BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 07:04 GMT 12:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کا استقبال: جیالوں کے قافلے

بینظیر نو سال بعد وطن واپس لوٹ رہی ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے ملک بھر سے کارکنوں اور رہنماؤں کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جو جتنا مالدار ہے اس کی اتنی ہی بڑی گاڑی اور بینر ہیں لیکن عام آدمی بھی پیچھے نہیں ہے۔

آج جب دنیا میں نظریاتی سیاست دم توڑ رہی ہے، تب کچھ ایسے بھی جیالے ہیں جو ساڑھے چار سو کلومیٹر پیدل سفر کرکے کراچی پہنچے ہیں۔ تو کچھ وہاڑی سے سائیکل پر پہنچے ہیں۔ یہ سب اپنے ساتھ یہ امیدیں لیکر نکلے ہیں کہ بینظیر روزگار دلائے گی اور مہنگائی سے نجات ملے گی۔

محمد اشرف رضا کشمیری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ترنگے پرچم کو زیب تن کیا ہوا ہے اور بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے چکر لگاتا ہوا نظر آتا ہے۔

اشرف کشمیری تین اکتوبر کو سائیکل پر وہاڑی سے نکلا تھا اور نو اکتوبر کو اس نے بلاول ہاؤس پہنچ کر دم لیا۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے صرف دو راتیں آرام کیا باقی تمام وقت سفر میں ہی گزارا۔

اشرف نے یہ سفر کیوں کیا؟ وہ کہتا ہے ’ذوالفقار علی بھٹو کی روح مجھے تڑپاتی رہی ہے کہ کشمیری بیٹا چلے آؤ میری بیٹی کا استقبال کرنے کے لیے چلے آؤ۔‘

بینظیر کا استقبال
عید بھی راستے میں ہی گزری کیونکہ عید تو سال میں دو مرتبہ آتی ہے مگر بے نظیر نو برسوں کے بعد آرہی ہیں، اس لیے انہوں نے قائد کو ترجیج دی۔
حاتم بجیر ایک کارکن

ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو جب انیس سو چھیاسی میں جلاوطنی ختم کرکے وطن آئی تھیں تو وہ اسی وقت سے ان کے شیدائی ہیں۔

اشرف وہاڑی میں کڑہائی کا کام کرتے ہیں ان کے والد فوجی تھے۔ بقول ان کے والدہ نے روانگی کے وقت انہیں کہا جا بیٹا تو بھٹو کا سپاہی اور بے نظیر کا بھائی ہے۔

اشرف کشمیری ڈیل ویل کو نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ’اگر بے نظیر نے ڈیل کی بھی ہے تو ہم اس کو نہیں دیکھیں گے، ہم صرف اپنی قائد کو دیکھیں گے وہ جو کریں گی ہم اس کے جیالے ہیں اس پر لبیک کہیں گے۔‘

دانا رام نو ساتھیوں کے ساتھ میرپورخاص سے ساڑھے تین سو کلومیٹر پیدل سفر کرکے کراچی پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے پی پی پی سے وابستہ رہے ہیں، اور خواہش تھی کہ وہ اس کے لیے ہم اپنا پسینہ بہائیں اس لیے پیدل چل پڑے۔

وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں بڑے لوگ پارٹی تبدیل کرتے رہے، مگر ورکر تو پارٹی کے ساتھ ہی ہیں کئی تکالیف بھی انہیں ہلا نہ سکی ہیں۔

اقلیت سے تعلق رکھنے والے دانارام کا کہنا ہے کہ مشرف سے بے نظیر نے کوئی ڈیل نہیں کی ہے اگر کوئی سمجھوتہ بھی ہوتا ہے تو وہ عوام کے بھلے کے لیے ہی ہوتا ہے، پی پی پی مشرف کے خلاف نہیں بلکہ ان کی پالسیوں کے خلاف تھی۔

پارٹی کے کارکن تھر سے بھی کراچی پہنچے ہیں

دانا رام کہتے ہیں آج بھی روٹی کپڑے اور مکان کا مسئلہ موجود ہے اور پی پی پی اسی نعرے پر قائم بھی ہے۔ بے نظیر آئیگی تو لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی، امن ہوگا، مہنگائی ختم ہوگی۔

