مشرف اقتدار کے آٹھ برس پر یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے آٹھ برس کی تکمیل پر مسلم لیگ(نواز) نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یومِ سیاہ کے حوالے سے لاہور میں مرکزی احتجاج جمعہ کی نماز کے بعد لاہور پریس کلب کے سامنے کیا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو ہونے والا یہ مظاہرہ صدر مشرف کے اقتدار کے آٹھ برس پورے ہونے پر کیا جا رہا ہےاوراس کے علاوہ یہ مظاہرہ شمالی وزیرستان میں عام شہریوں پر فوجی حملوں کے خلاف بھی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے آٹھ برس قبل بارہ اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے معزول کر کے زمامِ اقتدار سنبھالی تھی اور میاں نواز شریف کو کچھ عرصہ کی قید کے بعد ان کے خاندان کے افراد سمیت جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ پر برس بارہ اکتوبر کو یوم سیاہ مناتی ہے لیکن اس بار یہ یوم سیاہ اس لحاظ سے ذرا منفرد ہے کہ پہلی بار اس موقع پر مسلم لیگ نواز کی مقامی قیادت اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ جمعرات کو لاہور پریس کلب میں ہونے والے مسلم لیگ نواز کے زیر اہتمام ’بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کا سانحہ اور آج کا پاکستان‘ کے عنوان سے ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس سے مسلم لیگ نواز کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں مسلم لیگ پنجاب کے سنئیر نائب صدر خواجہ سعد رفیق نے حکومت اور بےنظیر ڈیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دراصل بےنظیر کے خون نے اپنا رنگ دکھایا ہے۔ ان کے خون میں ہی دھوکہ بازی رچی ہوئی ہے۔ مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ بےنظیر نے ڈھائی سو ارب روپے کی خاطر اپنی پارٹی اور پارٹی کارکنوں کی قربانیوں کا سودا کیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ اعلان کرتے ہیں کہ عام انتخابات میں بے نظیر کا راستہ روکا جائے گا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اب عوام ان کی جماعت سے یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ مسلم لیگ نون نے پیپلز پارٹی سے اتحاد ہی کیوں کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مخالفت قاتلوں اور ڈاکوؤں سے ہو تو چور سے بھی بات کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دس ستمبر کو نواز شریف کے استقبال میں ان کی مقامی پارٹی قیادت ناکام ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب دس ستمبر کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا اس بار نواز شریف اور ان کے اہلخانہ لاہور آئیں گے اور دنیا ان کا شاندار استقبال ہوتا دیکھے گی۔ ڈاکٹر اسد اشرف نے اپنے خطاب میں وکلاء برادری کو بھی چوکنا رہنے کی تاکید کی اور کہا کہ ان کے لیے بھی حکومت نے کھیر اور حلوے کا انتظام کر رکھا ہے۔ مسلم لیگ لائرز ایکشن کمیٹی کے سربراہ نصیر احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ مشرف جس وردی کو کھال قرار دیتے تھے اسے اب وہ اتارنے والے ہیں اور جیسے ہی انہوں نے وردی اتاری پاکستان کے سولہ کروڑ عوام انہیں ایوان صدر سے بھی نکال پھینکیں گے۔ مسلم لیگی رہنما مجتبی شجاع الرحمان نے کہا کہ وہ ان اراکین پارلیمان پر لعنت بھیجتےہیں جنہوں نے ایک باوردی جرنیل کو ووٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز بارہ اکتوبر کا آخری یوم سیاہ منا رہی ہے اگلی بار میاں نواز شریف یہاں ہوں گے اور پرویز مشرف کو کچھ پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کہاں گئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک بار پھر واپس آ رہےہیں اور اس بار ان کے استقبال میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ایسا کیا تو جو لڑائی ابھی صرف وزیرستان اور بلوچستان میں لڑی جا رہی ہے وہ لاہور اور پنجاب کے گلی کوچوں میں شروع ہو جائے گی۔ملک پرویز نے سیمینار میں موجود کارکنوں سے کہا کہ روزے کی حالت میں وہ ہاتھ کھڑا کر کے یہ عہد کریں کہ جمعہ والےمظاہرے میں بھر پور شرکت کریں۔ |
اسی بارے میں نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان ’نوازشریف اپنی مرضی سےگئے‘ 10 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان نواز شریف، معاہدہ، پاکستانی اخبارات 09 September, 2007 | پاکستان جڑواں شہروں میں گہما گہمی نہیں 09 September, 2007 | پاکستان ’فائدہ نواز شریف کا ہی ہوگا‘09 September, 2007 | پاکستان سندھ میں پنجاب کے ردعمل کا انتظار10 September, 2007 | پاکستان ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||