| | بے نظیر کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس ہونے چاہیں |
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اقتدار میں شراکت کے سلسلے میں مفاہمت ہو جائے گی۔ لندن میں بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں ان کو معافی دے دی جائے گی۔ عام خیال یہی ہے جنرل پرویز مشرف سنیچر کو اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے لیکن ان کی خواہش ہے کہ بے نظیر بھٹو کی جماعت کے ارکان اسمبلی انتخاب کا بائیکاٹ نہ کریں۔ جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ آج ایک آرڈینینس آ جائے گا۔گ۔ اس سلسے میں بات چیت ہو رہی ہے اور اس کا اعلان (آج) بعد میں ہوگا۔‘ ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کے ترجمان نے مشرف حکومت کی جانب سے مقدمات وپس لیے جانے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ معافی والی بات یقینی ہے۔‘
 | کچھ معلوم نہیں  بدھ کو بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ بدعنوانی کے مقدمات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے موجوزہ آرڈیننس کے بارے میں انہوں نے خبر اخبارات میں پڑھی ہے لیکن اس سے زیادہ انہیں کچھ معلوم نہیں۔  |
ادھر اسلام آباد میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت شراکت اقتدار پر معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔ بدھ کو لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے ایک اہم اجلاس میں وقفے کے دوران اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے موصول ہونے والی پیش کش کو انہوں نے مجلس عاملہ کے سامنے رکھ دیا ہے اور اس بارے میں فیصلہ بدھ کی رات یا جمعرات کی صبح متوقع ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بدعنوانی کے مقدمات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے موجوزہ آرڈیننس کے بارے میں انہوں نے خبر اخبارات میں پڑھی ہے لیکن اس سے زیادہ انہیں کچھ معلوم نہیں۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اس سلسلے میں پارٹی نے ایوان صدر سے رابط بھی کیا تھا لیکن انہوں نے اس آرڈننس کی تردید کی ہے۔ |