عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریاں زوروں پر ہیں |
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو دانستہ روپوشی کے الزام میں احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے جمعہ کو یہ حکم بے نظیر بھٹو کی جانب سے احتساب عدالت کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیل کو نمٹاتے ہوئے دیا۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بے نظیر بھٹو کے خلاف ریفرنس میں ان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر دانستہ روپوشی کے الزام میں یکم جولائی سنہ دو ہزار دو کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس طارق شمیم پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالت اپیل کنندہ کے وکیل احسن بھون کے اس موقف سے اتفاق کرتی ہے کہ اعلی عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں ملزم کے عدم موجودگی میں اس کو سزا دینا غیر آئینی ہے اور آئین کی دفعات نو اور دس کی خلاف وزری ہے۔ فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیب کی وکیل علی ٹیپو نے عدالت کو بتایا کہ پانچ اکتوبر سنہ دوہزار سات کو قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد نیب کے قانون کے وہ شق ناقابل نفاذ اور غیر مؤثر ہوچکے ہیں جن کے تحت ملزم کے عدم موجودگی میں اس کو سزا ہوسکتی تھی۔ فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون پر عمل درآمد ہونے کی وجہ سے اپیل کنندہ کی داد رسی ہوگئی ہے۔ بینچ نے اپیل باور آور ہونے کی بنیاد پر اس کو نمٹادی۔ قبل ازیں عدالت کے روبرو بے نظیر بھٹو کے وکیل احسن بھون نے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ بےنظیر کو ان کی غیر موجودگی میں سزا دینا آئین کے آرٹیکل نو اور دس کی خلاف ورزی ہے۔ وکیل نے اعلیْ عدلیہ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملز م کو اس کی عدم موجودگی میں سز ا نہیں سنائی جاسکتی۔ بے نظیر کے وکیل نے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے خلاف کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جب انہیں سزا سنائی گئی تھی تو وہ ملک سے باہر تھے اور اسی بنیاد پر ان کی سزا بھی ختم کر دی گئی تھی۔ احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہا کہ بےنظیر سنہ انیس سو اٹھانوے میں لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئی تھیں۔ قومی احستاب بیورو کے وکیل علی ٹیپو نے عدالت کو بتایا تھا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ملزم کی عدم موجودگی میں اس کو سزا دینے کے حوالے سے نیب کے قانون کا شق غیرمؤثر ہوچکا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بلال خان اور جسٹس طارق شمیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بے نظیر بھٹو کی اپیل پر طرفین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر جمعرات کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ فاضل بینچ نے جمعہ کو اپیل باور آور ہونے کی بنیاد پر نمٹادی۔ |