بینظیر بھٹو: لیاری میں جوش و خروش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جان جائے پرواہ نہیں، آئے تو اب صرف بے نظیر آئے‘۔ یہ وہ صدائیں ہیں جو کئی دن سے لیاری کے گلی کوچوں میں گونج رہی ہیں اور لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے مثلاًَ لیاری کے باسیوں میں سے عبدالرحمان کو ہی لیجیے جن کے سر پر بھٹو کا جنوں چڑھا ہوا ہے مگر جتنا وہ خود خوش ہیں اُن کے گھر والے شاید اُن سے اِتنے ہی تنگ ہیں۔ چاچا عبدالرحمان نے اپنے گھر کا سارا سامان تتر بتر کر دیا ہے اُنہیں تلاش ہے اُن چار آڈیو کیسٹوں کی جو انہوں نے ماضی میں محفوظ کی تھیں اِن کیسٹوں میں بی بی سی ریڈیو سے نشر ہونے والی خبریں اور ذوالفقار علی بھٹو کی آواز ہے یہ وہ وقت تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کے بُرے دنوں کی ابتداء ہوئی تھی۔ اُنسٹھ سالہ چاچا نے جب سے ہوش سنبھالا خود کو کمہار واڑہ اور لیاری کے علاقوں میں گھومتے پھرتے پایا ہے۔ ذمہ داریاں آن پڑنے کے بعد نوالین پر پان کی دکان کھول لی جو آج تک قائم ہے اب یہ دکان اُن کا بیٹا سنبھالتا ہے۔ ایم اے جناح روڈ، ضلع وسطی اور شرقی کے بیشتر علاقوں سے لیاری میں داخل ہونے کے لیے عام طور پر نوالین روڈ ہی استعمال کی جاتی ہے جو لیاری کے دیگر اندرونی راستوں کی نسبت زیادہ محفوظ تصور کی جاتی ہے جس کی ایک بڑی وجہ چوراہے پر ریت کی بوریاں لگا کر بنائی جانے والی عارضی پولیس چوکی بھی ہے۔ دو بار ملک کی وزیرِاعظم منتخب ہونے والی بے نظیر بھٹو کے آنے کی خبر سننے کے بعد سےچاچا عبدالرحمان اُن کے استقبال کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔
کسی سیاسی کارکن کی اپنے لیڈر کے استقبال کی تیاریاں تو سمجھ آتی ہیں مگر چاچا تو پیپلزپارٹی کے کارکن بھی نہیں ہیں مگر اُنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی مُحبت میں ایک درجن کوڑے کھائے ہیں۔ چاچا گزرے وقت کو یاد کر کے کہتے ہیں ’بھٹو صاحب کو پھانسی لگی تو ہم نے فوج کے خلاف احتجاج شروع کردیا، فوج نے لیاری میں کرفیو لگادیا مگر ہم بھی ڈٹے رہے، فوجی ٹرکوں پر چھتوں سے گرم پانی اور تیزاب پھینکتے تھے ایک دن قسمت کی خرابی تھی کہ فوج نے پکڑ لیا۔ میرے ساتھ سینٹرل جیل میں کئی لوگ تھے، بعض لوگوں کو لیاری کے ککری گراؤنڈ میں کوڑے لگے مگر مُجھے سینٹرل جیل میں ہی بارہ کوڑے لگائے گئے‘۔ چاچا عبدالرحمان اور اُن کے ہم عمر اور ہم خیال دوست گل محمد رات گئے تک پان کی دکان کے سامنے لکڑی کی بنچ پر بیٹھتے ہیں جب کہ قریب ہی لیاری کے رہنے والوں کا ایک گروپ زمین پر چادر بچھائے تاش یا لیڈو کھیلتا ہے۔ اِن لوگوں کو وہ دن یاد ہے جب ذوالفقار علی بھٹو بھیس بدل کر لیاری کی صورتحال دیکھنے آئے تھے اور لوگوں نے اُنہیں پہچان لیا تھا۔ چاچا کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب نے گبول پارک میں وعدہ کیا تھا کہ لیاری کو پیرس بنائیں گے، اس وعدے کو بے نظیر بھٹو کی حکومتوں میں اُنہیں یاد کرایا گیا مگر لیاری کا پیرس بننا تو دور ہے یہاں تو پینے کا صاف پانی بھی نہیں ہے۔
بقول چاچا عبدالرحمان، لیاری ابتداء سے ہی پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا ہے اور یہاں پارٹی کے ٹکٹ کے ساتھ کسی کھمبے کو کھڑاکردیا جائے تو وہ بھی کامیاب ہوجائےگا مگر چاچا کے اِکیس سالہ بیٹے عبدالخالق کے خیالات ان سے مختلف ہیں۔ سیاست میں اب ان کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بے نظیر کا امریکہ کی طرف زیادہ جھکاؤ ہے جب کہ ذوالفقار علی بھٹو اُمتِ مسلمہ کو مُتحد رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریوں میں پیش پیش پیپلزپارٹی کے سرگرم پینتیس سالہ کارکن ظفر علی بلوچ نے بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں دیکھیں ہیں اور صعوبتیں بھی برداشت کیں، اُن کی مُحبتیں تو پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان سے ہیں مگر پارٹی کی مقامی قیادت سے وہ خائف ہیں۔ چھ فُٹ لمبے اور مضبوط جسامت کے مالک ظفر بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ بائیس سالوں سے بلا ناغہ ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر جا رہے ہیں، اُن کا کہنا تھا مقامی قیادت نے کارکنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور کارکنوں کو بے نظیر تک رسائی نہیں ہونے دیتے جس کی وجہ سے کارکن بددل ہورہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا کوئی جلسہ ہو، احتجاج ہو یا جلوس ہو بلوچ کلچر کی عکاسی کرتی خواتین ضرور نظر آتی ہیں جو بعض اوقات پارٹی کی مُحبت میں مردوں کو بھی مات دیتی ہیں۔ امان سومری کا شمار پیپلز پارٹی کی ایسی ہی کارکنوں میں کیا جاتاہے اُن کی مُحبت کا محور صرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جس کے لیے وہ اپنی اولاد اور گھر کو بھی چھوڑ سکتی ہیں۔
امان سومری جو لیاری نوالین کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں اُن کا کہنا ہے کہ ’جب شوہر نے بھٹو کے جلسے میں جانے سے منع کیا تو میں نے اُسے کہا تم ایسی بات نہ کرو میں تم کو چھوڑ دیتی ہوں‘۔ آخر شوہر کو ہار ماننا پڑی اُن کا کہنا ہے کہ ’بے نظیر، بھٹو کی نشانی ہے اُس کی ایک ہی تو نشانی رہ گئی ہے اب اُس سے محبت ہے‘۔ یہ حقیقت ہے کہ جیالوں کی ایک فوج بےنظیر کی ایک طویل عرصے بعد پاکستان آمد کی مُنتظر ہے مگر دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ لیڈر سے نو سالہ دوری پارٹی کارکنوں کی سوچوں میں تبدیلیوں کا سبب بنی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||