پاکستان، تاریخ کچھ اور مانگ رہی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رویت ہلال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ یہ ہے کہ جمعہ کو چاند دیکھنے کی قابل اعتماد شہادتیں نہیں ملیں اس لئے عید اتوار کو ہوگی۔ لیکن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں حسب روایت کل بھی عید منائی گئی اور آج سنیچر کو بھی منائی جارہی ہے اور کل بھی منائی جائیگی۔اس سے پہلے سوات میں مرکزی رویت ہلال کے فیصلے کے مطابق عید منائی جاتی تھی، اس بار وہاں بھی مقامی علماء کے فیصلے پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ غرض کہ یہ ایک معاملہ ایسا تھا جس میں اختلافات سے بچا جاسکتا تھا لیکن وہ بھی ہمیشہ کی طرح اختلاف وانتشار کا شکار ہے۔ صدر صاحب کے آٹھ سال یہ پیمانہ آفاقی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیشہ سے نافذ العمل ہے یعنی یہ کہ مہنگائی، بیروزگاری اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے یا بد تر، اگر بہتر ہوئی ہے تو انکے نزدیک حکومت یا حکمراں کامیاب ہے اور اگر خراب ہوئی ہے تو ناکام، میں سمجھتا ہوں کہ صدر پرویز مشرف کی حکومت ان تینوں شعبوں میں ناکام رہی ہے۔ صدارتی انتخاب اور مصالحتی آرڈیننس
تازہ ترین یہ ہے کہ صدر مشرف نے محترمہ بینظیر کو پیغام بھجوایا ہے کہ جبتک سپریم کورٹ صدارت کی امیدواری اور مصالحتی آرڈیننس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنا دیتی وہ اپنی پاکستان واپسی مؤخر کر دیں۔اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صدر محترم اپنے مستقبل کے بارے میں بھی یقین سے کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے یا پھر یہ مصالحتی آرڈیننس بقول چودھری شجاعت ’رات گئی بات گئی‘ والی بات ہے جسکا مقصد حزب اختلاف کو منقسم اور پیپلز پارٹی کو غیر مؤثر کرنا تھا۔ چودھری صاحب ممکن ہے صحیح ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ صرف حزب اختلاف ہی اس مسئلے پر تقسیم نہیں ہوئی ہے، خود حکمراں مسلم لیگ بھی شدید قسم کے اختلافات کا شکار نظر آتی ہے۔ چودھری شجاعت جو کچھ کہتے ہیں اس کو شیخ رشید اپنے بیان سے رد کردیتے ہیں، شیخ رشید جو کہتے ہیں چودھری صاحب اس کی نفی کردیتے ہیں، جناب وزیراعظم کبھی انکے ساتھ ہوجاتے ہیں کبھی انکے ساتھ صرف جناب صدر ابتک غیرجانبدار ہیں ممکن ہے اپنے آپ کو منتخب قرار دیے جانے کے منتظر ہوں، اس کے بعد یہ ظاہر کریں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ خاموش تماشائی ہیں، انہیں نہ حکومت پر یقین ہے نہ حزب اختلاف پر، انکی نظر میں سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ فوجی ابتک مغوی ہیں
اب حالت یہ ہے کہ ڈھائی تین سو فوجی جو اگست کے اواخر میں زیرستان میں اغوا ہوئے تھے ابتک اغواء ہیں، نہ انکو طاقت کے ذریعے چھڑایا جاسکا نہ مذاکرات کے ذریعے، انکے ایک حالیے انٹرویو کے مطابق اب انمیں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ادھر صدر صاحب نے انکے اغوا کی ذمہ داری ان پر ہی لاد دی ہے، صدر صاحب کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کے غیرپیشورانہ طرز عمل کے نتیجے میں انکا اغوا ہوا ہے۔ ممکن ہے صدر صاحب کی یہ بات صحیح ہو لیکن ایسے موقع پر انہیں یہ کہنا نہیں چاہیئے تھا۔ اس سے ان فوجیوں کی مایوسی میں اور اضافہ ہوگا، پھر پاکستان میں غیر پیشہ ورانہ حرکتیں تو اب اتنی عام ہوگئی ہیں کہ انہیں غلطی کہنا بھی غلطی لگتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی مصروفیت اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہر محکمہ عوام کو آرام پنچانے کے بجائےحکام بالا کو خوش کرنے کے لئے کام کرتا ہے، یعنی سڑک اس وقت صاف ہوگی جب صدر صاحب اس پر سے گزرنے والے ہونگے، علاقے کی پولیس اس وقت حرکت میں آئیگی جب کوئی وزیر سفیر اس کے علاقے میں آئیگا۔ لیکن اب انکو ٹھیک کرنے کا کام بھی سپریم کورٹ اپنے ذمے لے لے تو پھر اس پر بوجھ بہت بڑھ جائیگا۔ میرا خیال ہے کہ اگر یہ مسائل عدالت ہی کے ذریعے حل کرانے ہیں تو پھر ضلعی اور تحصیل کی سطح کی عدالتوں کو بھی حرکت میں لانا چاہیئے تاکہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا ازخود نوٹس لیں، اس سے سپریم کورٹ پر بوجھ بھی کم ہوگا اور اس نے جو تحریک شروع کی ہے اس کا فائدہ ہر شہری کو پہنچ سکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||