چھیاسی اور دو ہزار سات: کیا فرق ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی وطن آمد کے اعلان پر ان کے استقبال کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ خاص طور پر سندھ کے مختلف اضلاع میں جلسے جلوس ہو رہے ہیں، پوسٹر، بینر اور پارٹی کے جھنڈے لگائے جا رہے ہیں۔ بینظیربھٹو انیس سو ننانوے میں نواز شریف دور حکومت میں بیرون ملک چلی گئیں تھیں اور نو سال کے بعد وطن آرہی ہیں۔ ضیا دور میں جب وہ انیس سو چھیاسی میں وطن لوٹیں تھیں تو انہوں نے لاہور میں لینڈ کیا تھا۔لیکن اس مرتبہ پنجاب کے بجائے انہوں نے اپنے آبائی صوبے سندھ کو منتخب کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک کارکن لاہور کے استقبال کو یاد کرتے ہیں: ’لوگوں کا سمندر تھا۔ پورا لاہور شہر اس رات جاگ رہا تھا۔ ملک کا شاید کوئی ایسا گاؤں یا علاقہ نہ ہو جہاں سے لوگوں نے اس استقبال میں شرکت نہ کی ہو‘۔ کمیونسٹ رہنما جام ساقی کا، جو اب پیپلز پارٹی میں ہیں، کہنا ہے کہ پورا دور ہی بدل گیا ہے۔ صورتحال، حالات اور لوگ بدل گئے ہیں۔تب بایاں بازو مضبوط تھا جو کہ پی پی کے لئے حوصلہ افزا اور اسکا حامی تھا۔ ان کے مطابق وہ دور تھا جب سیاسی کارکنوں میں ایک جذبہ تھا۔ ’اصول، قربانی جذبہ، نظریہ معنی رکھتے تھے، جو کہ تمام پارٹیوں اور کارکنوں سب کے لئے اہم تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ 1986 میں تمام مخالف جماعتیں متحد تھیں اور اس سے تین سال قبل ملک بھر میں ایم آر ڈی جیسی کامیاب تحریک چلا چکی تھیں۔ ملک کی سیاسی فضا کچھ ایسی تھی کہ مذہبی جماعتیں اور حکومت کی حامی جماعتیں بھی بینظیر کی مخالفت کرنے سے گریزاں تھیں۔ بینظیر بھٹو کی آمد پر جمیعت علماء پاکستان کا موقف تھا کہ ایک مظلوم لڑکی کی آمد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پیر پگاڑا نے کہا تھا کہ سانگھڑ میں بینظیر کی عوامی رابطہ مہم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
لیکن آج حزب اختلاف کی جماعتیں دو مختلف اور ایک دوسرے کے مخالف اتحادوں اے پی ڈی ایم اور اے آرڈی میں بٹی ہوئی ہیں۔ اگرچہ عملاً دونوں اتحاد ختم ہو چکے ہیں تاہم اس وقت پی پی کے ساتھ حزب اختلاف کی کوئی جماعت نہیں ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جنرل ضیاالحق براہ راست ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے، اور پھانسی دینے کے لئے ذمہ دار تھے۔ ضیا نے سینکڑوں کارکنوں پر کوڑے برسائے، درجنوں کارکنوں کو پھانسیاں ہوئیں، ہزاروں کو قید کیا۔جنرل ضیا کے شدید ترین مخالفوں کا حلقہ بہت بڑا تھا، جو نفرت کی حد تک اس کے خلاف تھے۔ آج کے فوجی حاکم جنرل مشرف کےکھاتے میں بینظیر بھٹو کے خلاف براہ راست اقدامات کم ہیں۔کرپشن کے مقدمات نواز شریف دور میں قائم ہوئے تھے۔ اتنا ضرور ہے کہ جنرل مشرف نے ان مقدمات کی باضابطہ پیروی کی۔ پیپلز پارٹی ہو یا عام لوگ وہ مشرف کے مخالف تو ضرور ہونگے لیکن نفرت والی وہ صورتحال نہیں ہے جو جنرل ضیا کے حوالے سے تھی۔ لوگ جنرل ضیا سے ہرحال میں چھٹکارہ اور تبدیلی چاہتے تھے۔ بینظیر تبدیلی کی علامت بن کر ابھریں۔ آج ان کا مسئلہ فوجی آمر مشرف کو ہٹانا نہیں جِس طرح سے ضیا کو ہٹانے کا معاملہ تھا، بلکہ اب اس فوجی حاکم کے ساتھ اقتدار میں شراکت کا معاملہ ہے، جس میں اپر ہینڈ مشرف کا ہی ہوگا۔ اس لئے بینظیر تبدیلی کی علامت نہیں بن رہی ہے جس طرح سے وہ چھیاسی میں بن گئی تھی۔ جـنرل ضیا نے سزائے موت دی۔ لوگوں کی اکثریت اس اقدام کو غلط سمجھتی تھی۔ لوگوں میں ایک طرح کا احساس جرم تھا کہ وہ بھٹو کے لئے کچھ زیادہ نہیں کر پائے۔ بعض حلقوں کے مطابق چھیاسی کا استقبال ایک ذاتی سانحے کے لئے جذباتی ردِعمل تھا اور بھٹو خاندان سےلوگوں کی عقیدت تھی جس کا انہوں نے اظہار کیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق تب لوگوں کو بینظیر سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔ اور ان کے خلاف لوگوں کے پاس کوئی مواد نہیں تھا۔ لیکن اب جب وہ وطن آ رہی ہیں، تو دو مرتبہ حکومت کر چکی ہیں، لوگوں نے ان کو آزمایا۔ ان کے خلاف کرپشن، کوتاہی جیسےالزامات بھی عائد ہوئے۔اب بظاہر لوگوں کو بینظیر سے کوئی بڑی امیدیں نہیں ہیں۔ پہلے دور میں پارٹی میں جیالوں کا ایک بہت بڑا کیڈر تھا۔ اب تو وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بینظیر حکومت میں آئے گی تو فلاں فلاں کام کرائیں گے۔ پہلے یہ نعرے لگتے تھے’ بینظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے، کیا اب تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بینظیر آئی ہے حکومت لے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پرانے جیالے مولابخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ بینظیر کی آمد سے لوگ خوش ہیں۔ لیکن چھیاسی کا آنا فتح مندی اور جیت کے طور پر تھا۔ انہوں نے مانا کہ ضرورت مندوں کا ایک حلقہ ضرورت سے زیادہ خوش ہے۔ ان کے مطابق نظریاتی خواب ٹوٹے ہیں۔ لیکن یہ بھی زمینی حقیقت ہے کہ اس ملک کے عوام کے پاس اور آپشن کیا ہے؟ بقول چانڈیو کے شیطانوں کے بیچ میں ایک انسان بینظیر ہے، اور انسان سے غلطیاں ضرور ہو سکتی ہیں۔
مولابخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ سندھ میں احساس محرومی زیادہ ہے۔ کیونکہ سندھ کو حق حاکمیت بھی حاصل نہیں۔ سندھ کے لوگ حق حاکمیت کے معاملے میں بہت جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ’مر ویسوں سندھ نہ ڈیسوں’ ( مر جائیں گے سندھ نہیں دیں گے)کا نعرہ سندھ کی تمام پارٹیاں لگاتی ہیں۔ چھیاسی کے نعرے کچھ مختلف تھےجیسے کہ ’بھٹو ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘، ’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ ، ’ضیا جاوے ای جاوے‘ ، ’نہ جھکنے والی بینظیر، نہ بکنے والی بینظیر‘۔ گزشتہ مرتبہ نہ بلوچستان میں آپریشن چل تھا اور نہ ہی وانا وزیرستان میں فوجی کارروائیاں ہو رہی تھیں اور نہ ہی مذہبی انتہاپسندی اس حد تک تھی۔ چھیاسی میں مینار پاکستان پر بینظیر نے اپنی تقریر کا اختتام اس شعر پر کیا تھا: ’میں باغی ہوں میں باغی ہوں‘۔ مگر اب انہوں نے بغاوت چھوڑ کر مصلحت پسندی اپنائی ہے۔ بینظیر بھٹو کو آمد کے بعد عوامی رابطہ مہم چلانی ہے۔ وہ حکمرانوں سے معاملات بنا کر آرہی ہیں اس لئےعوامی رابطے کی مہم ان کے سیاسی تدبر کا امتحان ہوگا۔ یہ اجتماع اور مہم یہ اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ کیا ان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔ بینظیر مقدمات خارج کروانے جیسے مطالبات تسلیتم کروا چکی ہیں۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ عام انتخابات اور بینظیر بھٹو کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننےاور اسیمبلی توڑنے کے صدر کے اختیارات ختم کرنے مطالبات باقی ہیں۔ آج جب لوگ گھر میں ٹی وی چینل کےسامنے بغیر کسی خوف و خطرے کے سیاسی جلسے اور جلوس دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ایسے ماحول میں لوگوں کو باہر نکالنا بھی ایک امتحان ہے۔ چاہےانیس سو چھاسی والا جذبہ نہ سہی، پھر بھی بڑا اجتماع کوئی بہت بڑا کھیل نہیں لگتا۔مختلف جاگیرداروں کو ذمہ داری دی جائے گی کہ کس کس کو کہاں سے کتنے لوگ لانے ہیں۔ اگر پی پی ایک ڈیرھ لاکھ لوگ بھی اکٹھے کر لیتی ہے تو سیاسی منظرنامے میں یہ اسکی کامیاب ہوگی کیونکہ جنرل مشرف سمیت کوئی بھی لیڈر ایک لاکھ افراد جمع نہیں کر پایا ہے۔ | اسی بارے میں بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک14 September, 2007 | پاکستان بینظیر فیصلوں کے بعد آئیں: مشرف12 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سزائیں غیرآئینی: عدالت12 October, 2007 | پاکستان توقع ہے ڈیل ہو جائے گی: بینظیر04 October, 2007 | پاکستان یقین دہانی مایوس کن ہے: بینظیر19 September, 2007 | پاکستان بینظیر: بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت18 September, 2007 | پاکستان بینظیر کی واپسی، ’ڈِیل‘ کی خبریں15 September, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اٹھارہ اکتوبر کو14 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||