بینظیر کی واپسی پتھر پہ لکیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی پی پی کے قائم علی شاہ نے کہا ہے بینظیر کی واپسی پتھر پہ لکیر ہے کوئی حادثہ ہوا تو وزیراعلیٰ سندھ ذمہ دار ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کی واپسی میں کوئی تبدیلی ممکن ہے اور کہا ہے کہ وہ بدھ کو لندن میں پریس کانفرنس کریں گی جس میں وطن واپسی سے متعلق پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ ان کی واپسی پتھر پہ لکیر ہے اور وہ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آرہی ہیں۔ منگل کو کراچی پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی واپسی سے متعلق کچھ حلقے منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور وہ اس بات کی پرزور الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی واپسی کا فیصلہ اے آر ڈی یعنی الائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی نے اپنے ایک اجلاس میں کیا تھا اور ان کی واپسی کی تاریخ حتمی ہے۔ بینظیر بھٹو کی واپسی پر سیکیورٹی کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ ان کی سیکیورٹی کے انتظامات ایسے ہوں جیسے صدر یا وزیراعظم کے لیے کیے جاتے ہیں‘۔ القاعدہ یا طالبان کی جانب سے کسی خطرے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بھی ہوسکتا ہے اس بارے میں کوئی معلومات ہوں کیونکہ اس کی مختلف ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک سیکیورٹی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی حکومتی ارکان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے میٹنگز بھی ہو چکی ہیں تاہم حکومت نے کسی خاص خطرے کی جانب اشارہ نہیں کیا ہے۔ بہرحال ہم اپنے طور پر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے اور توقع کرتے ہیں کہ حکومت بھی ایسا ہی کرے گی‘۔
قائم علی شاہ نے بتایا کہ ’ان تمام خدشات کے پیشِ نظر ہم نے حکومت پر واضح کردیا ہے کہ سیکیورٹی کے انتطامات کو یقینی بنایا جائے اور حکومتی ارکان نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر فول پروف انتظامات کیے جائیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ بینظیر بھٹو کو جو دو بار ملک کی وزیراعظم رہ چکی ہیں سیکیورٹی فراہم کرے تاہم انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر ان کو ائرپورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بلاول ہاؤس لے جایا جائے گا۔ وزیرِاعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کی جانب سے سرکاری عمارتوں سے پی پی پی کے بینرز اور ہورڈنگز ہٹانے کے احکامات پر انہوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعلٰی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے رہے ہیں اور دو دن قبل ایک ایسے ہی بیان کے نتیجے میں شہداد کوٹ میں پی پی پی کی ایک ریلی پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی یا کسی قسم کا کوئی حادثہ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیرِ اعلٰی سندھ اور ان کے حواریوں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کے حالات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ تاج جمالی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت؟ سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کے اسقبال کے لیے بلوچستان سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا ایک بڑا قافلہ بدھ کی صج کراچی کیلئے روانہ ہوگا جو بدھ کے روز کسی وقت کراچی پہنچ جائے گا۔ اس موقع پرپی پی پی کی صوبائی قیادت نے الزام لگایاہے بلوچستان کی حکومت صوبے کے مختلف علاقوں سے بے نظیر بھٹوکی استقبال کے لیے کراچی جانے والے قافلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہاہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں کارکن 18 اکتوبرکوپی پی پی کی چئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹوکا استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگرکسی نے اس قافلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی توانہیں سخت جواب دیا جائے گا۔‘ منگل کی شام کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں بادینی چوک پر استقبالیہ کیمپ لگایا گیا ہے اور اندورن صوبے سے آنے والے قافلے وہاں پر جمع ہونگے اور بدھ کی صبح کارواں کی شکل میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں میں کراچی روانہ ہوں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم خیال گروپ کے رہنما سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر تاج محمد جمالی بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اوروہ ان کو پارٹی میں خوش آمدید کہیں گے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعلی نے عید کے موقع پرڈیرہ مراد جمالی میں مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کافیصلہ کیا ہے جس کا اعلان وہ پاکستان آمد کے بعد بے نظیربھٹوسے ملاقات میں کرینگے۔ دوسری جانب سے اس قافلے میں شر کت کے لیے صوبے کے مختلف علاقوں سے پی پی پی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد رات گئے کوئٹہ سریاب روڈ کے بادینی چوک پرواقع استقبالیہ کیمپ میں پہنچ گئی تھی۔ جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ایک کارکن کاظم بلوچ نے کہا کہ ’آج انکے کے لیے خوشی کامقام ہے کہ وہ بے نظیربھٹوکے اسقبال کرنے والوں میں شامل ہیں کیونکہ بے نظیرکی آمد سے ملک جمہوریت کی راہ پرگامزن ہوگا۔‘ ادھر صوبائی حکومت نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ پولیس پی پی پی کے قافلوں کوروکنے کی کوشش کرے گی۔ حکومتی مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکنے والے رکن اسمبلی گلشن لعل کے مطابق بے نظیرکے استقبال کے لیے جانے والے قافلوں میں شامل لوگوں کی حفاظت کے لیے صوبائی حکومت نے تو سخت حفاظتی انتظاما ت کیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||