اندرون سندھ استقبال کی تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اندرون سندھ میں پی پی پی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ پی پی کارکنان نے منگل کے روز سندھ کے ضلع سانگھڑ اور قمبر شہدادکوٹ کے نصیرآباد علاقوں میں احتجاج کیا ہے اور شٹر بند ہڑتال کی گئی ہے۔ پیر کے دن پی پی پی کے کارکنان کی سرگرمیوں کے دوران دو الگ الگ واقعات میں ایک پارٹی کارکن ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔ بینظیر بھٹو کے آبائی ضلع لاڑکانہ کی حدود کو توڑ کر بنائے گئے نئے ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل نصیر آباد کے پی پی پی آفس سیکریٹری گلاب کھوسو کوپیر کی شام پارٹی دفتر کے سامنے پانچ مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ نصیرآباد کے تعلقے پولیس افسر مختیار ساریو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گلاب کھوسو کا قتل کھوسو قبیلے کے درمیاں ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔انہیں غیرت کے نام پر فریقین کے درمیان برسوں سے جاری تنازعہ کی بناء پر قتل کیا گیا ہے۔‘ دوسری جانب پی پی نصیرآباد کے صدر محمد حیات شیخ نے کہا کہ انہوں نے گلاب کھوسو کی ہلاکت پر احتجاج کیا ہے اور گلاب کھوسوں کے رشتہ داروں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصیرآباد میں کسی سیاسی جماعت سے ان کا تنازعہ نہیں اور استقبالی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ دوسری جانب ضلع سانگھڑ کے مختلف شہروں ٹنڈو آدم، شہدادپور، سرہاڑی اور دیگر شہروں میں منگل کے روزشٹر بند ہڑتال کی گئی۔ پیر کے دن شہدادپور کے قریب پی پی پی کارکنان کے قافلے پر حملے کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل شہدادپور سے عینی شاہدین کے مطابق بینظیر بھٹو کی آمد کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی طرف سےسابق صوبائی وزیر عبدالسلام تھیم اور سابق رکن قومی اسمبلی فدا حسین ڈیرو کی قیادت میں پیر کے روز ایک استقبالیہ ریلی نکالی گئی۔ شہدادپور شاہپور چاکر روڈ سے نکالی گئی ریلی جب پیر پگاڑا کے حامیوں کے گاؤں معروف ڈاہری سے گزری تو بقول پی پی رہنما سلام تھیم ان کے ’جلوس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ان کے پندرہ کے قریب کارکنان زخمی ہوگئے۔‘ زخمیوں میں سے پارس کو حیدرآباد ہسپتال سے کراچی منتقل کیا گیا ہے جبکہ بقیہ زخمی کارکنان حیدرآباد کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب شہدادپور کے فنکشنل لیگ کے حمایت یافتہ تعلقہ ناظم حسین بحش خاصخیلی کا کہنا ہے کہ پی پی کارکنان نے ہنگامہ کرنے میں پہل کی اور علاقے میں فنکشنل لیگ کے لگے ہوئے بینرز کو زبردستی اتارا گیا تو مقامی لوگوں نے بھی اپنا ردعمل دکھایا۔ یاد رہے کہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پی پی پی کارکنان اور پیر پگاڑا کی فنکشنل لیگ کے حامیوں کے درمیاں تنازعے کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فنکشنل لیگ کے حامیوں کےگاؤں معروف ڈاہری سے سابق صوبائی وزیر عبدالسلام تھیم ا ور فدا حسین ڈیروکے جلوسوں پر فائرنگ کے واقعات گزشتہ انتخابی مہم کے دوران میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ سانگھڑ کے ضلعی پولیس افسر اجمل مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ پی پی کارکنان کی شکایات پر دو مختلف تھانوں میں چھ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ شہدادپور کے تعلقہ پولیس افسر اسلم لانگاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات میں فنکشنل مسلم لیگ سے وابستہ ممبر سندھ اسمبلی ماہی خان وسان اور تعلقہ ناظم حسین بخش خاصخیلی سمیت بارہ افراد کے نام شامل ہیں۔ تعلقہ پولیس افسر کے مطابق پی پی پی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں جو فنکشنل مسلم لیگ سے وابستہ کارکنان نے درج کروائے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ سانگھڑ سے پی پی کارکنان کے قافلے کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کے لیے خیریت سے روانہ ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||