BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2003, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان آئین میں نیا کیا؟

لویا جرگہ
سوموار افغانستان کی تاریخ کا ایک اور اہم دن ثابت ہوگا

افغانستان میں ملک کو اسلامی جمہوریہ بنانے کی تجویز کے ساتھ نئے آئین کا مسودہ پیش کر دیا گیا ہے جس میں صدارتی نظام کی سفارش کی گئی ہے۔

سوموار افغانستان کی تاریخ کا ایک اور اہم دن ثابت ہوا جب دارالحکومت کابل میں ملک کے نئے آئین کا خاکہ پہلی مرتبہ عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔

ابتدائی مسودوں میں خیال تھا کہ وزیر اعظم کا عہدہ بھی قائم رکھا جائے گا لیکن حتمی تجاویز میں اسے جگہ نہیں دی گئی۔ اس کی بظاہر ایک وجہ یہ ہے جنگ سے تباہ حال ملک میں مختلف دھڑوں کے درمیان رسہ کشی اور تناؤ کی وہ صورتحال نہ پیدا ہو جس کا یہ ملک ایک مرتبہ ماضی میں شکار ہوچکا ہے۔

انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل میں مجاہدین حکومت کے قیام کے وقت کابل میں صدر برہان الدین ربانی اور وزیراعظم گلبدین حکمت یار کے جنگجوں کے درمیان جو خون کی ہولی کھیلی گئی آئین ساز مجلس کے پینتیس ارکان اس سے باخبر تھے۔ البتہ نائب صدر کا ایک عہدہ برقرار رکھنے کی تائید کی گئی ہے۔

ملک کی نئی پارلیمان کے خاکے کے مطابق یہ دو ایوانوں پر مشتمل ہوگا۔ ایوان بالا کو ’مشرانوں جرگہ یا بزرگوں کے ایوان کا نام دیا گیا ہے جبکہ ایوان زیریں یا پاکستان کی طرز کی قومی اسمبلی ’اولسی جرگہ کہلائے گا۔ ملک کے صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کا حق نہیں ہوگا البتہ دوسری جانب پارلیمان صدر کے خلاف مواخذہ کی کاروائی کر سکے گی۔

صدر کو ایوان بالا کے پچاس فیصد ارکان نامزد کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ ان کے پاس پارلیمان کے مشورے سے کابینہ کو برخاست کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔

ملک میں پشتو اور دری کو سرکاری زبانوں کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ ملک کا قومی ترانہ پشتو میں ہی ہوگا۔

بارہ ابواب اور ایک سو ساٹھ شِقوں پر مشتمل اس آئینی مسودہ اس ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا تقاضہ کیا گیا ہے اور واضع کرتا ہے کہ ملک میں اسلامی تعلیمات کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا۔ اس مسودے میں شریعت کا ذکر نہیں اور مبصرین کے خیال میں اسلامی نظام کو حتمی شکل دینے کا کام آئندہ ماہ کابل میں دستور ساز جرگے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں آئین سازوں نے اس موضوع کو جان بوجھ کر قدرے مبہم چھوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حساس موضوع پر فی الحال قدامت پسندوں اور آزاد خیال کے درمیان بحث سے بچنے کی فل الحال کوشش کی گئی ہے۔ مبصرین کی رائے میں یہ آئین موجودہ صورت میں قدامت پسندوں کو قابل قبول نہیں ہوگا۔

ناقدین کا اس آئین پر یہ اعتراض بھی ہے کہ یہ وقتی مسائل پر توجہ تو دے رہے ہیں اور انہیں کو مدنظر رکھ کر آئین سازی کی جا رہی ہے لیکن طویل المدتی مقاصد کو اہمیت نہیں دی جار ہی ہے۔

افغانستان کی تاریخ کا پہلا آئین شاہ امان اللہ نے انیسو تئیس میں جبکہ دوسرا نادر شاہ نے انیسو اکتیس میں متعارف کرایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان آئینوں میں بھی قدامت پسندوں کی رائے کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ بادشاہت کو بنیاد بنا کر پہلا آئین انیسو چونسٹھ میں نافذ کیا گیا تھا۔

آئین میں ایک اور اہم بات اٹھاسی سالہ سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو کوئی کردار نہ سونپا ہے۔ ان کا بابائے ملت کا لقب بھی ان کی موت کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔

نئے مسودے میں عورتوں کو تعلیم اور برابر کے حقوق دینے کی بات کی گئی ہے۔

لویا جرگہ اس آئین کے مسودے پر اگلے ماہ کے وسعت میں بحث کا آغاز کرے گا تاکہ اس کو حتمی شکل دے کر اس آئین کی رو سے آئندہ برس ملک کے عام انتخابات منعقد کروائے جاسکیں۔

تاہم اس جرگے کے دو ماہ کی تاخیر کے بعد نئے مقررہ وقت پر منعقد ہونے کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس جرگے کے لئے مندوبین کے انتخاب کا عمل آجکل جاری ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد