونق تھے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کو تو برسوں پہلے سرکار نےگھر ڈال لیا تھا۔ ٹیلی ویژن کا ایک ہی چینل تھا سرکاری، جس میں 1978 سے محمود اعظم فاروقی گھس گئے تھے۔ یہی پیرِ تسمہ پا گیٹ اپ بدل بدل کر مختلف پروگراموں میں جلوہ افروز ہوتا تھا۔ کبھی اس کا نام نامی اسرار احمد ہوتا تھا تو کبھی طاہر القادری۔ انٹر نیٹ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ فیکس مشین تو بہت بعد میں پاکستان پہنچی۔ روئیداد خان سیکرٹری داخلہ تھے تو پولیس سیاسی کارکنوں سے سائیکلو سٹائل مشین برآمد کیا کرتی تھی۔

ایسے محدود ذرائع ابلاغ میں عام لوگوں کے لیے یہ جاننا قریب قریب ناممکن تھا کہ بینظیر بھٹو ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد 1983 میں بھی ضیاءالحق سے سمجھوتہ کر کے وطن سے باہر گئی تھیں اور انہیں عام انتخابات کے بعد وطن واپس آنا تھا۔

معاہدے کے عین مطابق اپریل 1986 کی شام بینظیر بھٹو لاہور ائیر پورٹ پر اتریں تو جو منظر دیکھنے میں آیا وہ ضیا ءالحق تو کیا خود بینظیر کے بھی وہم وگمان میں نہ تھا۔ لاہور ائرپورٹ سے لے کر مینار پاکستان تک سر ہی سر تھے۔ کسی نے ہجوم کا تخمینہ دو لاکھ لگایا تو کسی نے دس لاکھ کہا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کے رکے ہوئے جذبات کا یہ طوفان اس قدر حقیقی اور بے ساختہ تھا کہ اسے اعداد و شمار میں بیان کرنا مشکل تھا۔ نواز شریف وزیراعلٰی تھے۔ مگر اس روز ان کی حکومت وزیر اعلٰی ہاؤس کے اس کمرے تک محدود تھی۔

بدعنوانیوں کے ان گنت الزامات
 1978 ضیاءالحق کی ایماء پر معروف صحافی کے ایچ برنی نے بھٹو صاحب کی سیاسی بداعمالیوں پر قرطاس ابیض کی متعدد جلدیں مرتب کیں لیکن بھٹو صاحب پر کسی قابل ذکر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں عائد کر پائے۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی ثقافت کا ایک اشاریہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دونوں ادوار میں نچلے درجے کی قیادت سے لے کر بینظیر بھٹو تک مالی بدعنوانیوں کے ان گنت الزامات سامنے آئے

پاکستانی تاریخ میں یہ واقعہ زیادہ مرتبہ پیش نہیں آیا کہ فوجی حکمرانوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہوں۔ 1970 کے انتخابات کا نتیجہ یحیٰی خان کے اندازوں کے برعکس نکلا تھا۔ پھر کبھی حقیقی انتخابات کی نوبت نہیں آئی۔ 8 اگست 1977 کو لاہور میں بھٹو صاحب کا استقبالی ہجوم غیر آئینی حکومت کے اندازوں سے بڑھ گیا تھا اور بھٹو صاحب کو اڈیالہ جیل میں پھانسی پر جھولنا پڑا تھا۔

1986 میں عوام کی بینظیر سے وابستگی نے فوج کے تمام اندازے الٹ دیے تھے۔ غیر سیاسی اور ماورائے آئین ہئیت مقتدرہ نے اس کے بعد سے پیپلز پارٹی کو معاف کر کے نہیں دیا۔ اکیس برسوں میں سیاسی پینتروں، مراعت یافتہ طبقوں کی حمایت اور عوامی امنگوں سے بیگانگی کا وہ کون سا پتھر ہے جس پر بینظیر نے سجدہ نہیں کیا لیکن پاکستان کے پس پردہ حقیقی حکمرانوں کو بے نظیر سے نہیں پاکستان کے عوام سے عناد ہے۔

اکیس برس پہلے جب بینظیر عوام کی رہنما بن کر وطن لوٹی تھیں تو وہ کبھی حکومت کا حصہ نہیں رہی تھیں۔2007 میں ان کے ذاتی محضرنامے میں ہئیت مقتدرہ کے ساتھ شراکت اقتدار کے دو ادوار بھی شامل ہیں جن میں ان کی کارکردگی کسی پیمانے پر قابلِ رشک نہیں رہی ۔

1978 میں ضیاءالحق کی ایماء پر معروف صحافی کے ایچ برنی نے بھٹو صاحب کی سیاسی بداعمالیوں پر قرطاس ابیض کی متعدد جلدیں مرتب کیں لیکن بھٹو صاحب پر کسی قابل ذکر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں عائد کر پائے۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی ثقافت کا ایک اشاریہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دونوں ادوار میں نچلے درجے کی قیادت سے لے کر بینظیر بھٹو تک مالی بدعنوانیوں کے ان گنت الزامات سامنے آئے۔

News image
بینظیر بھٹو مالی بے ضابطگیوں کا یہ تاثر کبھی پوری طرح سے دور نہیں کر پائیں

سچ تو یہ ہے کہ بینظیر بھٹو مالی بے ضابطگیوں کا یہ تاثر کبھی پوری طرح سے دور نہیں کر پائیں۔ قانونی حوالے سے ان کا دفاع مضبوط ہو سکتا ہے لیکن سیاست کی ٹکسال میں مقبول عام تاثر کا سکہ چلتا ہے۔ عدالت عظمی سے قتل کے الزام میں پھانسی پانے کے باوجود بھٹو صاحب کو عوام نے قاتل مان کے نہیں دیا۔ اس تاثر کا زیرسماعت قومی مفاہمتی آرڈی نینس سے کوئی تعلق نہیں اور اسے سیاسی کہہ مکرنیوں سے دور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسے تو مالی طور پر شفاف اور سیاسی طور پر واضح لائحہ عمل کی مدد سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

پچھلے دو عشروں میں پیپلز پارٹی نے عوامی سیاست کی اس روایت کو بڑی حد تک تج دیا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا خاصا تھی۔ معاشی انصاف اور سماجی اصلاحات بھی پیپلز پارٹی کی ترجیحات میں زیادہ اوپر نہیں ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ جہاں بھٹو صاحب براہ راست عوامی رابطے اور تائید پر انحصار کرتے تھے بینظیر بھٹو روایتی سیاسی کرداروں اور سیاسی جوڑ توڑ پر زیادہ اعتماد کرتی ہیں۔ اگر ایسی سیاست کے پاؤں ہوتے تو مسلم لیگ کا لفظ سیاسی لغت میں ایسے منفی معنی نہ رکھتا۔

اکیس برس پہلے پاکستان جہادی برآمدات میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔اب منڈی میں اس جنس کی مانگ نہیں رہی۔ سو یہ اناج بھس کے بھاؤ پاکستان کے گلی کوچوں میں بکھرا ہے اور اس میں سے شعلے اٹھ رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی اور قومی سیاست میں دراندازی کا شغل کرنے والے عسکری حلقوں کے ساتھ شراکت اقتدار کے دو تجربوں میں پیپلز پارٹی نے بھی اس بھس میں اپنے حصے کی چنگاریاں ڈالی تھیں۔ طالبان کی حمایت اور بھارتی کشمیر میں مداخلت کی کھلی حمایت کر کے پاکستانی سیاست کے مرکزی دھارے کو وہ مذہبی رنگ و روغن بخشا تھا جس سے لڑنے کا وعدہ کر کے بینظیر کراچی پہنچی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کا عوام سے رابطہ طویل عرصے سے منقطع ہے اور اس دوران پاکستان میں اجتماعی ذہن کے خدوخال بہت بدل گئے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بے نظیر اس تصادم کی حقیقت عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کی مخالف سیاسی قوتیں برسرِزمین موجود بھی رہی ہیں اور سرگرم بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو کام ایک مطلق العنان فوجی حکمران واضح بین الاقوامی حمایت کے باوجود آٹھ برس میں نہیں کر پایا۔ کیا بینظیر ایک ڈھیلی ڈھالی سیاسی جماعت اور سیاسی نکتہ آفرینیوں سے بے بہرہ عوامی تائید کے بل پر وہ کام سر انجام دے پائیں گی؟

1986 میں بینظیر کی آمد فرانس کے افق پر نپولین کے ظہور سے مشابہ تھی۔ ایک قد آور سیاسی رہنما جو اپنے بے داغ ماضی کے ساتھ عوام کے بپھرے ہوئے جذبات کو ساتھ لیے ایک واضح جمہوری مستقبل کا وعدہ کیے ہوئے تھی۔2007 میں بےنظیر کی آمد اٹلی کے قریب ایلبا کے جزیرے سے نپولین کی حیرت انگیز واپسی کی سی کیفیت لیے ہوئے ہے۔ ایک شاندار رہنما کی وطن واپسی جس کے گرد قائدانہ اہلیت کا ہالہ تو قائم ہے مگر جس کی توانائی اور وسائل میں واضح کمی آ چکی ہو۔

اکیس سال بعد 33 برس کی ایک نہتی لڑکی نہیں، چون برس کی محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئی ہیں۔ ان کے دفترِ اعمال پر دو عشروں کی سیاست کے بہت سے نشان ہیں اور پاکستان میں زمینی حقائق بہت بدل چکے ہیں۔

بینظیر بھٹو انیس سو چھیاسی میںبینظیر کا امتحان
انیس سو چھیاسی اور دو ہزار سات میں بہت فرق
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)بینظیر کی سیاست
اکیس سال کے سفر میں کیا کیاہوا؟
امین فہیمبینظیر کی واپسی
بینظیر تاریخ دہرانے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)مفاہمت کی بنیاد
بینظیر بھٹو کی واپسی یا مفاہمت کی بنیاد
بھٹوبینظیر کا استقبال
لیاری میں لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے۔
جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد