’بارہ اکتوبر کو فقہ شریفیا نوحہ خواں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا کوئی چیز ایک دفعہ سے زیادہ مر سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر پاکستان میں میں عوامی سیاست کی برسی بار بار اور مختلف تاریخوں میں کیوں منائی جا سکتی ہے؟ پہلے عوامی سیاست کا نوحہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر پڑھا جاتا تھا۔ کوئی کہتا کہ پاکستان میں عوامی سیاست کا قتل چار اپریل انیس سو اناسی کو ہوا جس دن ذوالفقار علی بھٹو کو مارا گیا۔ کسی کے خیال میں عوامی سیاست نے انتیس مئی انیس سو اٹھاسی کو دم توڑا جب بینظیر بھٹو نے جونیجو حکومت کی برخواستگی کی مخالفت نہ کر کے پاکستان میں آٹھویں ترمیم کی آمریت کو دوام بخشا۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں پانچ اکتوبر دو ہزار سات کو قومی مفاہمتی آرڈیننس کی رشوت بسلام قبول کرتے ہوئے ایک ڈوبتے ہوئے آمر کو سہارا دے کر بینظیر بھٹو نے عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔ اس کے بعد بزور بازو اقتدار چھیننے والے آمر اور عوامی امنگوں کی ترجمان بینظیر بھٹو میں محض اتنا فرق رہا کے ایک وردی میں ہے اور دوسرا دوپٹے میں۔ اگر جنرل مشرف چودہ نومبر کو وردی اتار دیتے ہیں تو پھر شاید یہ فرق بھی نہ رہے۔ لہٰذا اگر عوامی سیاست کی برسی منانا ہو تو شاید پانچ اکتوبر ہی اس کے لیے موزوں ترین دن ہو۔ پہلے عوامی سیاست کا نوحہ ہمیشہ بھٹو خاندان سے ہی جوڑا گیا کیونکہ یہی خاندان پاکستان میں عوامی سیاست کا بانی تھا۔ لیکن نوے کی دہائی میں اس مجلس میں لاہور کے شریف خاندان کی بھی جگہ بن گئی۔ یہ پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ تھا کیونکہ اس سے پہلے اگر کسی نے عوامی سیاست سے متعلق کسی بحث میں شریف خاندان کا ذکر کرنے کی کوشش بھی کی تو اسے یا تو سیاسی جاہل سمجھا گیا یا شریفوں کا تنخواہ دار نوکر۔ لیکن انیس سو ترانوے میں اس صورتحال نے پلٹا کھایا جس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ ایک ایسے سال جس میں چار حکومتیں بدلیں محلاتی سازشوں کی بھٹی میں جو سیاسی رہنما کندن ہوا وہ کوئی بھٹو نہیں، شریف تھا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار عوام کو بھٹو خاندان سے باہر ایک عوامی رہنما ملا۔ برطرفی کے بعد لاہور میں تاریخی استقبال پانے والا نواز شریف نہ تو کوئی جاگیردار تھا اور نہ ہی اپنے کسی بزرگ کا سیاسی جانشین۔ لاہور میں اپنے استقبال کے چند روز بعد نواز شریف کے ماڈل ٹاؤن میں واقع گھر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ زیادہ تر ان کی پارٹی کے لوگ تھے جن میں آج کل کے چند نمایاں حکومتی چہرے بھی شامل تھے۔ نواز شریف حکومت کھونے کے باوجود مسکرا رہے تھے بلکہ نہایت مطمئن نظر آتے تھے۔ کسی نے ان کے پر اطمینان چہرے کا ذکر کرتے ہوئے فقرہ کسا کہ لگتا ہے بہت جلد اقتدار میں واپس آنے کا ارادہ ہے۔ نواز شریف نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور کہنے لگے آؤں گا اور اس دفعہ کسی جرنیل کے کندھوں پر بیٹھ کر نہیں آؤں گا۔ پھر وہ اقتدار میں آئے اور آٹھویں ترمیم کا خاتمہ کیا۔ آرمی چیف جہانگیر کرامت نے فوج کو نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ذریعے باقاعدہ اقتدار میں شریک کرنے کی تجویز دی تو ان کی چھٹی کر ڈالی۔ بہت سے معاملوں میں جھک بھی ماری۔ شریعت بل لائے، اپنے بھائی کو پنجاب کا وزیراعلٰی بنایا اور اپنے کاروباری ملازم کو ملک کا وزیر خزانہ بنا ڈالا۔ لیکن ان تمام کاموں کے باوجود وہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد واحد سیاسی رہنما ٹھہرے جنہوں نے عوامی سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرح وہ بھی ایک فوجی بغاوت کا شکار ہوئے۔ ان کے پیروکاروں کے کیلنڈر میں یہ تاریخ بھی شاید عوامی سیاست کی موت کے دن کے طور پر درج ہو۔ پھر نو دسمبر دو ہزار کو عوامی سیاست کا دوبارہ قتل ہوا۔ وہی سیاسی اور عوامی رہنما جس نے کہا تھا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لے گا ، راتوں رات فوجیوں اور غیر ملکی دوستوں کی ڈکٹیشن پر ملک سے بھاگ نکلا۔ اس غیر مختصر مضمون میں بھی اتنی جگہ نہیں کہ ان تمام تاریخوں کا تفصیل سے ذکر کیا جا سکے جو عوامی سیاست کی برسی کے طور پر منائی جا سکتیں ہیں۔ اور آجکل کی سیاست کے اشارے واضع طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کئی اور تاریخیں اس فہرست میں شامل ہو جائینگی۔ بہرحال اس میں حرج نہیں کہ پاکستان میں عوامی سیاست کی ایک نہیں کئی برسیاں منائی جا سکتی ہیں۔ ہماری سیاست کے بھی تو بہتر فرقے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ عوامی سیاست کا وراثتی ہونا ضروری ہے۔ کسی کے مطابق یہ جرنیلوں کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔ کسی کے خیال میں مذہب دراصل اس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کئی عیدوں کی طرح عوامی سیاست کی کئی برسیاں پاکستانی سیاست کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ آج بارہ اکتوبر کو صرف فقہ شریفیا نوحہ خواں ہو گا۔ |
اسی بارے میں اخلاقی برتری اور کاٹھ کا گھوڑا24 September, 2007 | قلم اور کالم ماورائے دستور سیاست کی خرابیاں18 September, 2007 | قلم اور کالم فوجی حکمرانوں کی سیاسی برہنگی18 September, 2007 | قلم اور کالم صدر جنرل پرویز مشرف چھوٹے ہو کر کیا بنیں گے؟02 October, 2007 | پاکستان نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||