BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 08:37 GMT 13:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کل ہی واپس جاؤں گی: بینظیر بھٹو
بینظیر کی پریس کانفرنس میں ان کی بیٹیاں بھی موجود تھیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے اپنی وطن واپسی کے پروگرام کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گی اور اگر پرامن طریقے سے تبدیلی ممکن نہ ہوسکی تو ’گلی محلوں میں احتجاج کریں گے۔‘

دبئی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اپنے واپسی کے پروگرام میں کسی تبدیلی کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو ساڑھے بارہ بجے کراچی کے ہوائی اڈے پر اتریں گی۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں اپنی وطن واپسی کو مؤخر کرنے کے لیے ہر طرح سے دھمکایا گیا لیکن وہ ان دھمکیوں کی پرواہ کیئے بغیر وطن واپس جا رہی ہیں۔

دبئی میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں بینظیر بھٹو کی دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ دائیں بائیں بیٹھی تھیں جبکہ آصف زرداری اور بیٹا بلاول بھی موجود تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود نے بھی بینظیر کو دھمکی دی تھی۔ بینظیر بھٹو نے ان دھمکیوں کے حوالے سے کہا کہ مسلمان جانتے ہیں کہ اگر وہ کسی عورت کو ہلاک کریں گے تو سیدھے جہنم کی آگ میں جائیں گے۔

قومی مصالحتی آرڈیننس پر سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس لیئے جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خـفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت کہاں تھی جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سزا یافتہ وزیر اعظم کو جیل سے نکال کر سعودی عرب روانہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ جب کہاں تھی جب قدیر خان نے ٹیلی ویژن پر آ کر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی غیر ممالک کو فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی بحالی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چالیس کارکنوں نے اپنی جان کے نذارنے پیش کیے۔

بینظیر بھٹو نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں انتہا پسندی کے رجحان کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں درجنوں کی تعداد میں فوجی جوانوں کو اغواء کیا جانے لگا ہے اور اس صورت حال میں انتہا پسندی کو روکنا اشد ضروری ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان مسائل کا حل سیاسی طریقوں سے تلاش کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے اختر مینگل کا نام لیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی اسیروں کو رہا کیا جائے گا اور تمام لاپتہ افراد کا بازیاب کرایا جائے گا۔

اپنے استقبال کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انیس سو چھیاسی میں جتنے لوگوں نے لاہور میں استقبال کیا تھا کل بھی کراچی میں لوگوں کا سمندر انہیں لینے کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے گا۔

جنرل مشرف کے انتخاب سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ صدر کا حلف لینے سے قبل وہ وردی اتار دیں گے۔

جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
بھٹوبینظیر کا استقبال
لیاری میں لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے۔
بینظیر بھٹو انیس سو چھیاسی میںبینظیر کا امتحان
انیس سو چھیاسی اور دو ہزار سات میں بہت فرق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد