BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاست میں نہ کوئی اصول نہ ضابطہ‘

بینظیر اور نواز شریف
’پاکستانی سیاست میں نہ کوئی اصول ہے نا ضابطہ‘
پاکستانی سیاست کے بارے میں کچھ لکھنا،سوچنا اور کہنا اتنا ہی کٹھن ہے جتنا خدائے بزرگ وبرتر کے وجود کو ثابت کرنا یا اس سے انکار کرنا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار ان سیاستدانوں کے نزدیک ایک کٹی ہوئی پتنگ ہے جسے لوٹنے کے لیے بچوں کی طرح ہر طرف سے دوڑے چلے آ رہے ہیں، نظریں اوپر کی طرف، زمین سے کوئی علاقہ نہیں، گرتے پڑتے اگر پتنگ تک پہنچ بھی گئے توایک ساتھ اس پر اتنے ہاتھ پڑتے ہیں کہ پتنگ کا ستیاناس ہوجاتا ہے اور اس حالت میں بھی وہ جس کے ہاتھ لگتی ہے وہ لے کر ایسے بھاگتا ہے جیسے ثابت پتنگ اس کے حصے میں آگئی ہو۔ نہ کوئی اصول ہے نا ضابطہ ہے۔

صدر محترم جو کچھ دنوں پہلے تک ببانگِ دہل کہا کرتے تھے کہ ملک کولوٹنے والوں کو نہیں بخشیں گے ، اب خود اپنے آپ کو ان سے بخشوانے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ ادھر میاں نواز شریف جو یہ فرمایا کرتے تھے کہ پرویز مشرف کے ساتھ جو گیا اس کو پارٹی میں واپس نہیں لیا جائے گا، اب پرویز مشرف کا ساتھ چھوڑنے والے ہر شخص کو سر پر بٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

صرف محترمہ بینظیر میں استقامت دکھائی دیتی ہے۔ پہلے بھی جب پرویز مشرف اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے عار نہیں محسوس کی تھی، اب بھی ان کی صدارت میں وزیراعظم بننے کی خواہشمند ہیں۔

ادھر جناب الطاف حسین کوئی دس پندرہ سال سے لندن میں بیٹھے ہیں لیکن کراچی میں ہر ’حق پرست‘ کی شہ رگ پر سوار نظر آتے ہیں اور وہاں سے بیٹھے ہوئے ایسے حکم صادر کرتے ہیں جیسے ایک زمانے میں تاج برطانیہ کے کارندے کیا کرتے تھے۔

فوجیوں کا اغواء

قبائلی علاقوں میں فوجیوں کے اغواء کے واقعات میں تیزی آئی ہے
اب تک جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں سے تصادم یا ان کے خلاف فوجی کارروائیوں کی خبریں آتی تھیں، اب کچھ دنوں سے فوجیوں کے اغواء کی خبریں زیادہ آ رہی ہیں،محسوس ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے حکمت عملی بدل دی ہے۔

اغواء کی ان وارداتوں کی اطلاعات بھی بڑے دلچسپ انداز میں ملتی ہیں۔ پہلے خبر غیر مصدقہ ذریعوں سے آتی ہے پھر سرکاری ذریعے اس کی تردید کرتے ہیں ، پھر ذرائع کی جانب سے اس پر اصرار کیا جاتا ہے، پھر سرکاری ذرائع بادلِ ناخواستہ اس کی تصدیق کردیتے ہیں، اس کے بعد علاقے کے بزرگوں کی مدد سے کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پراغواء شدگان کی رہائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اس طریقۂ کار کے تحت منگل کو 18 فوجیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی کہ جمعرات کو ڈیڑھ سو سے زیادہ پھر اغواء کر لیےگئے۔ آخری خبریں آنے تک سرکاری ذریعوں کا کہنا تھا کہ اغواء نہیں ہوئے ہیں، موسم کی خرابی کی بناء پر کہیں پھنس گئے ہیں۔ پھر کہا گیا کہ یہ فوجی قبائیلیوں کے ساتھ کہیں ہیں اسے اغواء نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہے یہ سطور جب آپ کے زیر مطالعہ ہوں اس وقت تک ان کے اغواء کی باقاعدہ تصدیق بھی ہو جائے اور ان کی رہائی بھی عمل میں آجائے۔ میرے خیال میں یہ طریقہ تکلیف دہ تو یقینی ہے لیکن مارکٹائی سے تو بہتر ہے۔

اس عرصے میں صرف ایک ناخوشگوار بلکہ گھناؤنا واقعہ پیش آیا۔اور وہ یہ کہ ایک اغواء شدہ فوجی کی سربریدہ لاش جنوبی وزیرستان میں ملی۔ شدت پسند اس کی جو بھی توجیح کریں میرے نزدیک یہ بڑی ظالمانہ اور نفرت انگیز حرکت تھی۔

وادئ سوات

’فوجیوں نے سوات شہر میں آنا بند کر دیا ہے‘
میں حال ہی میں وادئ سوات سے لوٹا ہوں، دس سال پہلے بھی گیا تھا، لیکن اس بار یوں محسوس ہوا کہ وادی تو اپنے پہاڑوں، دریاؤں، ندی نالوں اور دوسرے قدرتی مناظر کے ساتھ ویسے ہی موجود ہے جیسے دس سال پہلے تھی لیکن اب اس میں خوف کا عنصر بڑھ گیا ہے، بلکہ غالب آگیا ہے۔ بازار جو بہت دیر تک کھلے رہتے تھے شام ہوتے ہی بند ہونے لگتے ہیں۔

ہوٹلوں کے سامنے پہلے غیر ملکی سیاحوں کو لے جانے والے رکشوں اور ٹیکسیوں کا ہجوم ہوتا تھا اب پولیس کی گارد کھڑی ہوتی ہے اور یہ ہوٹل کے مہمانوں کی جامہ تلاشی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔سرکاری افسر پہلے شہر میں نکلتے تھے تو منادی ہوجاتی تھی کہ گردنیں خم کرلو اور خبردار جو نگاہیں روبرو کیں، اب شہر میں نکلتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں اور سرکاری گاڑی میں تو بالکل نہیں نکلتے۔

 صدر صاحب وردی اتارتا نہیں ہے اور سوات میں فوجی وردی پہنتے ہوئے ڈرتے ہیں

پہلےمینگورہ اور سیدو شریف کی سڑکوں پر مقامی خواتین عنقا تھیں اب فوجی سڑک پر نہیں دکھائی دیتے۔ یقین مانیے کہ میرے تین روزہ قیام کے دوران شہر میں ایک فوجی بھی دکھائی نہیں دیا۔ مقامی صحافیوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں مینگورہ کے قریب مٹہ میں فوجی قافلے پر حملے کے بعد جس میں خاصے فوجی مارے گئے تھے، فوجیوں نے شہر میں آنا بند کردیا ہے اور اگر آتے بھی ہیں تو وردی میں نہیں آتے۔ ہمارے رکشہ والے نے جو ان پڑھ ہونے کے باوجود جہاندیدہ لگتا تھا بڑے معنی خیز انداز میں کہا ’صدر صاحب وردی اتارتا نہیں ہے اور سوات میں فوجی وردی پہنتے ہوئے ڈرتے ہیں‘۔

معاملہ فوجیوں ہی تک محدود نہیں ہے، شانگلہ میں پولیس وین پر حالیہ حملے کے بعد پولیس میں بھی بے پناہ خوف وہراس پھیل گیا ہے اگرچہ پولیس والے مجھے سڑکوں اور چوراہوں پر ڈیوٹی کرتے نظر آئے لیکن شام کے بعد ان کی ہمت بھی جواب دیجاتی ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سوات میں نو تھانے ہیں لیکن دس بجے کے بعد وہ عملی طور پر بند ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی چوری، ڈکیتی کی رپورٹ درج کرانے جاتا ہے تو پولیس والے اسے مشورہ دیتے ہیں کہ مولانا (فضل اللہ ) سے رجوع کرو۔

مولانا فضل اللہ
مولانا فضل اللہ اپنے پیش رو مولانا صوفی محمد کے داماد ہیں۔ صوفی صاحب امریکی افواج کے خلاف افغانستان کی طالبان حکومت کی مدد کے لیے 2001 میں ایک لشکر کے ساتھ افغانستان گئے تھے لیکن اللہ کو منظور نہیں تھا، بڑی ٹوٹی پھوٹی حالت میں واپس آئے اور تب سے جیل میں ہیں۔

ان کی غیرحاضری میں علاقے میں شریعت کے نفاذ اور مسلمانوں کے کردار کی درستگی کا بیڑا ان کے داماد مولانا فضل اللہ نے اٹھا لیا ہے۔ میں نے ان کا جو رعب سوات میں دیکھا وہ میں نے اب تک کسی حاکم کا بھی نہیں دیکھا۔

 سوات میں نو تھانے ہیں لیکن دس بجے کے بعد وہ عملی طور پر بند ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی چوری، ڈکیتی کی رپورٹ درج کرانے جاتا ہے تو پولیس والے اسے مشورہ دیتے ہیں کہ مولانا (فضل اللہ ) سے رجوع کرو۔

سوات کے عام لوگ تاجر، ہوٹل والے، سرکاری افسر سب ہی ان سے ناراض نظر آتے ہیں لیکن کسی میں ان کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کی بڑی کوشش کی لیکن وہ اپنی عدیم الفرصتی کی بنا پر وقت نہیں نکال پائے۔

کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی لال مسجد کے خلاف کارروائی کے بعد سے سوات میں سات دھماکے ہوچکے ہیں جن میں بعض خود کش تھے اور ان کا نشانہ فوجی قافلے تھے۔ میرے رہتے ہوئے ایک رات کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے منگورا کے قریب مٹہ کے مقام پر ایک دھماکہ ہوا، سی ڈی کی کئی دوکانیں تباہ ہوگئیں اور ایک حجام کی دوکان بھی تباہ ہوگئی جب میں نے تفصیل پو چھی تو معلوم ہوا سی ڈی کے تاجر سمیت داڑھی کی ’توہین‘ کرنے والے حجام بھی زیر عتاب ہیں۔

پاکستان ڈائری
عدالتوں پر بوجھ، مشرف کی مصالحتی کوششیں
میاں نواز شریف’قبولیت کی شرط‘
مشرف کو چھوڑنے والے قبول ہونگے: نواز شریف
 بینظیر بھٹو’کوئی مقابلہ نہیں‘
نواز شریف اور میرا ایک ہی راستہ ہے: بینظیر بھٹو
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
مشرف’ایمرجنسی نہیں‘
انتخابات وقتِ مقررہ پر ہی ہونگے: جنرل مشرف
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد