اخلاقی برتری اور کاٹھ کا گھوڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اخلاقی برتری بھی کیا چیز ہے۔ گو پاکستانی سیاست میں یہ ہمیشہ نایاب رہی ہے لیکن بالخصوص اگر آجکل ڈھونڈنے نکلیں تو شاید ہیروں کے مول بھی نہ ملے۔ جس کے پاس آج بھی یہ انمول خزانہ ہے وہ خود پرستوں اور خود غرضوں کے جھرمٹ میں بھی بانکا لگتا ہے۔ سوموار کو سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے منہ پر سیاہی ملنے کے واقعے سے کوئی بارہ گھنٹے قبل جیو ٹی وی چینل پر ایک مباحثہ نشر ہوا جسے جیو ٹی وی کے کرتا دھرتاؤں نے دی گریٹ ڈیبیٹ یا عظیم مباحثے کا عنوان دیا۔ اس مباحثے میں ایک طرف تو پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر شیر افگن نیازی سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کے ساتھ مل کر صدر پاکستان کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ انتخاب کے ارادے کا دفاع کر رہے تھے اور دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر منیر ملک اور سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود آئین کا دفاع کر رہے تھے۔ آغاز میں ہی تہتر کے آئین کا ذکر آیا تو شیر افگن نیازی تلملا اٹھے۔ کہنے لگے کہ اب ملک میں 1973 کا آئین نامی کوئی چیز نہیں۔ ان کے مطابق 1973 کے آئین میں بیسیوں ترامیم ہو چکی ہیں اور جنرل ضیا نے تو اس کا وفاقی پارلیمانی ڈھانچہ ہی تبدیل کر دیا تھا۔ شیر افگن نے کہا کہ بہتر ہے کہ یہ حقیقت سب تسلیم کر لیں کہ پاکستان کے موجودہ آئین کا 1973 کے آئین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ صدارتی نظام پر مبنی ایک نیا آئین ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے اس کا ایک سیدھا سادہ جواب دیا کہ منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ آئین میں کوئی آمر خواہ جتنی تبدیلیاں کر لے وہ اس میں سے عوام کی امنگوں کو نہیں نکال سکتا اور جب تک عوام کی امنگیں اور امیدیں آئین پاکستان سے وابستہ ہیں ، یہ آئین 1973 کا آئین ہی کہلائے گا۔ ان کا اتنا کہنا تھا کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ شیر افگن نے کوئی دلیل دینی چاہی لیکن وہ تالیوں کے شور میں دب سی گئی۔
یہی بات شاید فوجی آمروں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک قوم کے لیے آئین دراصل ایک قانونی کتاب نہیں بلکہ اس قوم کی سیاسی امنگوں کا عکاس ہوتا ہے۔ اگر قوم اپنی ریاست کے لیے ایک وفاقی پارلیمانی نظام پر متفق ہے تو آمر سونے کا بنا ہو یا ہیرے کا، اس کی اس نظام میں کوئی جگہ نہیں ہوتی اور جب وہ زبردستی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے حامیوں کا منہ بالکل اسی طرح کالا ہوتا ہے جیسے سرکاری وکیل احمد رضا قصوری کا ہوا۔ جیو ٹی وی کی گریٹ ڈیبیٹ میں صدر مشرف کے حامیوں کی جانب سے دی جانے والی دلیلیں بھی اسی حقیقت کی آئینہ دار تھیں۔ شیر افگن اور احمد رضا قصوری کا سارا زور اس بات پر تھا کہ آئین میں درج اہلیت سے متعلق کچھ شقوں کا تو صدر مشرف پر اطلاق ہوتا ہے لیکن اسی آئین میں درج نا اہلی سے متعلق کوئی شق صدر مشرف پر لاگو نہیں ہوتی۔ شیر افگن نیازی اور احمد رضا قصوری آئین کی مختلف شقوں کو ملا کر پڑھتے، پھر سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے، بھارت کی سیاسی اور آئینی تاریخ سے مثالیں پیش کرتے لیکن ان کی ہر دلیل کے جواب میں منیر ملک اور طارق محمود بڑی سادگی سے صرف اتنا کہہ دیتے کہ آئین کسی سرکاری ملازم کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیتا اور حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہال تالیوں سے گونـج اٹھتا۔ پورے پروگرام میں ہم نے دیکھا کہ اخلاقی برتری نے منیر ملک اور طارق محمود پر یوں سایہ کیے رکھا کہ سرکاری حامیوں کی کوئی دلیل ان کے آہنی ارادوں کو چھو تک نہ سکی۔
اور پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ صدر کے حامیوں نے صبر و اخلاقیات دونوں سے ہاتھ دھوئے۔ منیر ملک سے کہا گیا کہ وکلاء تحریک کے لیے پیسہ باہر سے آ رہا ہے۔ منیر ملک نے انتہائی اطمینان سے جواب دیا کہ تحریک میں انہوں نے اپنا سارا خرچہ خود اٹھایا ہے۔ ہال ایک دفعہ پھر تالیوں سے گونج اٹھا۔ احمد رضا قصوری تو اس بری طرح سے بھنائے کہ انہوں نے تو تو کر کے منیر ملک پر ناقابل نشر کلمات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان کی غصیلی گفتگو سنسر ہو گئی اور ہم سن نہ سکے کہ انہوں نے کیا کہا لیکن ہال میں موجود عوام نے بھی اپنی حیرت پر قابو پانے کے بعد شیم شیم کے نعرے لگائے۔ احمد رضا قصوری نے ان کو بھی سنائیں اور یوں دی گریٹ ڈیبیٹ صدر کے حامیوں کے غل غپاڑے میں تمام ہوئی۔ اخلاقی برتری وہ ہتھیار ہے جو صدر مشرف فوجی سربراہ ہونے کے باوجود بھی کھو چکے ہیں۔ سن دو ہزار دو میں انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی نے اپنے سیاسی تجزیے کی بنیاد پر صدر مشرف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت کو منتخب نمائندوں کے حوالے کر کے خود کو اور فوج کو سیاست سے نکال لیں۔ لیکن وہ نہ مانے۔ اسی ادارے نے سن دو ہزار چار میں صدر مشرف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ متحدہ مجلس عمل سے کیے گئے عہد کے مطابق دسمبر 2004 میں فوجی عہدہ چھوڑ دیں لیکن انہوں نے یہ مشورہ بھی ٹھکرا دیا۔ ان تمام معاملات میں براہ راست ملوث ایک سینئر فوجی افسر کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے دونوں مشوروں کے پیچھے یہی سوچ کار فرما تھی کہ ایک فوجی حکمران ہونے کی وجہ سے صدر مشرف کے پاس اخلاقی برتری کا سرمایہ پہلے ہی محدود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید کمی آ سکتی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ اخلاقی سرمائے کا اکاؤنٹ بند ہونے سے پہلے ہی وہ خود کو اور فوج کو سیاست سے نکال لیں۔ لیکن ایسا نہ کرنے سے ملکی سیاست میں صدر مشرف کی حیثیت ایک جنگجو حکمران سے کم ہوتی ہوئی کاٹھ کے اس گھوڑے جیسی ہو گئی ہے جو دیکھنے میں کتنا بھی بھلا لگے لیکن وہ اپنی مرضی سے نہ تو دیکھ سکتا ہے، سن سکتا ہے اور نہ ہی دوڑ سکتا ہے۔
شاید اسی لیے صدر مشرف کی باگ اب مسلم لیگ قاف کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ اور یہ باگ انہوں نے خود ہی تھمائی ہے شاید اس خیال سے کہ مسلم لیگ قاف کی سیاسی حمایت انہیں وہ مقام دلا سکے جو انہوں نہ پچھلے آٹھ سالوں میں مسلسل کھویا ہے۔ لیکن وہ شاید اب بھی نہیں سمجھے کہ ان کی ضرورت سیاسی حمایت نہیں بلکہ اخلاقی برتری ہے جو موجودہ صورتحال میں انہیں صرف اور صرف مستعفی ہو کر ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||