ڈاکٹر سروپ چند بھی پیدل قافلے میں شامل ہیں۔ انہوں نے انیس سو ترانوے میں قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا، مگر کامیاب نہ ہوسکے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پی پی پی نے اقلیتوں کو شعور دیا ہے اور اقلیتوں کا جتنا خیال اس پارٹی نے رکھا ہے کسی اور جماعت نے ایسا نہیں کیا۔ یہ واحد جماعت ہے جس میں اکثریت یا اقلیت کی کوئی بات نہیں ہوتی، اقلیتی تنظیم کے عہدیدار بن سکتے ہیں جبکہ دیگر جماعتوں میں ایسا نہیں ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ نو دن کے سفر کے دوران راستے میں جو دودھ والا، گدھے گاڑی والا، ٹرک والے اور دیگر عام آدمی ملتے تھے وہ مسکراہٹ سے استقبال کرتے تھے یعنی ان کے دل پی پی پی کے ساتھ ہیں۔

نوجوان بالم کمار بھی پیدل آنے والوں میں شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بے نظیر کے ساتھ محبت تھی اور پیدل چل کر اس کا اظہار کیا ہے۔ ساڑھے تین سو کلومیٹر کے سفر میں پارٹی کے پیغام کی تشہیر بھی کرتے ہوئے آئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ڈیل کی باتیں قیادت کی باتیں ہیں، اس کا کارکنوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، قیادت کی جو بھی بات ہوگی وہ کارکن تسلیم کرتے ہیں۔

ڈیل اور جیالے
 ڈیل کی باتیں قیادت کی باتیں ہیں، اس کا کارکنوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، قیادت کی جو بھی بات ہوگی وہ کارکن تسلیم کرتے ہیں۔
بالم کمار

بالم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے غلط بیان دیے جا رہے ہیں، ان کو ذوالفقار علی بھٹو بیرون ملک سے لےکر آئے تھے، اس لیے بے نظیر سے زیادہ ان کا خیال کوئی نہیں رکھ سکتا۔

صحرائی علاقے تھر سے بھی ساٹھ افراد کا ایک پیدل قافلہ پہنچا ہے۔ تھری قافلے کے رہنما غلام حسین کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لیے نکلے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہیں۔

غلام حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ اکتوبر کو چھاچھرو سے یہ سفر شروع کیا اور سولہ اکتوبر کو ساڑھے چار سو کلومیٹر طے کرکے کراچی پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر کی غیرموجودگی اور ارباب غلام رحیم کی وزیراعلیٰ ہونے کے بعد سب سے زیاد تھر کے لوگ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ اس لئے انہوں نے سمجھا کہ تھر سے پی پی پی کا خاتمہ ہوگیا ہے مگر وہ اس کو غلط ثابت کرنے نکلے ہیں۔

حاتم بجیر بھی وزیر اعلی سندھ کے علاقےتھر کے قافلے کے ساتھ سے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک سو لوگ کراچی کے لیے نکلے تھے مگر راستے میں کچھ ساتھی بیمار پڑگئے، کمزور ہوگئے تاہم ساٹھ افراد کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی عید بھی راستے میں ہی گزری کیونکہ عید تو سال میں دو مرتبہ آتی ہے مگر بے نظیر نو برسوں کے بعد آرہی ہیں، اس لیے انہوں نے قائد کو ترجیح دی۔

میر محمد سولنگی نے بے نظیر کی آمد پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شاعری کی ہے اور اس کی کیسٹیں بناکر اسے عام کر رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو انیس سو چھیاسی میںبینظیر کا امتحان
انیس سو چھیاسی اور دو ہزار سات میں بہت فرق
بھٹوبینظیر کا استقبال
لیاری میں لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے۔
بے نظیر بھٹو ڈاکٹر قدیر پر بیان
’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘
بینظیر تردید اور خدشات
بینظیر کی واپسی کچھ ہوا تو وزیراعلیٰ ذمہ دار
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)بینظیر کی سیاست
اکیس سال کے سفر میں کیا کیاہوا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد