’مشرف بیس فیصد کے پسندیدہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور امریکی غیر سرکاری ادارے ’دی انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹی ٹیوٹ‘ کے تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں ووٹرز کی بڑی اکثریت موجودہ حکمرانوں کو دوبارہ منتخب کرنے کے حق میں نہیں ہے جبکہ ملک میں جنرل مشرف کی مقبولیت کا گراف بھی تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔ یہ سروے پاکستان میں اس ادارے کی جانب سے ایک سال میں کیا جانے والا چوتھا سروے ہے جس کے ذریعے پاکستانی ووٹرز کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تازہ سروے انتیس اگست اور تیرہ ستمبر کے درمیان کیا گیا جس میں ملک کے شہری اور دیہی علاقوں سے چار ہزار سے زائد بالغ مرد و خواتین سے سوالات کیے گئے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ جنرل مشرف اب صرف بیس فیصد لوگوں کے پسندیدہ لیڈر ہیں جبکہ اسی ادارے کے پچھلے سال ہونے والے سروے میں مشرف کی مقبولیت کا تناسب تریسٹھ فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ سروے میں اہل ووٹرز سے آئندہ انتخابات میں ان کی پسند و نا پسند کے علاوہ قومی راہنماؤں کی مقبولیت جانچنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق تہتر فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد نے ملک کے لیے ایسے کام نہیں کیے کہ انہیں دوبارہ منتخب کیا جائے۔ اسی تناسب سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک اپنی پالیسیوں کے لحاظ سے غلط سمت میں جا رہا ہے۔ جون میں اسی نوعیت کے ایک سروے کے مقابلے میں موجودہ سروے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں کی مخالف ہوتی جا رہی ہے۔ چھہتر فیصد لوگ جنرل مشرف کی فوجی عہدے سے مستعفی ہو جانے کے حق میں ہیں جبکہ چوہتر فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ مشرف دوبارہ صدر بھی منتخب نہ ہوں۔ انچاس فیصد ووٹرز جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی ڈیل کے مخالف ہیں جبکہ وہ لوگ جو پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، ان کی اکثریت اس ڈیل کے حق میں ہے۔ سنتالیس فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بے نظیر بھٹو نے یہ ڈیل ذاتی مفاد کے لیے کی جبکہ ستائیس فیصد کا خیال تھا کہ انہوں نے ایسا ملک میں جمہوریت کو دوام بخشنے کے لیے کیا۔اڑتالیس فیصد لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بے نظیر ڈیل کے بجائے متحدہ حزب اختلاف میں شامل ہو جائیں۔ اس سروے رپورٹ میں سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا جو گراف بنایا گیا ہے اسکے مطابق نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ پہلے، پیپلز پارٹی دوسرے اور حکمران مسلم لیگ تیسرے نمبر پر ہے۔ اداروں کی مقبولیت کے گراف میں بھی تبدیلی آئی ہے اور پاک فوج چند سال پہلے کے پسندیدگی کی پہلی پوزیشن سے تیسری پوزیشن پر آگئی ہے جبکہ میڈیا پہلے اور عدالتیں دوسرے نمبر تک پہنچ چکی ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف اقتدار کے آٹھ برس پر یومِ سیاہ12 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب سے بازار میں تیزی09 October, 2007 | پاکستان وکلاء کی ریلیاں، ملی جلی ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان آدھی اسمبلی میں مشرف کی حمایت06 October, 2007 | پاکستان غیر سرکاری نتائج، مشرف کامیاب06 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||